🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. إِذَا سَرَقَ الرَّجُلُ فَوَجَدَ سَرِقَتَهُ، فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا حَيْثُ وَجَدَهَا
جب کسی شخص کی چوری شدہ چیز مل جائے تو جہاں بھی ملے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2286
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّي، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جُرَيج. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى وعلي بن عبد العزيز وموسى بن الحسن بن عبّاد وإسحاق بن الحسن بن ميمون الحَرْبي، قالوا: حدثنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا ابن جُرَيج، حدثني عِكْرمة بن خالد، أنَّ أُسَيد بن حُضَير بن سِماك حدّثه، قال: كتبَ معاويةُ إلى مروان: إذا سُرِق للرجل فوجد سَرِقتَه فهو أحقُّ بها حيثُ وَجَدَها، قال: فكتب إلي بذلك مروانُ وأنا على اليمامة، فكتبتُ إلى مروانَ: أنَّ نبي الله ﷺ قضى إذا كان عند الرجل غير المتَّهَمِ، فإن شاء سيّدُها أَخذَها بالثمنِ، وإن شاء اتَّبَع سارقَه، ثم قضى بذلك بعدَه أبو بكر وعمر وعثمان، قال: فكتب مروانُ إلى معاويةَ بكتابي، فكتب معاويةُ إلى مروان: إنك لستَ أنتَ ولا أُسيد تقضيان عليَّ فيما وَلِيتُ، ولكني أَقضي عليكما، فانفُذْ لما أمرتُك به، وبعثَ مروانُ بكتابِ معاويةَ إليه، فقال: واللهِ لا أَقضي به أبدًا (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2255 - أسيد هذا مات زمن عمر ولم يلقه عكرمة
اسید بن حضیر بن سماک فرماتے ہیں: معاویہ نے مروان کی طرف ایک مکتوب لکھا کہ اگر کوئی شخص چوری کرے پھر اس کا چوری شدہ مال برآمد ہو جائے تو وہی اس کا مستحق ہے جہاں اس کو پائے (اسید) فرماتے ہیں: یہی مکتوب مروان نے میری طرف بھیج دیا۔ میں ان دنوں یمامہ کا گورنر تھا۔ میں نے مروان کو جوابی مکتوب میں لکھا کہ اگر کسی غیر متہم شخص کے پاس مال ملے جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فیصلہ کیا کرتے تھے کہ اگر اس کا مالک چاہے تو اس کی قیمت دے کر لے لے اور اگر چاہے تو اپنے چور کی تلاش کرے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔ (اسید) فرماتے ہیں: مروان نے میرا یہ مکتوب معاویہ کو بھیج دیا، اس کے جواب میں معاویہ نے مروان کو لکھا تم اور اسید میرے حاکم نہیں ہو، میرا فیصلہ تم پر نافذ ہو گا، اس لیے میں نے تجھے جو حکم دیا ہے اسی کو نافذ کرو۔ مروان نے معاویہ کا خط اسید کی طرف بھیج دیا تو (اسید نے جواباً) کہا: خدا کی قسم! میں اس کے مطابق کبھی بھی فیصلہ نہ کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2286]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں