المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
16. يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْقُرْآنُ كَالرَّجُلِ الشَّابِّ
قرآن کے فضائل — قیامت کے دن قرآن ایک خوبصورت نوجوان کی صورت میں آئے گا۔
حدیث نمبر: 2066
أخبرنا أبو النَّضْر محمد بن محمد بن يوسف، حدثنا معاذ بن نَجْدة القُرشي، حدثنا خلّاد بن يحيى، حدثنا بَشير بن مهاجِر، عن عبد الله بن بُريدة، عن أبيه، قال: قال رسول الله ﷺ:"يجيءُ يومَ القيامة القرآنُ كالرجلِ الشابِّ، فيقول لصاحبه: أنا الذي أسهرتُ ليلَك، وأظمأتُ نهارَك" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے دن قرآن کریم ایک نوجوان آدمی کی صورت میں آئے گا اور اپنے قاری سے کہے گا: میں ہوں وہ، جس نے تجھے راتوں میں جگائے رکھا اور تجھے دن میں پیاسا رکھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2066]
حدیث نمبر: 2067
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا أبو عُلَاثة محمد بن عمرو بن خالد، حدثنا أبي، حدثنا المعتمر بن سلمان، قال: سمعت أبي يحدِّث عن قَتَادة، عن ابن أبي الجَعْد (1) ، عن أبي أمامة: أنَّ رجلًا جاء إلى النبي ﷺ فقال: يا نبي الله، اشتريتُ مِقسمَ بني فُلان فربحتُ فيه كذا وكذا، قال:"أفلا أنبِّئُك بما هو أكثرُ منه ربحًا؟" قال: وهل يُوجد؟ قال:"رجل تعلَّم عشرَ آياتٍ"، فذهب الرجل فتعلّم عشرَ آيات، فأتى النبيَّ ﷺ فأخبره (2) . إن كان عمرو بن خالد حَفِظَ في إسناده سالمَ بن أبي الجعد، فإنه صحيح على شرط الشيخين، غير أنَّ البصريِّين من أصحاب المعتمِر خالفوه فيه:
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ایک شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے فلاں کے بیٹے مقسم کو خریدا ہے، اس میں مجھے بہت منافع حاصل ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں جو اس سے بھی زیادہ منافع بخش ہے؟ اس نے کہا: کیا ایسی بھی کوئی چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ شخص جو قرآن کی دس آیتیں سیکھ لے (وہ اس سے بھی زیادہ نفع میں ہے)۔ وہ شخص چلا گیا اور اس نے دس آیتیں سیکھیں اور آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا (کہ میں نے دس آیتیں سیکھ لی ہیں)۔ ٭٭ اگر عمرو بن خالد نے اس کی سند میں سالم بن ابی الجعد کو محفوظ کیا ہے تو یہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے البتہ معتمر کے بصری شاگردوں نے اس میں ان کی مخالفت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2067]
حدیث نمبر: 2068
حدَّثَناه علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي وأحمد بن المِقدام، قالا: حدثنا المعتمر، قال: سمعت أبي يحدِّث عن قَتَادة، عن أبي الجعد أو (1) ابن أبي الجعد، عن أبي أُمامة، عن النبي ﷺ، نحوه (2) .
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسی جیسا فرمان منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2068]