المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
65. إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَيْسَ بَيْنَهُمَا بَيِّنَةٌ، فَهُوَ مَا يَقُولُ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَتَارَكَا
جب خریدار اور فروخت کنندہ میں اختلاف ہو اور کوئی دلیل نہ ہو تو مال کے مالک کی بات معتبر ہوگی یا دونوں معاملہ ختم کر دیں گے۔
حدیث نمبر: 2324
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ والحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمة، قالوا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا عمر بن حفص بن غِياث، حدثنا أبي، عن أبي العُمَيس، قال: أخبرني عبد الرحمن بن قيس بن محمد بن الأشعث بن قيس، عن أبيه، عن جده، قال: اشترى الأشعثُ رقيقًا من رقيق الخُمس من عبد الله بعشرين ألفًا، فأرسل عبدُ الله إليه في ثمنهم، فقال: إنما أخذتهم بعشرةِ آلاف، فقال عبد الله: فاختر رجلًا يكون بيني وبينك، فقال الأشعث: أنت بيني وبين نفسِك، فقال عبد الله: فإني سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إذا اختلفَ البَيِّعانِ وليس بينهما بيِّنةٌ، فهو ما يقول ربُّ السِّلعةِ، أو يَتَتاركا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2293 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2293 - صحيح
سیدنا محمد بن اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ اشعث نے خمس کے غلاموں میں سے ایک غلام، عبداللہ سے 20 ہزار کے عوض خریدا، عبداللہ نے ان کے طے شدہ ریٹ میں کچھ کمی کر دی اور کہا: میں نے یہ 10,000 میں لیا ہے (اس پر دونوں کے درمیان تنازع ہو گیا) تو عبداللہ نے کہا: تم اپنے اور میرے درمیان (فیصلہ کرنے کے لیے) کوئی آدمی منتخب کر لو، اشعث نے کہا: میرے اور تیرے درمیان تو ہی فیصلہ کرنے والا ہے۔ عبداللہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جب فریقین کا اختلاف ہو جائے اور دونوں کے پاس کوئی گواہ نہ ہو تو سامان کے مالک کی بات معتبر ہو گی یا وہ دونوں اس سودے سے دست بردار ہو جائیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2324]