🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب في المرأة تحج بغير محرم
باب: عورت کا محرم کے بغیر حج کرنا جائز نہیں ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1727
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُسَافِرُ الْمَرْأَةُ ثَلَاثًا إِلَّا وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر اس حال میں کہ اس کے ساتھ کوئی محرم ہو۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1727]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عورت اپنے محرم کے بغیر تین دن کا (بھی) سفر نہ کرے۔ [سنن ابي داود/كتاب المناسك /حدیث: 1727]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/تقصیر الصلاة 4 (1086)، صحیح مسلم/الحج 74 (1338)، (تحفة الأشراف: 8147) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1087) صحيح مسلم (1338)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥نافع مولى ابن عمر، أبو عبد الله
Newنافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة ثبت مشهور
👤←👥عبيد الله بن عمر العدوي، أبو عثمان
Newعبيد الله بن عمر العدوي ← نافع مولى ابن عمر
ثقة ثبت
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عبيد الله بن عمر العدوي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
1086
لا تسافر المرأة ثلاثة أيام إلا مع ذي محرم
صحيح البخاري
1087
لا تسافر المرأة ثلاثا إلا مع ذي محرم
صحيح مسلم
3260
لا يحل لامرأة تؤمن بالله واليوم الآخر تسافر مسيرة ثلاث ليال إلا ومعها ذو محرم
صحيح مسلم
3258
لا تسافر المرأة ثلاثا إلا ومعها ذو محرم
سنن أبي داود
1727
لا تسافر المرأة ثلاثا إلا ومعها ذو محرم
المعجم الصغير للطبراني
1184
لا تسافر المرأة فوق ثلاث ليال إلا مع زوج أو ذي محرم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 1727 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 1727
1727. اردو حاشیہ: مذکورہ بالا دیگر احادیث میں وقت یا مسافت کی تحدید کا ذکر ایک اتفاقی بیان ہے جو مختلف اوقات میں مختلف سائلین کے بتایا گیا۔ اور ان سب کا مفہوم واضح ہے کہ مسلمان متقی خاتون کو اپنے محرم کی معیت کے بغیر سفر کرنا حرام ہے۔دور حاضر کے احوال و ظروف کیسے بھی ہوں شریعت کا قانون اٹل ہے۔مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے آپ کے اس شریعت کاپابند بنائے نہ کہ حیل وحجت سے شریعت کو بدلنے کی کوشش کرے۔والله المستعان .
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1727]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1086
1086. حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1086]
حدیث حاشیہ:
محرم وہ جن سے عورت کے لیے نکاح حرام ہے اگر ان میں سے کوئی نہ ہو تو عورت کے لیے سفر کرنا جائز نہیں۔
یہاں تین دن کی قید کا مطلب ہے کہ اس مدت پر لفظ کا اطلاق کیا گیا اور ایک دن اوررات کو بھی سفر کہا گیا ہے تقریبا اڑتالیس میل پر اکثر اتفاق ہے کما مر۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1086]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1087
1087. حضرت ابن عمر ؓ ہی سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: کوئی عورت محرم کے بغیر تین دن کا سفر نہ کرے۔ احمد بن محمد مروزی نے عبداللہ بن مبارک سے، انہوں نے عبیداللہ سے، انہوں نے حضرت نافع سے، انہوں نے ابن عمر ؓ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرنے میں عبیداللہ کی متابعت کی ہے۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1087]
حدیث حاشیہ:
جس مسافت میں نماز قصر پڑھنا مباح ہے اس کی مقدار میں بہت اختلاف ہے۔
اہل ظاہر کے نزدیک کسی قسم کی مقدار سفر مقرر نہیں۔
ان کے ہاں ہر قسم کے سفر میں نماز قصر کرنا جائز ہے، خواہ کم ہو یا زیادہ۔
اہل کوفہ کے نزدیک تین دن اور تین رات کی مسافت پر نماز قصر کر کے پڑھنی چاہیے۔
لیکن آئندہ حدیث ابو ہریرہ میں ہے کہ اہل ایمان خاتون کو ایک دن اور ایک رات کا سفر محرم کے بغیر کرنا جائز نہیں۔
سائلین کے اختلاف کی بنا پر احادیث کا اختلاف ہے، مفہوم عدد کا اس میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔
ایک روایت میں ان محرم رشتوں کی تفصیل بھی ہے کہ کوئی عورت اپنے باپ، بھائی، خاوند، بیٹے یا کسی دوسرے محرم کے بغیر تین دن اور تین رات کا سفر نہ کرے، جیسا کہ صحیح مسلم میں ہے۔
(فتح الباري: 733/2، وصحیح مسلم، الحج، حدیث: 3270(1340)
واضح رہے کہ مذکورہ روایت تحدید مسافت کے لیے بیان نہیں ہوئی، بلکہ اس مقصد کے لیے اسے بیان کیا گیا ہے کہ کوئی عورت اتنی مسافت اکیلی طے نہ کرے، نیز اس نہی کا تعلق وقت سے ہے، یعنی اگر کوئی عورت ایک گھنٹے کی مسافت ایک دن میں طے کرتی ہے تو اس سے حکم امتناعی متعلق ہو گا، لیکن اگر مسافر نصف یوم کی مسافت کو دو دن میں طے کرتا ہے تو اسے قصر کرنے کی اجازت نہیں۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایک حکم کو دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1087]

Sunan Abi Dawud Hadith 1727 in Urdu