المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
76. مَكَّةُ مُنَاخٌ لَا تُبَاعُ رِبَاعُهَا، وَلَا تُؤَاجَرُ بُيُوتُهَا
مکہ پڑاؤ کی جگہ ہے، نہ اس کے مکانات بیچے جائیں گے اور نہ کرائے پر دیے جائیں گے۔
حدیث نمبر: 2357
حدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا جعفر بن أحمد الشاماتي، حدثنا أحمد بن محمد بن يحيى بن سعيد، حدثنا عبد الله بن نُمَير، حدثنا إسماعيل بن إبراهيم بن مُهاجر، عن أبيه، عن عبد الله بن باباهُ، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله ﷺ:"مكّةُ مُناخٌ، لا تُباعُ رِباعُها، ولا تُؤَاجَرُ بيوتُها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهِدُه حديثُ أبي حنيفة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2326 - إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر ضعفوه
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهِدُه حديثُ أبي حنيفة الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2326 - إسماعيل بن إبراهيم بن مهاجر ضعفوه
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مکہ اقامت گاہ ہے، اس کے مکانات کو نہ بیچا جائے اور اس کی عمارتوں کو کرایہ پر نہ دیا جائے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ امام اعظم ابوحنیفہ سے مروی ایک حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2357]
حدیث نمبر: 2358
حدَّثناه علي بن حَمْشاذَ العَدْلُ وأبو جعفر بن عُبيد الحافظ، قالا: حدثنا محمد بن المغيرة السُّكّري، حدثنا القاسم بن الحكَم العُرَني، حدثنا أبو حَنيفة، عن عُبيد الله بن أبي زياد، عن أبي (1) نَجِيح، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال النبي ﷺ:"مكةُ حَرامٌ، وحَرامٌ بَيعُ رِباعِها، وحَرامٌ أجرُ بيوتها" (2) . قد صحّتِ الرواياتُ أنَّ رسول الله ﷺ دخل مكة صلحًا. فمنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2327 - عبيد الله بن أبي زياد لين
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2327 - عبيد الله بن أبي زياد لين
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مکہ قابل احترام شہر ہے، اس کی زمینیں بیچنا اور اس کے مکانات کرایے پر دینا حرام ہے۔ ٭٭ یہ روایات صحیح ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں صلح کے عالم میں داخل ہوئے (ان میں سے ایک حدیث درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2358]
حدیث نمبر: 2359
ما حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن الفضل عارِمٌ وهُدْبة بن خالد، قالا: حدثنا سلّام بن مِسكين، عن ثابت، عن عبد الله بن رَبَاح، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ حين سارَ إلى مكةَ لِيفتَحَها قال لأبي هُريرة:"اهتِفْ بالأنصار"، فقال: يا معشرَ الأنصار، أجِيبُوا رسولَ الله ﷺ، فجاؤوا كأنما كانوا على مِيعادٍ، ثم قال:"اسلُكوا هذا الطريقَ، ولا يُشْرِفَنَّ لكم أحدٌ إِلَّا أَنَمْتُمُوه"، فسارَ رسولُ الله ﷺ، ففتَحَها اللهُ عليه، فطاف رسول الله ﷺ بالبيتِ، فصلى ركعتين، ثم خرج من الباب الذي يلي الصفا، فصَعِد الصفا، فخَطَب الناسَ، والأنصارُ أسفلَ منه، فقالتِ الأنصارُ بعضُهم لبعضٍ: أمّا الرجلُ فأخذَتْه الرأفةُ بقومه، والرغبةُ في قريته، وأنزل الله الوحيَ بما قالتِ الأنصارُ، فقال:"يا معشرَ الأنصار، تقولون: أمّا الرجل أخذته رأفةٌ بقومِه، ورغبةٌ في قريتِه"، قال:"فمَن أنا إذًا، كلَّا والله، إني عبدُ الله ورسولُه حقًّا، فالمَحْيا محياكُم، والمَماتُ مماتُكُم"، قالوا: والله يا رسول الله ما قلنا ذلك إلّا مخافةَ أن يُعادُّونا، قال:"أنتم صادِقون عند اللهِ وعند رسولِه"، قال: فوالله ما منهم إلَّا مَن بلَّ نحرَه بالدُّموع (1) . ومنها:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2328 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2328 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فتح مکہ کے لیے روانہ ہوئے تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ انصار کو بلاؤ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آواز دی: اے انصاریو! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آؤ تو وہ سب لوگ (اتنی جلدی) آ گئے گویا کہ انہوں نے پہلے سے وعدہ کر رکھا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس راستے سے چلو اور راستے میں جو بھی ملے اسے امن دو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح مکہ سے سرفراز فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور دو رکعت نوافل ادا کیے پھر کوہِ صفا سے متصل دروازے سے باہر نکلے اور کوہ صفا پر چڑھ کر لوگوں کو خطبہ دیا، اس وقت انصاری لوگ آپ کے قریب ہی تھے، انصاری ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے کہ آدمی بحرحال اپنی قوم پر ہی نرمی کرتا ہے اور اپنے علاقے میں دلچسپی لیتا ہے، اللہ تعالیٰ نے انصاریوں کی یہ گفتگو وحی کے ذریعے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا دی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے انصاریو! تم یہ کہتے ہو کہ آدمی اپنی قوم پر نرمی کر ہی لیتا ہے اور اپنے علاقے میں دلچسپی لیتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو میں کون ہوں؟ خدا کی قسم! میں اللہ کا بندہ اور اس کا سچا رسول ہوں، میرا جینا تمہارے ساتھ ہے اور میرا مرنا تمہارے ساتھ ہے۔ انصاریوں نے جواباً کہا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم نے تو یہ بات صرف اس خوف کی وجہ سے کی ہے کہ کہیں وہ ہم سے دشمنی نہ کریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ اور اس کے رسول کی نظر میں سچے ہو (ابوہریرہ) فرماتے ہیں: خدا کی قسم! (اس دن لوگ اس قدر روئے) کہ آنسوؤں کے ساتھ ہر شخص کا دامن تر ہو گیا (ان میں سے ایک حدیث یہ بھی ہے)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْبُيُوعِ/حدیث: 2359]