🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

66. وَلَدُ الرَّجُلِ مِنْ كَسْبِهِ مِنْ أَطْيَبِ كَسْبِهِ، فَكُلُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ
آدمی کی اولاد اس کی کمائی میں سے ہے اور اس کی کمائی کی بہترین قسم ہے، پس ان کے مال میں سے کھاؤ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2325
أخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وحدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي وعبيد الله بن عمر بن ميسرة وعثمان بن أبي شَيْبة، قالوا: حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن الحَكَم، عن عُمارة بن عُمير، عن أُمّه (1) ، عن عائشة، عن النبي ﷺ، قال:"ولدُ الرجلِ من كَسْبِه، مِن أطيبِ كَسْبِه، فكلُوا من أموالهم" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وعند سفيان الثَّوْري فيه إسناد آخر بلفظ آخر، وليس يُعلِّل أحدُ الإسنادين الآخرَ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2294 - على شرط البخاري ومسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدمی کی اولاد اس کی کمائی میں سے ہے بلکہ بہترین کمائی میں سے ہے، اس لیے ان کے مال میں سے تم کھا سکتے ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور سفیان ثوری کی اس حدیث کے متعلق دوسری سند ہے جس کے الفاظ بھی اس سے مختلف ہیں اور ان دونوں سندوں میں سے کسی ایک کی وجہ سے دوسری کو معلل نہیں کہہ سکتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2325]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2326
أخبرَناه أبو العباس محمد بن أحمد المحبُوبي، حدثنا أحمد بن سَيَّار، حدثنا محمد بن كثير، حدثنا سفيان. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا يزيد بن الهيثم، حدثنا إبراهيم بن أبي الليث، حدثنا الأشجعي، عن سفيان، عن منصور، عن إبراهيم، عن عُمارة بن عُمير، عن عمَّته: أنها سألت عائشةَ: في حَجْري يتيمٌ، فآكلُ من ماله؟ فقالت: قال رسول الله ﷺ:"إنَّ من أطيَبِ ما أكَل الرجلُ من كَسْبِه، وولدُه من كَسْبِه" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2295 - صحيح
سیدنا عمارہ بن عمیر رضی اللہ عنہ اپنی پھوپھی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میری پرورش میں ایک یتیم بچہ ہے، کیا میں اس کے مال میں سے کچھ استعمال کر سکتی ہوں؟ تو ام المومنین نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان کا پاکیزہ ترین کھانا وہ ہے جو اس کی (اپنی) کمائی سے ہو اور اس کی اولاد اس کی کمائی میں سے ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2326]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں