🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. مَنْ قَرَأَ الْقُرْآنَ وَتَعَلَّمَهُ وَعَمِلَ بِهِ أُلْبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَاجًا مِنْ نُورٍ ضَوْءُهُ مِثْلُ ضَوْءِ الشَّمْسِ، وَيُكْسَى وَالِدَاهُ حُلَّتَيْنِ لَا يُقَوَّمُ بِهِمَا الدُّنْيَا
جو قرآن پڑھے، سیکھے اور اس پر عمل کرے اسے قیامت کے دن نور کا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج جیسی ہوگی۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2113
أخبرنا بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكّي بن إبراهيم، حدثنا بَشير بن مُهاجِر، عن عبد الله بن بُريدة الأسلمي، عن أبيه قال: قال رسول الله ﷺ:"من قرأ القرآنَ وتَعلَّمَه وعَمِل به، أُلبس يومَ القيامة تاجًا من نور، ضَوْؤُه مثل ضَوْء الشمس، ويُكسَى والدَيه حُلَّتان (1) ، لا يقومُ لهما الدنيا، فيقولان: بما كُسينا هذا؟ فيقال: بأخْذِ ولدِكُما القرآنَ" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا عبداللہ بن بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے قرآن پڑھا اور اس کو سیکھا اور اس پر عمل کیا، اس کو قیامت کے دن ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی کی طرح ہو گی اور اس کے والدین کو ایسا لباس پہنایا جائے گا جس کی قیمت پوری دنیا بھی نہیں ہو سکتی، وہ پوچھیں گے: ہمیں یہ لباس کیوں پہنایا گیا؟ ان کو جواب دیا جائے گا: اس لیے کہ تمہارا بچہ قرآن کریم کا حافظ، عالم اور عامل تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2113]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2114
وأخبرنا بكر بن محمد، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مَكّي بن إبراهيم، حدثنا عُبيد الله بن أبي حُميد، عن أبي المَليح، عن مَعقِل بن يَسار قال: قال رسول الله ﷺ:"اعمَلُوا بالقرآن، أحِلُّوا حَلالَه وحَرِّموا حرامَه واقتَدُوا به، ولا تَكفُروا بشيءٍ منه، وما تَشابَه عليكم منه فرُدُّوه إلى الله وإلى أُولي الأمر مِن بعدي كيما يُخبِروكم، وآمِنُوا بالتوراة والإنجيل والزَّبور وما أُوتي النبيون من ربهم، وليسَعْكُمُ القرآنُ وما فيه من البيان، فإنه شافعٌ مُشفَّعٌ، وماحِلٌ مُصَدَّقٌ، ألا ولكل آيةٍ نورٌ يومَ القيامة (1) ، وإني أُعطيتُ سورة البقرة من الذكر الأول، وأُعطيت طه وطَوَاسينَ والحواميمَ من ألواح موسى، وأُعطيتُ فاتحةَ الكتاب من تحت العَرْش" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قرآن پر عمل کرو، اس کے حلال کو حلال جانو، اور اس کے حرام کردہ کو حرام جانو، اس کی اقتداء کرو، اس میں سے کسی بھی چیز کا انکار مت کرو اور جو چیز اس میں سے تم پر متشابہ ہو جائے اس کو اللہ اور میرے بعد اولوالامر کی طرف لوٹا دو تاکہ وہ تمہیں اس کے بارے میں کوئی خبر دیں۔ اور توراۃ، زبور، انجیل اور ان تمام کتب و صحائف پر ایمان رکھو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے انبیاء کرام کو دیئے گئے۔ اور قیامت کے دن ہر آیت کا نور ہو گا اور مجھے گذشتہ لوگوں کے ذکر کے طور پر سورۃ بقرہ دی گئی۔ اور مجھے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی تختیوں میں طٰہٰ، طٰس اور حٰم دیئے گئے۔ اور عرش کے تحت سے سورۂ فاتحہ دی گئی ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2114]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں