🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

30. قِصَّةُ أَخْذِ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ الشَّيْطَانَ
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا شیطان کو پکڑنے کا واقعہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2093
أخبرنا أبو العباس قاسم بن القاسم السيّاري، حدثنا إبراهيم بن هلال البُوزَنْجِرْدِي، حدثنا علي بن الحسن بن شَقيق، حدثنا عبد المؤمن بن خالد الحنفي، حدثنا عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن أبي الأسود الدِّيْلي، قال: قلت لمعاذ بن جبل: حَدِّثني عن قصة الشيطان حين أخذتَه، فقال: جعلني رسولُ الله ﷺ على صدقة المسلمين، فجعلتُ التمرَ في غرفةٍ، فوجدت فيه نُقصانًا، فأخبرتُ رسولَ الله ﷺ، فقال:"هذا الشيطانُ يأخذُه" قال: فدخلتُ الغرفةَ فأغلقتُ الباب عليَّ، فجاءت ظُلْمةٌ عظيمةٌ فَغَشِيَت الباب، ثم تَصَوَّر في صورةِ فيلٍ، ثم تَصوَّر في صورة أخرى، فدخل من شَقِّ الباب، فشَدَدْتُ إزاري عليَّ، فجعل يأكل من التمر، قال: فوثَبْتُ إليه فضبَطْتُه فالتقتْ يداي عليه، فقلت: يا عدوَّ الله، فقال: خَلِّ عني، إني كبير ذو عِيال كثيرٍ، وأنا فقيرٌ، وأنا من جِنِّ نَصِيبين، وكانت لنا هذه القرية قبل أن يُبعَث صاحبُكم، فلما بُعث أُخرجنا عنها، فخَلِّ عني فلن أعود إليك، فخلَّيتُ عنه، وجاء جبريلُ ﵇ فأخبر رسولَ الله ﷺ بما كان، فصلَّى رسول الله ﷺ الصبحَ، فنادى مُنادِيه: أين معاذُ بنُ جبل؟ فقمتُ إليه، فقال رسول الله ﷺ:"ما فَعَلَ أَسيرُك يا معاذُ؟" فأخبرته، فقال:"أمَا إنه سيعودُ فعُدْ" قال: فدخلتُ الغرفة وأغلقتُ عليَّ الباب، فدخل من شَقِّ الباب، فجعل يأكل من التمر، فصنعتُ به كما صنعتُ في المرة الأولى، فقال: خَلِّ عني فإني لن أعود إليك، فقلت: يا عدوَّ الله، ألم تقل: لا أعودُ؟ قال: فإني لن أعود، وآيةُ ذلك أن لا يقرأَ أحدٌ منكم خاتمةَ البقرة، فيدخلَ أحدٌ منا في بيته تلك الليلةَ (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وعبد المؤمن بن خالد الحنفي مروزي ثقة يُجمَع حديثه، وروى عنه زيد بن الحُبَاب هذا الحديث بعَينه:
ابوالاسود الدیلی فرماتے ہیں: میں نے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ مجھے شیطان کا وہ قصہ سنائیں جب آپ نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ انہوں نے بتایا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کے (جمع کیے ہوئے) صدقات کی نگرانی پر مقرر کیا۔ میں نے تمام پھل ایک کوٹھڑی میں رکھ دیئے۔ میں نے محسوس کیا کہ وہ پھل کم ہو گئے ہیں، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہاں سے شیطان لے گیا ہے۔ (معاذ) فرماتے ہیں: میں نے خود کوٹھڑی کے اندر داخل ہو کر اندر سے دروازہ بند کر لیا۔ پھر ایک اندھیرا سا چھا گیا جس نے دروازے کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا پھر مجھے ایک مرتبہ کسی ہاتھی کی صورت محسوس ہوئی، دوبارہ کسی دوسری صورت میں محسوس ہوا پھر وہ دروازے کی پھٹن میں سے داخل ہوا، میں نے اپنی چادر اپنے اوپر کھینچ لی تو وہ آ کر کھجوریں کھانے لگ گیا۔ میں نے اچھل کر اس کو دبوچ لیا۔ میں نے اس کو کہا: اے اللہ! کے دشمن! (یہ کیا کر رہے ہو؟) اس نے جواباً کہا: مجھے چھوڑ دو کیونکہ میں بوڑھا آدمی ہوں، کثیر عیالدار شخص ہوں اور فقیر ہوں اور میں نصیبین کے جنات میں سے ہوں۔ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے یہ علاقہ ہمارا مسکن ہوا کرتا تھا۔ جب ان کی بعثت ہوئی تو ہمیں یہاں سے نکال دیا گیا۔ آپ مجھے چھوڑ دیں، میں دوبارہ ادھر نہیں آؤں گا۔ میں نے اس کو چھوڑ دیا۔ اِدھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سیدنا جبریل امین علیہ السلام حاضر ہوئے اور پورا واقعہ بتا دیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھا لی تو آواز دے کر پوچھا: معاذ بن جبل کہاں ہے؟ میں اُٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ گیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے معاذ! تیرے قیدی کا کیا بنا؟ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات والا قصہ سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ دوبارہ پھر آئے گا۔ (پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ) لوٹ آئے۔ (معاذ) فرماتے ہیں: میں نے پھر کوٹھڑی میں داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا۔ وہ پھر دروازے کی پھٹن میں سے داخل ہوا اور کھجوریں کھانے لگ گیا، میں نے اس کے ساتھ وہی والا معاملہ کیا جو پچھلی رات کیا تھا۔ اس نے کہا: مجھے چھوڑ دیں میں دوبارہ یہاں نہیں آؤں گا۔ میں نے کہا: اے اللہ کے دشمن: تو نے گزشتہ رات بھی یہی بات کی تھی کہ میں لوٹ کر نہیں آؤں گا؟ اس نے کہا: (اب میں پکا وعدہ کرتا ہوں کہ) ہرگز لوٹ کر نہیں آؤں گا۔ اور اس کی نشانی یہ ہے کہ جو شخص سورۂ بقرہ کی آخری آیات پڑھے تو اُس رات ہم میں سے کوئی بھی اُس گھر میں داخل نہیں ہو سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ اور عبدالمومن بن خالد المروزی حنفی ثقہ ہیں، ان کی احادیث جمع کی جاتی ہیں اور بعینہ یہی حدیث زید بن الحباب نے ان سے روایت کی ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2093]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2094
أخبرَناه أبو بكر محمد بن عبد الله الورّاق، أخبرنا إبراهيم بن إسحاق الأنماطي، حدثنا أبو عثمان سعيد بن عثمان الجُرجاني ببغداد، حدثنا زيد بن الحُبَاب العُكْلي، حدثنا عبد المؤمن بن خالد الحَنَفي الخُراساني من أهل مَرْو، حدثنا عبد الله بن بُريدة، عن أبي الأسود، قال: قلتُ لمعاذ بن جبل: أخبِرني عن قصة الشيطان؛ ثم ذكر الحديث (1) .
مذکورہ سند کے ہمراہ بھی گزشتہ حدیث منقول ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2094]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں