🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

45. فَضِيلَةُ الْحَالِّ الْمُرْتَحِلِ وَبَيَانُهُ
ہمیشہ قرآن میں مشغول رہنے والے (حال و مرتحل) کی فضیلت اور اس کی وضاحت۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2115
أخبرنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقّاق ببغداد، حدثنا أحمد بن حيّان بن مُلاعِب، حدثنا عمرو بن عاصم الكِلابي، حدثنا صالح المُرِّي، حدثنا قَتَادة، عن زُرارة بن أَوفى، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أيُّ الأعمال أفضلُ؟ قال:"الحالُ المُرتحِلُ" قال: يا رسول الله، وما الحالُّ المرتحِلُ؟ قال:"الذي يَضرِبُ مِن أولِ القرآنِ إلى آخرِه، ومِن آخرِه إلى أولِه" (3) .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ایک شخص نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حال اور مرتحل (سفر سے آ کر دوبارہ سفر پر جانا) صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: حال اور مرتحل کا کیا مطلب ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کے اوّل سے آخر کی طرف سفر کیا جائے اور آخر سے اوّل کی طرف۔ (یعنی قرآن ختم ہوتے ہی دوبارہ شروع کر لیا جائے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2115]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2116
وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا عمرو بن مرزوق، حدثنا صالح المُرِّي. وأخبرني أبو بكر بن قريش، أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو كُريب، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا صالح المُرِّي، عن قَتَادة عن زُرارة بن أوفى العامِري، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، أيُّ الأعمال أفضلُ؟ قال:"الحالُّ المُرتحِلُ" قال: يا رسول الله، وما الحالُّ المُرتحِل؟ قال:"صاحبُ القرآن يَضرِبُ من أوّلِه حتى يبلغَ آخرَه، ومن آخرِه حتى يبلغَ أوّلَه، كلما حَلَّ ارتحَلَ" (1) . تفرَّد به صالحٌ المرِّي، وهو من زُهّاد أهل البصرة، إلَّا أنَّ الشيخين لم يخرجاه. وله شاهد من حديث أبي هريرة:
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حال اور مرتحل۔ اُس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حال اور مرتحل کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کا قاری اول سے آخر کی طرف سفر کرتے کرتے آخر تک پہنچ جاتا ہے پھر وہاں سے سفر کرتے ہوئے اول تک پہنچ جاتا ہے۔ جیسے ہی سفر ختم کرے، فوراً دوبارہ سفر شروع کر لے۔ ٭٭ یہ حدیث روایت کرنے میں صالح المری متفرد ہیں اور اہلِ بصرہ کے عبادت گزار لوگوں میں سے ہیں۔ مگر شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کی رویات نقل نہیں کی ہیں۔ اور ایک حدیث اس کی شاہد ہے جو کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (وہ شاہد حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2116]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2117
حدثنا أبو علي الحسينُ بن علي الحافظ، أخبرنا محمد بن سعيد بن بكر (2) ، حدثنا المِقدام بن داود بن تَلِيد الرُّعَيني، حدثنا خالد بن نِزار، حدثني الليث بن سعد، حدثني مالك بن أنس، عن ابن شهاب، عن الأعرج، عن أبي هريرة قال: قام رجلٌ إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول الله، أيُّ العمل أفضلُ - أو أيُّ العمل أحب إلى الله -؟ قال:"الحالُّ المُرتحِلُ، الذي يفتحُ القرآنَ ويَختِمُه، صاحبُ القرآن يَضرِبُ من أولِه إلى آخرِه، ومن آخرِه إلى أولِه، كلَّما حَلَّ ارتحَلَ" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: ایک شخص نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کون سا عمل سب سے افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: حال اور مرتحل۔ اُس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! حال اور مرتحل کیا ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرآن کا قاری قرآن کریم شروع کرے اور اس کے آخر تک پہنچے۔ قرآن پڑھنے والا اول سے آخر کی طرف سفر کرتے کرتے آخر تک پہنچ جاتا ہے پھر وہاں سے سفر کرتے ہوئے اول تک پہنچ جاتا ہے۔ جیسے ہی سفر ختم کرے، فوراً دوبارہ سفر پر نکل جائے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2117]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2118
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: حدثنا بِشْر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، حدثنا عمرو بن دينار، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عُبيد الله بن أبي نَهيكٍ، عن سعد قال: أتيتُه فسألَني مَن أنتَ؟ فأخبرتُه عن نَسَبي، فقال سعد: تجّارٌ كَسَبَةٌ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس مِنا من لم يَتَغنَّ بالقرآن" (2) . قال سفيان: يعني: يَستغني به (1) . وعند سفيان بن عُيينة فيه إسنادٌ آخرُ:
عبداللہ ابن ابی نہیک فرماتے ہیں: میں سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، انہوں نے مجھ سے میرا تعارف پوچھا، میں نے ان کو اپنا تعارف کروایا، (وہ مجھے پہچان گئے اور کہنے لگے) تم تو کمائی کرنے والے تاجر ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے وہ شخص ہم میں سے نہیں جو قرآن کو اچھی آواز کے ساتھ نہیں پڑھتا سیدنا سفیان فرماتے ہیں: اس کا مطلب ہے (جو قرآن کو اچھی آواز کے ساتھ پڑھنے کی کوشش نہیں کرتا) ٭٭ اسی حدیث کی سفیان بن عیینہ کی ایک اور بھی سند ہے۔ (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2118]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2119
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، أخبرنا الشافعي، حدثنا سفيان بن عيينة. وحدثني علي بن عيسى، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا ابن أبي عُمر، حدثنا سفيان، عن ابن جُرَيج، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عُبَيد الله بن أبي نَهيكٍ، قال: قال له سعد: تجّارٌ كَسَبَةٌ، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس مِنّا من لم يَتغَنَّ بالقرآن" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا الإسناد. ورواه سعيد بن حسان المخزُومي، عن عبد الله بن أبي مُلَيكة، عن عُبَيد الله بن أبي نَهيكٍ:
سیدنا سفیان بن عیینہ رضی اللہ عنہ اپنی اس سند کے ہمراہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن ابی نہیک سے سیدنا سعد نے کہا: تم کمائی کرنے والے تاجر ہو، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو قرآن کو اچھی آواز کے ساتھ نہیں پڑھتا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس سند کے ہمراہ نقل نہیں کیا ہے۔ اور سعید بن حسان المخزومی نے عبداللہ ابن ابی ملکیہ کے واسطے سے عبداللہ بن ابی نہیک کے حوالے سے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے۔ اور عمرو بن دینار، ابن جریج اور سعید بن حسان کی ابن ابی ملیکہ کے واسطے سے عبداللہ ابن ابی نہیک سے روایات متفق ہیں، جبکہ لیث بن سعد نے ان کی مخالفت کرتے ہوئے یوں سند بیان کی: عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ اَبِیْ مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ نَھِیْکٍ۔ (لیث کی روایت درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2119]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2120
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى؛ قالا: أخبرنا وكيعٌ، حدثنا سعيد بن حسان المخزومي، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عُبيد الله بن أبي نَهيكٍ، عن سعد، قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس مِنّا مَن لم يَتغَنَّ بالقرآنِ" (1) . قد اتفقت روايةُ عمرو بن دينار، وابن جُرَيج، وسعيد بن حسان: عن ابن أبي مُلَيكة، عن عبيد الله بن أبي نَهيكٍ. وقد خالفَهُما الليثُ بن سعد، فقال: عن عَبد الله بن أبي مُلَيكة عن عَبْد الله (2) بن أبي نَهيكٍ:
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے (ترنم کے ساتھ) نہ پڑھے۔ عمرو بن دینار، ابن جریج اور سعید بن حسان کی روایات اس بات پر متفق ہیں کہ انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے عبید اللہ بن ابی نہیک سے (روایت کیا ہے)۔ البتہ لیث بن سعد نے ان کی مخالفت کی ہے، انہوں نے (سند میں) عبداللہ بن ابی ملیکہ سے، انہوں نے عبداللہ بن ابی نہیک کا نام ذکر کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2120]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2121
أخبرَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْلُ، حدثنا عُبيد بن شَريك، حدثنا يحيى بن بُكير. وأخبرنا أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا قيس بن أُنَيف، حدثنا قتيبة بن سعيد؛ قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عَبْد الله بن أبي نَهيكٍ، عن سعد بن مالك قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس مِنّا مَن لم يَتغَنَّ بالقرآنِ" (1) . ليس يَدفَعُ روايةَ الليث تلك الرواياتُ عن عُبيد الله بن أبي نَهيكٍ، فإنهما أخَوانِ تابعيّان (2) ، والدليل على صحة الروايتين روايةُ عمرو بن الحارث، وهو أحد الحفّاظ الأثبات عن ابن أبي مُلَيكة:
سیدنا لیث بن سعد، ابن ابی ملکیہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عبداللہ ابن ابی نہیک نے سیدنا سعد بن مالک کا یہ فرمان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو قرآن کو خوبصورت آواز کے ساتھ نہیں پڑھتا۔ ٭٭ لیث کی یہ روایت، عبداللہ ابن ابی نہیک سے مروی دیگر روایات کو مخدوش نہیں کرتی کیونکہ وہ دونوں بھائی ہیں، تابعی ہیں اور دونوں روایتوں کی صحت پر دلیل عمرو بن حارث کی روایت ہے۔ (اور وہ ثبت، حفاظ میں سے ہیں) جو انہوں نے ابن ابی ملیکہ سے روایت کی ہے۔ (وہ حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2121]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2122
حدَّثَناه محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا سليمان بن داود المَهْرِي وأحمد بن عمرو بن السَّرْح، قالا: حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، عن ابن أبي مُلَيكة: أنه حدثه عن ناسٍ دَخَلُوا على سعد بن أبي وقّاص، فسألوه عن القرآن، فقال سعد: أمَا إني سمعتُ رسول الله ﷺ يقول:"ليس مِنّا من لم يَتغَنَّ بالقرآن" (1) . فهذه الرواية تدلُّ على أنَّ ابن أبي مُلَيكة لم يسمعه من راوٍ واحدٍ، إنما سمعه مِن رُواةٍ لسعدٍ. وقد تَرَك عبيدُ الله بن الأخنس وعِسْلُ بن سفيان الطريقَ عن ابن أبي مُلَيكة، وأَتيا به فيه بإسنادَين شاذّين. أما حديث عُبيد الله بن الأخنس:
سیدنا ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ جو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تھے، انہوں نے یہ بات بتائی کہ انہوں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے قرآن کے متعلق پوچھا تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ بولے: بہرحال میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو قرآن کو سُر کے ساتھ نہیں پڑھتا۔ ٭٭ یہ روایت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے صرف ایک راوی سے یہ حدیث نہیں سنی بلکہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے متعدد راویوں سے انہوں نے یہ حدیث سنی ہے۔ جبکہ عبیداللہ بن اخنس اور عسل بن سفیان نے ابن ابی ملیکہ کی سند ترک کی اور اس میں دو شاذ سندیں استعمال کی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2122]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2123
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا عبد الرحمن بن غَزْوان أبو نوح، حدثنا عُبيد الله بن الأخنس، حدثنا عَبد الله بن عُبيد الله (1) بن أبي مُلَيكة، عن ابن عباس قال: قال رسول الله ﷺ:"ليس مِنّا من لم يَتغَنَّ بالقرآن" (2) . وأمّا حديث عِسْل بن سفيان:
سیدنا عبیداللہ بن اخنس رضی اللہ عنہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ملیکہ کے واسطے سے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو قرآن کو سُر کے ساتھ نہیں پڑھتا۔ ٭٭ اسی حدیث کو حارث بن مرہ ثقفی بصری نے عسل بن سفیان کے واسطے سے ابن ابی ملیکہ سے روایت کیا ہے کہ اُمّ المومنین سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے بیان کرتی ہیں۔ اور حارث نے اسی سند کے ہمراہ یہ حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی روایت کی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2123]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2124
فأخبرَناه أحمد بن سهل الفقيه، حدثنا صالح بن محمد بن حبيب، حدثنا أبو غسان مالك بن سعد (3) ، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا شعبة، عن عِسْل بن سفيان، عن ابن أبي مُلَيكة، عن عائشة، عن النبي ﷺ، أنه قال:"ليس مِنّا مَن لم يَتغنَّ بالقرآن" (4) . ورواه الحارثُ بن مُرَّة الثقفي البصري، عن عِسْل بن سفيان، عن ابن أبي مُلَيكة، عن ابن عباس:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ ہم میں سے نہیں جو قرآن کو خوش الحانی سے (ترنم کے ساتھ) نہ پڑھے۔ حارث بن مرہ ثقفی بصری نے اس حدیث کو عسل بن سفیان کے واسطے سے ابن ابی ملیکہ سے، انہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ فَضَائِلِ الْقُرْآنِ/حدیث: 2124]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں