المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
22. رَقْيُ اللَّدِيغِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَشِفَاؤُهُ وَأَخْذُ الْعِوَضِ عَلَى الرُّقَى
سورۂ فاتحہ کے ذریعے سانپ کے کاٹے ہوئے کا دم کرنا، شفا پانا اور دم کی اجرت لینا۔
حدیث نمبر: 2077
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ في غَزاةٍ أو سَريّةٍ، فمررنا على أهل أبيات، فاستضفناهم، فلم يضيِّفُونا، فنزلنا بالعَراء، فلُدِغ سيدُهم، فأتَونا فقالوا: هل أحدٌ منكم يَرقي؟ فقلت: أنا رَاقٍ، قال: فارْقِ صاحِبَنا، فقلت: لا، قد استضَفْناكم فلم تُضَيِّفونا، قالوا: فإنا نجعلُ لكم، فجَعَلُوا لنا ثلاثين شاةً، قال: فأتيتُه فجعلتُ أمسَحُه وأقرأ فاتحةَ الكتاب وأُردِّدُها حتى بَرَأ، فأخذنا الشِّياه، فقلنا: أخذناه ونحن لا نُحسِنُ أن نَرقي، ما نحن بالذي نأكُلُها حتى نسألَ رسولَ الله ﷺ، فأتيناه فذكرنا ذلك له، قال: فجعل يقول:"وما يُدريكَ أنها رُقْيةٌ؟" قلت: يا رسول الله، ما دَرَيتُ أنها رُقْيةٌ، ولكن شيءٌ ألقى اللهُ في نفسي، فقال رسول الله ﷺ:"كُلُوا واضرِبُوا لي معكم بسَهمٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه عن يحيى بن يحيى، عن هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن أبي المتوكل، عن أبي سعيد، مختصرًا (2) . وأخرج البخاري أيضًا مختصرًا من حديث هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أخيه مَعْبَد، عن أبي سعيد (3) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه عن يحيى بن يحيى، عن هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن أبي المتوكل، عن أبي سعيد، مختصرًا (2) . وأخرج البخاري أيضًا مختصرًا من حديث هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أخيه مَعْبَد، عن أبي سعيد (3) .
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک جنگی مہم میں بھیجا، ہمارا گزر کچھ گھروں والوں پر ہوا، ہم نے ان سے ضیافت طلب کی لیکن انہوں نے انکار کر دیا، ہم نے کھلے میدان میں پڑاؤ ڈال لیا، اسی دوران ان کے سردار کو (کسی زہریلے جانور نے) ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اور پوچھا: کیا تم میں سے کوئی دم کرنے والا ہے؟ میں نے کہا: ہاں میں دم کرتا ہوں، انہوں نے کہا: ہمارے ساتھی کو دم کر دیں، میں نے کہا: نہیں، ہم نے تم سے ضیافت مانگی تھی اور تم نے انکار کر دیا تھا، اب ہم اجرت کے بغیر دم نہیں کریں گے، چنانچہ انہوں نے ہمارے لیے تیس بکریاں مقرر کر دیں، راوی کہتے ہیں: میں اس کے پاس گیا اور اس پر ہاتھ پھیرنے لگا اور فاتحہ الکتاب پڑھ کر بار بار دہرانے لگا یہاں تک کہ وہ تندرست ہو گیا، ہم نے بکریاں لے لیں لیکن ہم نے آپس میں کہا کہ ہم انہیں اس وقت تک نہیں کھائیں گے جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھ نہ لیں، چنانچہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا واقعہ ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ یہ (سورہ فاتحہ) دم ہے؟“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے پہلے سے معلوم نہیں تھا لیکن یہ ایک بات تھی جو اللہ نے میرے دل میں ڈال دی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم انہیں کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا بھی حصہ نکالو۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2077]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے اس سیاق کے ساتھ روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2077]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،جرير: هو ابن عبد الحميد، والأعمش: هو سليمان بن مهران، وأبو نَضْرة: هو المنذر بن مالك بن قِطْعة.» [ترقيم الرساله 2077] [ترقيم الشركة 2061]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح