🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْمَلُ إِيمَانًا
سب سے کامل ایمان والا مومن کون ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2421
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان (2) بن سعيد الدارمي، حدثنا هشام بن عبد الملك الطَّيالسي، حدثنا سليمان بن كثير، حدثنا الزُّهْري، عن عطاء بن يزيد، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ، أنه سُئِلَ: أَيُّ المؤمنين أكمَلُ إيمانًا؟ قال:"الذي يجاهِدُ في سبيلِ الله بنَفْسِه ومالِه، ورجلٌ يعبُد الله في شِعْبٍ من الشُّعَبِ، وقد كفى الناسَ شَرَّهُ" (3) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2390 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا، کون سا مؤمن سب سے زیادہ کامل ایمان والا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اپنی جان اور مال کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرے اور جو شخص کسی پہاڑی علاقے میں اللہ کی عبادت کرتا ہو، اس نے اپنے شر سے لوگوں کو بچا لیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2421]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2422
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أبو هانئ، عن عمرو بن مالك الجَنْبي، أنه سمع فَضَالة بن عُبيد يقول: سمعت رسول الله ﷺ يقول:"أنا زَعيمٌ - والزعيمُ الحَمِيل - لمن آمنَ وأسلَم وجَاهَد في سبيل الله ببَيتٍ في رَبَضِ الجنةِ، وببيت في وسط الجنة، وأنا زعيمٌ لمن آمنَ وأسلَم وهاجَر ببيتٍ في رَبَضِ الجنة، وببيتٍ في وَسَط الجنة، وببيتٍ في أعلى الجنة، مَن فعلَ ذلك فلم يَدَع للخيرِ مَطلَبًا، ولا من الشرِّ مَهرَبًا، يموت حيثُ شاءَ أن يموتَ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2391 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص ایمان لائے اور مسلمان ہو جائے اور اللہ کے راستے میں جہاد کرے، اس کے لیے جنت کے اعلیٰ درجے میں اور درمیانی درجے میں گھر کا ذمہ دار ہوں اور جو شخص مجھ پر ایمان لائے، میں اس کے لیے جنت کے وسط میں گھر کا ذمہ دار ہوں اور جو شخص مجھ پر ایمان لائے اور مسلمان ہو اور ہجرت بھی کرے، میں اس کے لیے جنت کے ادنیٰ، درمیانی اور اعلیٰ درجے میں گھر کا ضامن ہوں، جو شخص یہ کرے، اس نے ہر نیکی حاصل کر لی اور ہر برائی سے بچ گیا، وہ جہاں چاہے انتقال کر لے۔ (اس کو کوئی نقصان نہیں)۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2422]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2423
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حَجّاج بن مِنْهال حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قَتَادة، عن مُطرِّف، عن عمران بن حُصين، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تزال طائفةٌ من أُمَّتي يُقاتِلُون على الحقِّ ظاهِرين على مَن ناوَأَهم، حتى يُقاتِلَ آخرُهم المسيحَ الدجال" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2392 - على شرط مسلم
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میری اُمت میں ہمیشہ ایسی جماعت رہے گی جو حق پر لڑتے رہیں گے اور اپنے دشمنوں پر غالب رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری شخص مسیح دجال کو قتل کرے گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2423]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2424
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرنا عمرو بن الحارث، أنَّ أبا عُشّانة المَعَافِري حدثه، أنه سمع عبد الله بن عمرو بن العاص يقول: سمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول:"إِنَّ أول ثُلَّةٍ تدخل (1) الجنةَ لَفُقَراءُ المهاجرين الذين تُتَّقى بهم المَكارِهُ، إذا أُمِروا سَمِعُوا وأطاعُوا، وإن كانت لرجل منهم حاجةٌ إلى السلطانِ لم تُقضَ له حتى يموتَ وهي في صَدْره، وإنَّ الله تعالى يدعُو يومَ القيامة الجنةَ، فتأتي بزُخْرُفِها وزينتِها، فيقول: أين عبادي الذين قاتَلُوا في سَبِيلي، وقُتِلوا، وأُوذُوا في سبيلي، وجاهَدوا في سبيلي، ادخُلُوا الجنةَ، فيدخُلُونها بغير حِسابٍ ولا عَذابٍ، وتأتي الملائكةُ فيقولون: ربَّنا نحن نُسبِّحُ لك الليلَ والنهارَ، ونُقدِّسُ لك، مَن هؤلاء الذين آثرتَهم علينا؟ فيقول الربُّ ﵎: هؤلاءِ الذين قاتَلُوا في سبيلي، وأُوذُوا في سبيلي، فتدخُلُ عليهمُ الملائكةُ من كلِّ بابٍ: سلامٌ عليكُم بما صَبَرتُم فنِعْمَ عُقْبَى الدّارِ" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2393 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے پہلے جو جماعت جنت میں داخل ہو گی وہ فقراء مہاجرین ہیں۔ ان کے ذریعے تکالیف دور ہو جاتی ہیں، جب ان کو حکم دیا جاتا ہے تو وہ غور سے سنتے ہیں اور اطاعت کرتے ہیں۔ اگر ان میں سے کسی شخص کو بادشاہ کے ساتھ کوئی ضروری حاجت ہو تو مرنے تک وہ پوری نہیں ہوتی اور اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت کو بلائے گا، وہ اپنی مکمل آب و تاب کے ساتھ آئے گی، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میرے وہ بندے کہاں ہیں جنہوں نے فی سبیل اللہ جہاد کیا اور وہ میرے راستے میں شہید کیے گئے اور ان کو میرے راستے میں اذیتیں دی گئیں اور انہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا (پھر ان سے مخاطب ہو کر فرمائے گا) تم جنت میں داخل ہو جاؤ تو وہ لوگ بغیر حساب و کتاب کے جنت میں چلے جائیں گے پھر فرشتے آئیں گے اور کہیں گے: یااللہ! ہم دن رات تیری تسبیح اور تقدیس بیان کرتے رہے، تو نے ان کو ہم پر ترجیح دے دی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے راستے میں جہاد کیا اور ان کو میرے راستے میں ستایا گیا۔ پھر فرشتے ہر دروازے سے ان کی طرف آئیں گے (اور کہیں گے) تم نے جو صبر کیا، اس کے بدلے تم پر سلامتی ہو، آخرت کا گھر کتنا ہی اچھا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2424]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2425
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا الليث بن سعد، عن محمد بن عَجْلان، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن رسول الله ﷺ، قال:"لا يجتمعان في النارِ اجتماعًا يَضُرُّ أحدَهما: مسلمٌ قَتَلَ كافرًا، ثم سَدَّد المسلمُ وقارَبَ، ولا يجتمعانِ في جوفِ عبدٍ: غُبارٌ في سبيل الله ودُخانُ جَهنَّم، ولا يجتمعانِ في قَلبِ عبدٍ: الإيمانُ والشُّحُّ" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1) . وقد رُوي عن سهيل بن أبي صالح بإسنادَين آخرين: أحدُهما عن صفوان بن أبي يزيد، عن أبي اللجلاج، عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2394 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہنم میں دو آدمیوں کو یوں جمع نہیں کیا جائے گا کہ ان میں سے ایک سے دوسرے کو ذہنی اذیت ہو۔ وہ مسلمان جس نے کافر کو قتل کیا پھر (تادمِ آخر) راہِ راست پر رہا اور نہ ہی کسی بندے کے پیٹ میں جہاد کی غبار اور دوزخ کا دھواں جمع ہو سکتا ہے اور نہ ہی کسی آدمی کے دل میں ایمان اور بخل جمع ہو سکتا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ یہی حدیث دوسری دو سندوں کے ہمراہ سہیل بن ابی صالح سے بھی مروی ہے، ان میں سے ایک حدیث صفوان بن ابی زید کے ذریعے ابولجلاج کے واسطے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2425]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2426
أخبرَناه عبد الله بن محمد بن موسى، حدثنا محمد بن أيوب، أخبرنا يوسف بن موسى، حدثنا جَرير، عن سهيل، عن صفوان بن أبي يزيد، عن أبي اللَّجْلاج، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يجتمِعُ غُبارٌ في سبيلِ الله ودُخانُ جَهَنَّمَ في جَوفِ عبدٍ أبدًا، ولا يجتمِعُ شُحٌّ وإيمانٌ في قلبِ عبدٍ أبدًا" (2) . وقيل: عن سهيل، عن صفوان بن سُلَيم:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی بندے کے پیٹ میں جہاد کی غبار اور دوزخ کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتا اور کسی آدمی کے دل میں ایمان اور بخل کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2426]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2427
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا محمد بن الحسين بن مُكْرَم بالبصرة، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سهيل بن أبي صالح، عن صفوان بن سُليم، عن أبي اللَّجْلاج، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ، قال:"لا يَجتمِعُ غُبارٌ في سبيلِ الله ودُخانُ جَهنَّمَ في وجهِ رجلٍ مسلمٍ أبدًا" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان آدمی کے چہرے پر جہاد کا غبار اور جہنم کا دھواں کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2427]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2428
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني سعيد بن أبي أيوب، عن خَير بن نُعَيم، عن سهل بن مُعاذ، عن أبيه: أنَّ رسول الله ﷺ بَعثَ سَريّةً، فأتته امرأةٌ، فقالت: يا رسول الله، إنك بعثتَ هذه السريةَ، وإنَّ زوجي خَرَجَ فيها، وقد كنتُ أصومُ بصِيامِه، وأُصلي بصلاتِه، وأتعبَّدُ بعِبادتِه، فدُلَّني على عمل أبلُغُ به عملَه، قال:"تُصلِّين فلا تَقعُدِين، وتَصومِينَ فلا تُفطِرين، وتَذْكُرينَ فلا تَفْتُرِينَ"، قالت: وأُطيقُ ذلك يا رسول الله؟ قال:"ولو طُوِّقْتِ ذلك، والذي نفسي بيَدِه ما بلغْتِ العُشَيرَ من عَمَلِهِ" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2397 - صحيح
سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر روانہ فرمایا تو ایک عورت آپ کے پاس آ کر کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے یہ لشکر بھیجا ہے، اس میں میرا شوہر بھی شریک ہے جبکہ میں اس کے برابر روزے رکھا کرتی تھی، اس کے برابر نمازیں پڑھا کرتی تھی بلکہ تمام عبادات اس کے برابر کیا کرتی تھی، آپ مجھے کوئی ایسا عمل بتایئے جس کے ذریعے میں اس کے اس عمل (جہاد) کے بھی برابر ثواب پاؤں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو مسلسل نماز پڑھتی رہ اور کبھی بھی نماز سے فارغ نہ بیٹھ اور ہمیشہ روزہ رکھتی رہ اور کبھی بھی ناغہ نہ کر اور ہمیشہ ذکر کرتی رہ اور کبھی غافل نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تیرے اندر اس کی طاقت ہو بھی سہی (اور تو یہ عمل کرتی بھی رہے) پھر بھی خدا کی قسم! تیرا عمل اس کے مقابلے میں عشرعشیر (ایک فیصد بھی) نہیں ہو سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2428]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں