🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. رَقْيُ اللَّدِيغِ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَشِفَاؤُهُ وَأَخْذُ الْعِوَضِ عَلَى الرُّقَى
سورۂ فاتحہ کے ذریعے سانپ کے کاٹے ہوئے کا دم کرنا، شفا پانا اور دم کی اجرت لینا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2077
حدثنا أبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحَنْظَلي، أخبرنا جرير، عن الأعمش، عن جعفر بن إياس، عن أبي نَضْرة، عن أبي سعيد قال: بَعَثَنا رسولُ الله ﷺ في غَزاةٍ أو سَريّةٍ، فمررنا على أهل أبيات، فاستضفناهم، فلم يضيِّفُونا، فنزلنا بالعَراء، فلُدِغ سيدُهم، فأتَونا فقالوا: هل أحدٌ منكم يَرقي؟ فقلت: أنا رَاقٍ، قال: فارْقِ صاحِبَنا، فقلت: لا، قد استضَفْناكم فلم تُضَيِّفونا، قالوا: فإنا نجعلُ لكم، فجَعَلُوا لنا ثلاثين شاةً، قال: فأتيتُه فجعلتُ أمسَحُه وأقرأ فاتحةَ الكتاب وأُردِّدُها حتى بَرَأ، فأخذنا الشِّياه، فقلنا: أخذناه ونحن لا نُحسِنُ أن نَرقي، ما نحن بالذي نأكُلُها حتى نسألَ رسولَ الله ﷺ، فأتيناه فذكرنا ذلك له، قال: فجعل يقول:"وما يُدريكَ أنها رُقْيةٌ؟" قلت: يا رسول الله، ما دَرَيتُ أنها رُقْيةٌ، ولكن شيءٌ ألقى اللهُ في نفسي، فقال رسول الله ﷺ:"كُلُوا واضرِبُوا لي معكم بسَهمٍ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة، إنما أخرجه عن يحيى بن يحيى، عن هُشَيم، عن أبي بِشْر، عن أبي المتوكل، عن أبي سعيد، مختصرًا (2) . وأخرج البخاري أيضًا مختصرًا من حديث هشام بن حسان، عن محمد بن سيرين، عن أخيه مَعْبَد، عن أبي سعيد (3) .
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک غزوہ یا سریہ میں بھیجا۔ ہمارا گزر ایک بستی سے ہوا۔ ہم نے ان سے مہمان نوازی طلب کی۔ انہوں نے ہماری مہمان نوازی نہ کی۔ تو ہم نے دوسری بستی میں پڑاؤ ڈال لیا۔ (اسی اثنا میں) ان کے سردار کو کسی چیز نے ڈس لیا۔ تو وہ لوگ ہمارے پاس آ کر کہنے لگے: تم میں سے کوئی شخص دم کر لیتا ہے؟ (ابوسعید) فرماتے ہیں: میں نے کہا: جی ہاں، میں دم کر لیتا ہوں۔ انہوں نے کہا: تو ہمارے اس ساتھی کو دم کر دو۔ میں نے انکار کرتے ہوئے کہا: ہم نے تم سے ضیافت طلب کی تھی مگر تم نے ہماری ضیافت نہ کی۔ انہوں نے کہا: ہم آپ کی خدمت کر دیں گے، چنانچہ انہوں نے تیس بکریوں کا وعدہ کر لیا۔ میں نے اس کے پاس آ کر سورۃ فاتحہ پڑھ پڑھ اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔ میں یہ عمل دہراتا رہا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دے دی۔ تو ہم نے ان سے تیس بکریاں وصول کر لیں۔ لیکن ہم نے سوچ لیا کہ ہمیں اچھے طریقے سے دم تو کرنا آتا نہیں ہے، اس لیے جب تک ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسئلہ نہیں پوچھ لیتے اس وقت تک ہم ان کو نہیں کھائیں گے۔ پھر جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس معاملہ کا ذکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تجھے کیسے پتہ تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے کچھ معلوم نہیں تھا کہ یہ دم ہے لیکن بس اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ بات القاء کر دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھاؤ اور اپنے ساتھ میرا حصہ بھی رکھنا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یحیی بن یحیی کے واسطے سے ہیثم سے، انہوں نے متوکل سے اور انہوں نے ابوسعید سے مختصراً روایت کی ہے۔ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو مختصراً روایت کیا ہے۔ جس کی سند ہشام بن حسان پھر محمد بن سیرین پھر ان کے بھائی معبد سے ہوتی ہوئی ابوسعید تک پہنچتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2077]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں