🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

31. لَوْ قُتِلَ رَجُلٌ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ عَاشَ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ، مَا دَخَلَ الْجَنَّةَ حَتَّى يُقْضَى دَيْنُهُ
اگر کوئی شخص اللہ کی راہ میں قتل ہو جائے، پھر زندہ ہو اور اس پر قرض ہو تو جب تک قرض ادا نہ ہو جنت میں داخل نہیں ہوگا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2243
حدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا هشام بن علي، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا سعيد بن سلمة بن أبي الحُسام، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن. وأخبرني أبو بكر بن أبي نصر، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا القَعْنبي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبي كثير مولى محمد بن جَحْش، عن محمد بن جحش، قال: كان رسولُ الله ﷺ قاعدًا حيث تُوضَعُ الجنائز، فرفع رأسَه قِبَلَ السماءِ، ثم خَفَضَ بصرَه فوضع يدَه على جَبْهتِه، فقال:"سبحانَ اللهِ سبحان الله! ما أنزلَ اللهُ من التشديدِ!" قال: فعَرَفْنا وسَكَتْنا، حتى إذا كان الغدُ، سألتُ رسولَ الله ﷺ، فقلتُ: يا رسول الله، ما التشديدُ الذي نَزَلَ؟ قال:"في الدَّيْن، والذي نفسُ محمدٍ بيدِه، لو قُتِلَ رجلٌ في سبيل الله، ثم عاشَ ثم قُتل ثم عاشَ، وعليه دَينٌ، ما دخَلَ الجنةَ حتَّى يُقضى دينُه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2212 - صحيح
محمد بن جحش رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے جہاں پر جنازے رکھے جاتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا پھر اپنی آنکھوں کو جھکا لیا اور اپنا ہاتھ اپنی پیشانی پر رکھ کر بولے سبحان اللہ، سبحان اللہ کتنی سختی ہے جو اللہ نے نازل کی ہے (محمد بن جحش) فرماتے ہیں: ہم سمجھ گئے اور خاموش رہے۔ اگلے دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! وہ کون سی سختی ہے؟ جو اللہ نے نازل کی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ سختی) قرضے میں ہے۔ اس ذات کی قسم! جس کے قبضۂ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے شہید ہو جائے لیکن اس کے اوپر قرضہ ہو، اللہ تعالیٰ اس کو اس وقت تک جنت میں داخل نہیں کرے گا جب تک وہ اپنا قرضہ ادا نہ کر دے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2243]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2244
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب بن حبيب العَبْدي، حدثنا جعفر بن عَون، أخبرنا إسماعيل بن أبي خالد. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن أحمد بن النضر، حدثنا معاوية بن عمرو، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن إسماعيل بن أبي خالد. وأخبرنا أبو عبد الله بن يعقوب، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، عن إسماعيل بن أبي خالد، حدثني عامرٌ الشَّعبي، عن سَمُرة بن جُندُب، قال: صلَّى رسولُ الله ﷺ ذاتَ يومٍ، فلما أقبَلَ قال:"ها هنا مِن بني فُلانٍ أحدٌ؟" فسكتَ القومُ - وكان إذا ابتغاهم بشيء سكتوا - ثم قال:"ها هنا من بني فُلانٍ أحدٌ؟"، فقال رجلٌ: هذا فُلانٌ، فقال:"إنَّ صاحِبَكم قد حُبِسَ على باب الجنةِ بدَينٍ كان عليه" فقال رجلٌ: عَليَّ دَينُه، فقَضَاه (1) . وهكذا رواه فراسٌ عن الشعبي:
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے: کیا یہاں پر فلاں قبیلے کا کوئی آدمی موجود ہے؟ لوگ خاموش رہے کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ عادت تھی کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے کسی چیز کے متعلق دریافت کرتے تو وہ خاموش رہتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر پوچھا: یہاں پر فلاں قبیلے کا کوئی آدمی موجود ہے؟ تو ایک شخص بولا: یہ فلاں آدمی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارا ساتھی جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے کیونکہ اس کے ذمہ قرضہ تھا (جو اس نے ادا نہیں کیا تھا) اس شخص نے کہا: اس کا قرضہ میرے ذمہ ہے پھر اس نے وہ قرضہ ادا کر دیا۔ ٭٭ اسی طرح یہ حدیث فراس نے شعبہ سے روایت کی ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2244]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2245
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصغَاني، حدثنا يحيى بن حماد وعفان بن مسلم، قالا: حدثنا أبو عَوَانة، عن فِراسٍ. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سعيد ابن الأصبهاني، حدثنا عبد الرحمن بن محمد المُحارِبي، عن يزيد الدّالاني، عن فِراسٍ. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو مسلم ومحمد بن غالب، قالا: حدثنا عمرو بن مرزُوق، حدثنا شعبة، عن فِراسٍ، عن الشعبي، عن سَمُرةَ بن جُندب، قال: صلَّى رسول الله ﷺ ذاتَ يومٍ، فقال:"ها هنا أحدٌ من بني فُلانٍ؟" فنادى ثلاثًا لا يجيبه أحدٌ، ثم قال:"إنَّ الرجلَ الذي ماتَ بينكم قد احتُبِس عن الجنة مِن أجْلِ الدَّين الذي عليه، فإن شئتُم فافْدُوه، وإن شئتُم فأسلِمُوه إلى عذابِ الله" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه، لخلافٍ فيه من سعيدِ بن مَسروق الثَّوْري.
فراس نے شعبی کے واسطے سے سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کیا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور فرمایا: کیا یہاں پر کوئی فلاں قبیلے کا کوئی آدمی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ یہی جملہ دہرایا لیکن کسی نے جواب نہیں دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی جو تم میں سے فوت ہو گیا ہے وہ اپنے ذمہ قرض کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے۔ اگر تم چاہو تو اس کی طرف سے قرضہ ادا کر دو اور اگر تم چاہو تو اس کو اللہ کے عذاب کے سپرد کر دو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اس میں سعید بن مسروق کے متعلق اختلاف کی وجہ سے شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2245]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2246
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إبراهيم بن محمد بن الهيثم، حدثنا عبد الله بن عمر بن أبان، حدثنا أبو الأحوص، عن سعيد بن مَسروق، عن الشعبي، عن سِمعان بن مُشنَّج. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله الوَرَّاق، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا أبو بكر بن أبي شَيْبة، حدثنا وكيع، عن أبيه، عن سعيد بن مسروق، عن الشعبي، عن سِمْعان بن مُشنَّج، عن سمرة بن جندب، عن النبي ﷺ، نحوه (2) . مُتعذِّرٌ أن تُعلَّلَ روايةُ إسماعيلَ بن أبي خالد وفراسِ بن يحيى من رواية الأئمة الأثبات عنهما، بمثلِ هذه الروايات، والله أعلم.
: مذکورہ سند کے ہمراہ بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا ہی فرمان منقول ہے۔ ٭٭ کسی عذر پیش کرنے والے کے لیے یہ گنجائش موجود ہے کہ وہ اس جیسی روایت کی بنا پر قابل اعتماد ائمہ کی روایت میں سے اسماعیل بن ابی خالد اور فراس بن یحیی کی روایت کو معلل قرار دے دے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2246]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2247
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سُليمان، حدثنا عبد الله بن وهب قال: سمعتُ حَيْوةَ بن شُريح يحدِّث عن بكر بن عمرو المَعَافِري، عن شعيب بن زُرْعة، عن عُقْبة بن عامر الجُهَني أنه قال: سمعتُ رسول الله ﷺ يقولُ لأصحابه:"لا تُخِيفُوا أنفُسَكم" فقيل: يا رسول الله، وما نُخِيفُ أنفُسَنا؟ قال:"بالدَّينِ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2216 - صحيح
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے آپ کو مصیبت میں مبتلا مت کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: ہم اپنے آپ کو مصیبت میں کیسے گرفتار کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قرض کے ساتھ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2247]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں