المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
5. أَخْبَارٌ فِي فَضَائِلِ الْقُرْآنِ جُمْلَةً - فَضِيلَةُ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ
قرآنِ مجید کے فضائل سے متعلق عمومی احادیث — قرآن پڑھنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 2051
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا يحيى بن عثمان بن صالح السَّهْمي، حدثنا عمرو بن الربيع بن طارق، حدثنا يحيى بن أيوب، حدثنا خالد بن أبي يزيد، عن ثَعلَبة بن يزيد، عن عبد الله بن عمرو بن العاص، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"من قرأ القرآنَ فقد استَدرَجَ النبوَّةَ بين جنبَيهِ غيرَ أنه لا يُوحَى إليه، لا ينبغي لصاحبِ القرآن أن يَحِدَّ مع مَن حَدَّ (1) ، ولا يَجهَلَ مع من جَهِل، وفي جوفِه كلامُ الله" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص قرآن پڑھتا ہے وہ نبوت کو اپنے دائیں بائیں قریب کر لیتا ہے تاہم اس کی طرف وحی نہیں آتی (یعنی درجہ نبوت کے قریب ترین پہنچ جاتا ہے) قرآن پڑھنے والے کو یہ مناسب نہیں ہے کہ اس کے سینے میں قرآن ہو اور وہ بحث کرنے والوں کے ساتھ بحث کرنے لگ جائے اور جاہلوں کے ساتھ جاہل بن جائے۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2051]