المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
48. إذا سرق الرجل فوجد سرقته ، فهو أحق بها حيث وجدها
جب کسی شخص کی چوری شدہ چیز مل جائے تو جہاں بھی ملے وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔
حدیث نمبر: 2286
أخبرنا أبو بكر إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّي، حدثنا محمد بن الفَرَج الأزرق، حدثنا حجاج بن محمد، عن ابن جُرَيج. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا بِشْر بن موسى وعلي بن عبد العزيز وموسى بن الحسن بن عبّاد وإسحاق بن الحسن بن ميمون الحَرْبي، قالوا: حدثنا هَوْذة بن خَليفة، حدثنا ابن جُرَيج، حدثني عِكْرمة بن خالد، أنَّ أُسَيد بن حُضَير بن سِماك حدّثه، قال: كتبَ معاويةُ إلى مروان: إذا سُرِق للرجل فوجد سَرِقتَه فهو أحقُّ بها حيثُ وَجَدَها، قال: فكتب إلي بذلك مروانُ وأنا على اليمامة، فكتبتُ إلى مروانَ: أنَّ نبي الله ﷺ قضى إذا كان عند الرجل غير المتَّهَمِ، فإن شاء سيّدُها أَخذَها بالثمنِ، وإن شاء اتَّبَع سارقَه، ثم قضى بذلك بعدَه أبو بكر وعمر وعثمان، قال: فكتب مروانُ إلى معاويةَ بكتابي، فكتب معاويةُ إلى مروان: إنك لستَ أنتَ ولا أُسيد تقضيان عليَّ فيما وَلِيتُ، ولكني أَقضي عليكما، فانفُذْ لما أمرتُك به، وبعثَ مروانُ بكتابِ معاويةَ إليه، فقال: واللهِ لا أَقضي به أبدًا (1)
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2255 - أسيد هذا مات زمن عمر ولم يلقه عكرمة
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2255 - أسيد هذا مات زمن عمر ولم يلقه عكرمة
اسید بن حضیر بن سماک فرماتے ہیں: معاویہ نے مروان کی طرف ایک مکتوب لکھا کہ اگر کوئی شخص چوری کرے پھر اس کا چوری شدہ مال برآمد ہو جائے تو وہی اس کا مستحق ہے جہاں اس کو پائے (اسید) فرماتے ہیں: یہی مکتوب مروان نے میری طرف بھیج دیا۔ میں ان دنوں یمامہ کا گورنر تھا۔ میں نے مروان کو جوابی مکتوب میں لکھا کہ اگر کسی غیر متہم شخص کے پاس مال ملے جائے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فیصلہ کیا کرتے تھے کہ اگر اس کا مالک چاہے تو اس کی قیمت دے کر لے لے اور اگر چاہے تو اپنے چور کی تلاش کرے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے، ان کے بعد سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اور ان کے بعد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بھی یہی فیصلہ کیا۔ (اسید) فرماتے ہیں: مروان نے میرا یہ مکتوب معاویہ کو بھیج دیا، اس کے جواب میں معاویہ نے مروان کو لکھا ” تم اور اسید میرے حاکم نہیں ہو، میرا فیصلہ تم پر نافذ ہو گا، اس لیے میں نے تجھے جو حکم دیا ہے اسی کو نافذ کرو۔ “ مروان نے معاویہ کا خط اسید کی طرف بھیج دیا تو (اسید نے جواباً) کہا: خدا کی قسم! میں اس کے مطابق کبھی بھی فیصلہ نہ کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : البيوع/حدیث: 2286]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2286 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
وأخرجه أحمد أيضًا (17986) عن روح بن عُبادة، و (17987)، والنسائي (6232) من طريق عبد الرزاق بن همام، والنسائي (6231) من طريق حماد بن مَسْعَدة، ثلاثتهم عن ابن جُرَيج، به. إلّا أنَّ عبد الرزاق ذكر اسمَ الصحابي على الصواب، فقال: أُسيد بن ظُهير.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور نسائی نے ابن جریج کے مختلف شاگردوں سے روایت کیا ہے، عبدالرزاق نے نام درست طور پر "اسید بن ظہیر" ہی نقل کیا ہے۔
وذكر أبو نعيم في "معرفة الصحابة" (891)، والضياء المقدسي في "المختارة" 4/ 264، والمزي في "التحفة": أنَّ روح بن عبادة رواه كذلك على الصواب، فقال: أُسيد بن ظهير. كذا قالوا! مع أنَّ الذي في أصولنا الخطية من "مسند أحمد" في روايته عن روح: أُسيد بن حضير، على الوهم، فالله تعالى أعلم.
📝 توضیح: ابونعیم اور ضیاء مقدسی کے مطابق روح بن عبادہ نے بھی اسے درست نقل کیا ہے، مگر ہمارے پاس موجود مسند احمد کے نسخوں میں روح کی روایت میں بھی "اسید بن حضیر" (وہم کے ساتھ) لکھا ہے۔
وحديث الحسن عن سمرة الذي عناه الإمام أحمد هو ما أخرجه هو 33/ (20148)، وأبو داود (3531)، والنسائي (6233) و (11689)، ولفظه عند أحمد: "المرء أحق بعين ماله حيث عرفه، ويتبع البَيِّعُ بَيِّعَه".
🧩 متابعات و شواہد: سمرہ کی جس حدیث کا امام احمد نے حوالہ دیا وہ یہ ہے: "انسان اپنے مال کا زیادہ حقدار ہے جہاں بھی اسے پہچان لے، اور خریدار اپنے بیچنے والے سے مطالبہ کرے"۔
وفي رواية لأحمد (20146) من طريق أخرى عن سمرة فيها ضعف: "إذا سُرِق من الرجل متاع، أو ضاع له متاع، فوجده بيد رجل بعينه، فهو أحق به، ويرجع المشتري على البائع بالثمن".
📖 حوالہ / مصدر: سمرہ کی ایک اور ضعیف روایت میں ہے: "اگر کسی کا مال چوری ہو جائے اور وہ کسی کے پاس ملے تو وہ اس کا زیادہ حقدار ہے، اور خریدار اپنا پیسہ بیچنے والے سے واپس لے"۔
ويشبه أن يكون حديث أسيد بن ظُهير هو ما استقرَّ عليه الأمر في آخر عهد النبي ﷺ لعمل الخلفاء الثلاثة به بعده، وعدم مخالفة تصح عن أحدٍ من الصحابة لهم في ذلك، والله أعلم.
📌 اہم نکتہ: ایسا لگتا ہے کہ اسید بن ظہیر کی حدیث ہی وہ آخری حکم ہے جس پر خلفائے ثلاثہ نے عمل کیا اور کسی صحابی نے ان کی مخالفت نہیں کی۔
وقد صحَّ عن تَميم بن طرفة مرسلًا ما يؤيد معنى خبر أُسيد: أنَّ العدو أصابوا ناقة لرجل من المسلمين، فاشتراها رجل من المسلمين من العدو، فعرفها صاحبها، وأقام عليها البينة، فاختصما إلى النبي ﷺ، فقضى النبي ﷺ أن يدفع إليه الثمن الذي اشتراها به من العدوّ، وإلّا خلّى بينها وبين المشتري. أخرجه أبو يوسف في "الخراج" ص 218، وعبد الرزاق (9358)، وابن أبي شيبة 12/ 447. ¤ ¤ وصحَّ عن عمر بن الخطاب في هذا المعنى أيضًا أنه قال فيما أحرزه المشركون، ثم أصابه المسلمون فعرفه صاحبه، قال: إن أدركه قبل القسم فهو له، وإذا جرت فيه السهام فلا شيء له.
🧩 متابعات و شواہد: تمیم بن طرفہ کی مرسل روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ نبی ﷺ نے ایک اونٹنی کے مالک سے فرمایا تھا کہ یا تو وہ خریدار کو قیمت دے کر اونٹنی لے لے یا اسے خریدار کے پاس ہی رہنے دے۔
أخرجه ابن أبي شيبة 12/ 444، وابن المنذر في "الأوسط" (6138)، والطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 263، والدارقطني في "السنن" (4199)، والبيهقي 9/ 112 من طريق قبيصة بن ذؤيب عن عمر بن الخطاب. وأخرج نحوه أبو إسحاق الفزاري في "السير" (135)، ومُسدَّد في "مسنده" كما في "المطالب العالية" (2071)، وابن أبي شيبة 12/ 444 من طريق أزهر بن يزيد المرادي، عن عمر بن الخطاب. وقبيصة له رؤية وسماعه من عمر ممكن كما قال ابن التركماني في "الجوهر النقي" 9/ 112، وأزهر تابعي كبير شهد الجابية والفتوح كما قال ابن عساكر، والطريق إليه حسنة إن شاء الله.
📖 حوالہ / مصدر: حضرت عمر کا بھی یہی فیصلہ تھا کہ اگر مال غنیمت تقسیم ہونے سے پہلے مل جائے تو مالک کا ہے، اور اگر تقسیم ہو جائے تو اس کا کوئی حق نہیں؛ اسے ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے قبیصہ اور ازہر المرادی کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وثبت أيضًا عن زيد بن ثابت أنه قضى بمثل ما قضى به عمر. أخرجه الطحاوي في "شرح معاني الآثار" 3/ 263.
🧩 متابعات و شواہد: حضرت زید بن ثابت نے بھی حضرت عمر جیسا ہی فیصلہ صادر فرمایا تھا۔
والجامع بين الأمرين أنَّ العين انتقلت إلى مَن وُجدت عنده من المسلمين بطريق مشروع، تلك بالبيع وهذه بالغنيمة وخروجها بالسهم، فلا تؤخذ منه جبرًا عنه، لأنَّ ملكيته لها صحيحة، فلا تُحوَّل عنه إلّا بالثمن.
📌 اہم نکتہ: دونوں صورتوں میں قدرِ مشترک یہ ہے کہ موجودہ مالک کے پاس مال شرعی طریقے (بیع یا غنیمت) سے آیا ہے، اس لیے اسے قیمت ادا کیے بغیر مجبوراً نہیں چھینا جا سکتا۔
على أنَّ الإمام أحمد قد ذهب في رواية إسحاق بن منصور عنه في "المسائل" (2754)، وكذا في رواية غيره، إلى ما يقتضيه فتوى عمر وزيد بن ثابت. واحتجَّ بحديث العضباء ناقة رسول الله ﷺ، المخرَّج عنده في "مسنده" 33/ (19894) وعند مسلم (1641).
⚖️ فقہی نکتہ: امام احمد نے بھی اپنی ایک روایت میں حضرت عمر اور زید بن ثابت کے فتوے کو اپنایا ہے اور "العضباء" (نبی ﷺ کی اونٹنی) والی حدیث سے احتجاج کیا ہے۔
قال الإمام أحمد: أخذها النبي ﷺ من المرأة، فإذا قُسم المتاعُ فقد ذهب إلّا بالثمن. وكذلك قال إسحاق بن راهويه. وهذا مصير منهما إلى العمل بمقتضى حديث أُسَيد كذلك.
📌 اہم نکتہ: امام احمد اور اسحاق بن راہویہ کے نزدیک جب سامان تقسیم ہو جائے تو وہ صرف قیمت دے کر ہی واپس لیا جا سکتا ہے، یہ اسید کی حدیث پر عمل کی ایک صورت ہے۔
وهو قول مالك والثَّوري والليث وأصحاب الرأي، كما في "الأوسط" لابن المنذر 6/ 195، و"مختصر اختلاف العلماء" للطحاوي 3/ 466 المسألة (1619).
⚖️ فقہی نکتہ: یہی قول امام مالک، ثوری، لیث اور اصحاب الرائے (احناف) کا ہے جیسا کہ ابن المنذر نے نقل کیا ہے۔
وذهب الإمام الشافعي إلى أنَّ ما يأخذه العدو، فصاحبه أحق به قبل القسمة وبعدها. وهذا مصير منه إلى العمل بمقتضى حديث سمرة، خلافًا للجمهور.
⚖️ فقہی نکتہ: امام شافعی کے نزدیک مالک ہر حال میں (تقسیم سے پہلے یا بعد) اپنے مال کا زیادہ حقدار ہے، انہوں نے سمرہ کی حدیث پر عمل کیا ہے۔
وانظر بيان المسألة في "المغني" لابن قدامة 9/ 271.
🔍 ہدایت: اس مسئلے کی مزید تفصیل ابن قدامہ کی "المغنی" (9/ 271) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
وقد قضى الحسن البصري بمثل قضاء عمر وزيد بن ثابت كما أخرجه ابن أبي شيبة 12/ 446، وهذا مَصير من الحسن البصري إلى خلاف مقتضى ما رواه عن سمرة.
📌 اہم نکتہ: دلچسپ بات یہ ہے کہ حسن بصری نے خود حضرت عمر اور زید بن ثابت جیسا فیصلہ کیا، جو ان کی اپنی روایت کردہ سمرہ کی حدیث کے مقتضی کے خلاف تھا (یعنی انہوں نے عمل صحابہ کو ترجیح دی)۔
(1) إسناده صحيح، لكن تسمية الصحابي فيه أُسيد بن حضير بن سماك وهمٌ من ابن جُرَيج - وهو عبد الملك بن عبد العزيز - لما حدَّث بالحديث بالبصرة، كما نبّه عليه أحمد بن حنبل فيما أسنده عنه أبو داود في "المراسيل" (192) عن هارون بن عبد الله الحمّال، أنَّ أحمد قال له ذلك، وقال له أيضًا: هو في كتاب ابن جُرَيج: أُسيد بن ظُهير. وقال ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 9/ 97: ¤ ¤ هذا هو الصحيح، فقد جاء من غير وجه أنَّ أسيد بن حضير مات في خلافة عمر بن الخطاب، وكذلك قال المزي في "تهذيب الكمال" 3/ 254، وفي "تحفة الأشراف" (150)، وقال: ومن مات في زمن عمر لا تدركه أيامُ معاوية. ونحوه قول الحافظ في "أطراف المسند" (143)، وفي "إتحاف المهرة" (265).
🔍 علّت / فنی نکتہ: سند صحیح ہے لیکن صحابی کا نام "اسید بن حضیر" بتانا ابن جریج کا وہم ہے؛ امام احمد بن حنبل کے مطابق درست نام "اسید بن ظہیر" ہے 📌 اہم نکتہ: اسید بن حضیر حضرت عمر کے دور میں وفات پا چکے تھے، لہٰذا وہ حضرت معاویہ کا دور نہیں پا سکتے تھے، جیسا کہ مزی اور ابن عساکر نے بھی صراحت کی ہے۔
وقد صرَّح ابن جُرَيج بسماعه من عكرمة بن خالد، فأُمن تدليسه.
📌 اہم نکتہ: ابن جریج نے سماع کی تصریح کر دی ہے، اس لیے ان کی تدلیس کا خطرہ نہیں رہا۔
وقد أعلَّ الإمامُ أحمد هذا الحديث فيما نقله عنه ابنُ كثير في "جامع المسانيد" 1/ 289 - 290، بحجة الاضطراب في تسمية صحابيه ومعارضته لحديث الحسن عن سمرة، وبعدم ظهور معناه، وردَّ ذلك ابنُ كثير بقوله: في كلٍّ من هذه التعاليل نظر، ولا يظهر تأثير واحدٍ منها، والله أعلم.
⚠️ سندی اختلاف: امام احمد نے اس حدیث کو صحابی کے نام میں اضطراب اور سمرہ کی حدیث کے معارض ہونے کی وجہ سے "معلول" (کمزور) کہا ہے، مگر ابن کثیر نے ان اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے اسے درست قرار دیا ہے۔
وأخرجه أحمد 29/ (17988) عن هَوذة بن خليفة، بهذا الإسناد.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (29/ 17988) نے ہوذہ بن خلیفہ کی سند سے روایت کیا ہے۔