المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
38. وُجُوبُ الْجَنَّةِ بِقِرَاءَةِ الْإِخْلَاصِ
سورۂ اخلاص پڑھنے سے جنت واجب ہوتی ہے۔
حدیث نمبر: 2105
أخبرنا أبو بكر بن أبي نصر المروَزي، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، عن مالك، عن عبيد الله بن عبد الرحمن، عن عبيد بن حُنين مولى آل زيد بن الخطاب، أنه سمع أبا هريرة يقول: أقبلتُ مع رسول الله ﷺ، فسمع رجلًا يقرأ ﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ (1) اللَّهُ الصَّمَدُ (2) لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ (3) وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ﴾، فقال رسول الله ﷺ:"وَجَبَتْ"، فسألتُه: ماذا يا رسول الله؟ قال:"الجنةُ". قال أبو هريرة: فأردتُ أن أذهبَ إلى الرجل فأُبشِّرَه، ثم فَرِقْتُ أن يَفُوتَني الغَداءُ (1) مع رسول الله ﷺ، فآثرتُ الغداءَ، ثم ذهبتُ إلى الرجل فوجدتُه قد ذهب (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سورۂ اخلاص پڑھتے سنا تو فرمایا: واجب ہو گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا واجب ہو گئی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے سوچا کہ اس کے پاس جاؤں اور اس کو خوشخبری سناؤں، پھر مجھے یہ فکر لاحق ہوئی کہ (اگر میں اس کی طرف چلا گیا تو) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ناشتہ سے محروم ہو جاؤں گا۔ اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ناشتہ کو ترجیح دی۔ پھر (ناشتہ سے فارغ ہو کر) میں اس آدمی کی طرف گیا۔ لیکن اس وقت وہ وہاں سے جا چکا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2105]