🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. الْقُرْآنُ مَأْدُبَةُ اللَّهِ يَأْجُرُكُمْ عَلَى تِلَاوَتِهِ كُلَّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ
قرآن کے فضائل — قرآن اللہ کی ضیافت ہے، ہر حرف پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2063
حدثنا أبو الوليد حسان بن محمد القرشي الفقيه، حدثنا مُسدَّد بن قَطَن بن إبراهيم، حدثنا داود بن رُشَيد، حدثنا صالح بن عمر، أخبرنا إبراهيم الهَجَري، عن أبي الأحْوص، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال:"إِنَّ هذا القرآن مَأدُبةُ الله، فاقبَلُوا من مأدُبتِه ما استطعتُم، إنَّ هذا القرآن حَبْلُ الله، والنُّور المُبِين، والشفاء النافع، عصمةٌ لمن تمسّك به، ونَجاةٌ لمن تبعه، لا يَزيغُ فيَستَعتِبَ، ولا يَعْوَجُّ فيُقوَّمَ، ولا تَنقَضي عجائبُه، ولا يَخلَقُ من كَثْرة الرَّدِّ، اتلُوه، فإنَّ الله يأجُرُكم على تلاوته كلَّ حرف عشرَ حسناتٍ، أمَا إني لا أقول: ﴿الم﴾ حرفٌ (1) ، ولكنْ ألفٌ ولامٌ وميمٌ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يحتجا بصالح بن عمر (1) .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقیناً یہ قرآن اللہ کا دسترخوان ہے، پس تم اس کے دسترخوان سے جہاں تک ہو سکے (علم و ہدایت) حاصل کرو۔ بے شک یہ قرآن اللہ کی مضبوط رسی، روشن نور اور نفع بخش شفا ہے؛ یہ اس شخص کے لیے بچاؤ ہے جو اسے تھام لے اور اس کے لیے نجات ہے جو اس کی پیروی کرے۔ یہ (حق سے) دور نہیں ہوتا کہ اسے ملامت کر کے توبہ کی جائے اور نہ ہی یہ ٹیڑھا ہوتا ہے کہ اسے سیدھا کیا جائے، اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے اور یہ کثرتِ تکرار سے پرانا نہیں ہوتا۔ اس کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اللہ تمہیں اس کی تلاوت کے ہر حرف پر دس نیکیاں عطا فرمائے گا، یاد رکھو میں یہ نہیں کہتا کہ ﴿الم﴾ ایک حرف ہے، بلکہ الف ایک حرف ہے، لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے صالح بن عمر سے استدلال نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2063]
تخریج الحدیث: «صحيح موقوفًا، إبراهيم الهجري - وهو ابن مسلم، وإن كان ضعيفًا - قد روى هذا الحديث عنه سفيان بن عيينة موقوفًا، وقد ذكر سفيان أنَّ إبراهيم هذا دفع إليه عامة كتبه فأصلحها له مبينًا له المرفوع من الموقوف من حديث عبد الله بن مسعود، قال الحافظ: هذا يقتضي أنَّ حديث ...» [ترقيم الرساله 2063] [ترقيم الشركة 2047]

الحكم على الحديث: صحيح موقوفًا
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں