سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
---. باب
باب:۔۔۔۔
حدیث نمبر: 1765
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، أَخْبَرَنَا عِيسَى. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، وَهَذَا لَفْظُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ثَوْرٍ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ،عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ لُحَيٍّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقَرِّ"، قَالَ عِيسَى: قَالَ ثَوْرٌ: وَهُوَ الْيَوْمُ الثَّانِي، وَقَالَ: وَقُرِّبَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ إِلَيْهِ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ، فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا، قَالَ: فَتَكَلَّمَ بِكَلِمَةٍ خَفِيَّةٍ لَمْ أَفْهَمْهَا، فَقُلْتُ: مَا قَالَ؟، قَالَ:" مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ".
عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کے نزدیک سب سے عظیم دن یوم النحر ہے پھر یوم القر ہے ۱؎“، اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں، تو ان میں سے ہر ایک آگے بڑھنے لگی کہ آپ نحر کی ابتداء اس سے کریں جب وہ گر گئیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ کہا جو میں نہ سمجھ سکا تو میں نے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو چاہے اس میں سے گوشت کاٹ لے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1765]
سیدنا عبداللہ بن قرط رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کے ہاں سب سے بڑھ کر عظمت والا دن «يَوْمُ النَّحْرِ» ”یوم النحر (دس ذوالحجہ)“ اس کے بعد «يَوْمُ الْقَرِّ» ”یوم القر (۱۱ ذوالحجہ)“ ہے۔“ عیسیٰ نے ثور سے نقل کیا کہ یہ دوسرا دن ہوتا ہے۔ اور بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پانچ یا چھ اونٹنیاں لائی گئیں تو وہ آپ کے قریب ہونے لگیں کہ آپ اسی سے ابتدا کریں۔ جب وہ سب (نحر ہو گئیں اور) پہلوؤں کے بل گر پڑیں تو آپ نے آہستہ سے کچھ فرمایا جو میں نہ سمجھ سکا۔ میں نے (ساتھ والوں سے) پوچھا کہ آپ نے کیا فرمایا ہے؟ تو بتایا کہ ”جو چاہے (گوشت) کاٹ لے جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1765]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8977)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الکبری/الحج (4098)، مسند احمد (4/350) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: عیسیٰ کہتے ہیں: ثور نے کہا: وہ دوسرا دن ہے، یعنی گیارہویں ذی الحجہ کا دن۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2643)
صححه ابن خزيمة (2866، 2917، 2966 وسندھم صحيح)
مشكوة المصابيح (2643)
صححه ابن خزيمة (2866، 2917، 2966 وسندھم صحيح)
حدیث نمبر: 1766
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَرْمَلَةَ بْنِ عِمْرَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ غُرْفَةَ بْنَ الْحَارِثِ الْكِنْدِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَأُتِيَ بِالْبُدْنِ، فَقَالَ:" ادْعُوا لِي أَبَا حَسَنٍ"، فَدُعِيَ لَهُ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ:" خُذْ بِأَسْفَلِ الْحَرْبَةِ"، وَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَاهَا ثُمَّ طَعَنَ بِهَا فِي الْبُدْنِ فَلَمَّا فَرَغَ رَكِبَ بَغْلَتَهُ وَأَرْدَفَ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.
عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا، ہدی کے اونٹ لائے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن (علی رضی اللہ عنہ کی کنیت ہے) کو بلاؤ“، چنانچہ آپ کے پاس علی رضی اللہ عنہ کو بلا کر لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم برچھی کا نچلا سرا پکڑو“، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کا سرا پکڑا پھر اونٹوں کو نحر کیا جب فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور علی کو اپنے پیچھے سوار کر لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1766]
سیدنا عرفہ بن حارث کندی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں حجۃ الوداع میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں حاضر تھا کہ قربانی کی اونٹنیاں لائی گئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابوالحسن (علی) کو بلاؤ۔“ چنانچہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بلایا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”برچھے کو نیچے سے پکڑو۔“ اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے اوپر سے پکڑا، پھر آپ دونوں نے اسے (اونٹنیوں کے نحر کرنے میں) چلایا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہو گئے تو اپنے خچر پر سوار ہوئے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی اپنے ساتھ بٹھا لیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْمَنَاسِكِ/حدیث: 1766]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 11019) (ضعیف)» (اس کے راوی عبداللہ بن حارث کندی ازدی لین الحدیث ہیں)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن الحارث الأزدي(الكندي) لم يوثقه غير ابن حبان وجھله ابن القطان الفاسي فھو مجهول،انظر التحرير (3267)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70
إسناده ضعيف
عبد اللّٰه بن الحارث الأزدي(الكندي) لم يوثقه غير ابن حبان وجھله ابن القطان الفاسي فھو مجهول،انظر التحرير (3267)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 70