المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. شِفَاءُ الْمَجْنُونِ بِقِرَاءَةِ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ عَلَيْهِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ
تین دن سورۂ فاتحہ پڑھ کر مجنون کا شفا پانا۔
حدیث نمبر: 2078
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، أخبرنا إبراهيم بن عبد الله السَّعدي، أخبرنا يزيد بن هارون، أخبرنا زكريا بن أبي زائدة. وحدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا بشر بن موسى الأسدي، حدثنا أبو نُعيم، حدثنا زكريا بن أبي زائدة، عن الشعبي، عن خارجة بن الصَّلْت التميمي، عن عمه: أنه مرَّ بقوم وعندهم مجنون مُوثَقٌ في الحديد، فقال له بعضهم: أعندك شيء يُداوَى به هذا؟ فإنَّ صاحبكم قد جاء بخير، قال: فقرأت عليه فاتحة الكتاب ثلاثةَ أيام في كلِّ يوم مرتين، فبَرأ، فأعطاه مئةَ شاةٍ، فأتى النبيَّ ﷺ، فذكر ذلك له، فقال:"كُلْ، فمَن أكل برُقْيةِ باطلٍ، فقد أكلتَ برُقْيَةِ حَقٍّ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا خارجہ بن صلت تمیمی رضی اللہ عنہ اپنے چچا کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ان کا گزر ایک ایسے قبیلے کے پاس سے ہوا جن میں ایک پاگل شخص تھا، جس کو لوہے کی زنجیروں کے ساتھ باندھ رکھا تھا۔ ان میں سے ایک شخص نے ان سے کہا: تمہارے پاس اس کو دواء دینے کے لیے کوئی چیز ہے؟ کیونکہ تمہارا ساتھی تو خیر لے کر آیا ہے (خارجہ کے چچا) فرماتے ہیں: میں نے تین دن اس پر سورۂ فاتحہ پڑھی (اس طرح کہ) روزانہ 2 مرتبہ سورۃ پڑھتا تو وہ شخص شفایاب ہو گیا، تو انہوں نے ایک سو بکریاں دیں تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سارا معاملہ آپ کو کہہ سنایا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کو کھاؤ کیونکہ جس نے دم کے عوض کھایا اس نے حق (حلال) کھایا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2078]
حدیث نمبر: 2079
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا علي بن عبد الحميد المعنيّ، حدثنا سليمان بن المغيرة عن ثابت، عن أنس بن مالك، قال: كان النبي ﷺ في مَسيرٍ فنزل ونزل رجلٌ إلى جانبه، قال: فالتفتَ النبيُّ ﷺ فقال:"ألا أُخبِرُك بأفضلِ القرآنِ؟"، قال: فتلا عليه: ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [أخبار في فضل سورة البقرة]
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. [أخبار في فضل سورة البقرة]
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوران سفر ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک جانب بیٹھ گیا۔ (سیدنا انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی جانب متوجہ ہو کر فرمایا: کیا میں تمہیں قرآن کے سب سے افضل مقام کی خبر نہ دوں؟ (انس رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: پھر آپ علیہ السلام نے اس کو سورۃ فاتحہ پڑھ کر سنائی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2079]