المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. أَوَّلُ زُمْرَةٍ تَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْمُهَاجِرُونَ
جنت میں سب سے پہلے داخل ہونے والا گروہ مہاجرین کا ہوگا۔
حدیث نمبر: 2420
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن عيّاش بن عبّاس، عن أبي عبد الرحمن الحُبُلي، عن عبد الله بن عمرو، قال: قال [لي] رسولُ الله ﷺ:"أتعلَمُ أولَ زُمرةٍ تَدخُلُ الجنةَ من أمتي؟" قال: الله ورسوله أعلمُ، قال:"فقراءُ المهاجرين، يأتون يومَ القيامة إلى باب الجنة ويَستَفْتِحون، فيقول لهم الخَزَنة: أوَقَد حُوسِبتُم؟ قالوا: بأي شيء نُحاسَبُ، وإنما كانت أسيافُنا على عَواتِقِنا في سبيل الله، حتى مِتْنا على ذلك"، قال:"فيُفتَحُ لهم، فيَقِيلُون فيه أربعين عامًا قبل أن يَدخُل الناسُ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2389 - على شرط البخاري ومسلم
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2389 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میری اُمت میں سے سب سے پہلے کون سا گروہ جنت میں جائے گا؟ انہوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن مہاجرین جنت کے دروازے پر آئیں گے اور دروازہ کھلوانا چاہیں گے، جنت کے دربان ان سے کہیں گے: کیا تمہارا حساب ہو چکا ہے؟ وہ کہیں گے: ہم کس چیز کا حساب دیں؟ مرنے تک ہماری تلواریں جہاد کے لیے ہمارے کندھوں پر رہی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر ان کے لیے دروازہ کھول دیا جائے گا اور یہ لوگ (دوسرے) لوگوں سے 40 سال پہلے جنت میں جا کر آرام کریں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2420]