المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
39. إِنَّ أَصْفَرَ الْبُيُوتِ بَيْتٌ لَيْسَ فِيهِ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ شَيْءٌ
سب سے ویران گھر وہ ہے جس میں کتابِ اللہ کا کچھ حصہ نہ ہو۔
حدیث نمبر: 2106
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا حامد بن محمود ابن حرب، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله الدَّشْتَكي، حدثنا عمرو بن أبي قيس، عن عاصم بن أبي النَّجُود، عن أبي الأحوص، عن عبد الله، قال: إِنَّ أصفَرَ البيوت بيتٌ ليس فيه من كتاب الله شيء، فاقرؤوا القرآنَ، فإنكم تُجزَون عليه بكلِّ حَرفٍ فيه عشرَ حسناتٍ، أمَا إني لا أقولُ: ﴿الم﴾، ولكني أقولُ: ألفٌ، ولامٌ، وميمٌ (1) ................................. قد رفعه غيرُه عن الدَّشْتَكي:
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سب سے خالی گھر وہ ہے جس میں قرآن کی تلاوت نہ کی جائے، اس لیے قرآن کریم کی تلاوت کیا کرو کیونکہ اس کے ہر حرف کے بدلے تمہیں دس نیکیوں کا ثواب ملے گا۔ میں یہ نہیں کہتا کہ الٓم (ایک حرف ہے) بلکہ میں کہتا ہوں الف، لام، میم، (تین حروف ہیں)۔ ٭٭ اس حدیث کو حامد بن محمود کے علاوہ محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے الدشتکی سے مرفوعاً روایت کیا ہے، [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2106]