المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
41. مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا وَبِالْإِسْلَامِ دِينًا وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ
جس نے اللہ کو رب، اسلام کو دین اور محمد ﷺ کو رسول مان لیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔
حدیث نمبر: 2492
أخبرني إسماعيل بن محمد بن الفضل الشَّعْراني، حدثنا جَدّي، حدثنا عبد الله بن صالح، أنَّ أبا شُريح المَعَافِري حدثه عن أبي هانئٍ، عن أبي علي الجَنْبي، عن أبي سعيد الخُدْري، أنه سمع رسول الله ﷺ يقول:"مَن رَضِيَ بالله رَبًّا، وبالإسلام دِينًا، وبمحمدٍ رسولًا، وَجَبتْ له الجنةُ"، قال أبو سعيد: فحَمِدتُ الله وكبّرتُ وسُرِرتُ به، فقال رسول الله ﷺ:"وأُخرى يرفعُ اللهُ بها أهلَها في الجنة مئةَ درجةٍ، ما بين كلِّ درجتَين كما بين السماء والأرض - أو أبعدَ ما بين السماء والأرض -" قال: قلتُ: وما ذاك يا رسول الله؟ قال:"الجهادُ في سبيل الله، الجهادُ في سبيل الله" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2461 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2461 - صحيح
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جو شخص اللہ کے رب ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے رسول ہونے پر راضی ہو گیا، اس کے لیے جنت واجب ہو گئی“، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (یہ سن کر) میں نے اللہ کی حمد بیان کی، تکبیر کہی اور بہت خوش ہوا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اور ایک دوسرا عمل بھی ہے جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ جنت میں بندے کے مرتبے کو سو درجے بلند فرما دیتا ہے، اور ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے—یا (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) آسمان اور زمین کے درمیانی فاصلے سے بھی زیادہ ہے—“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ عمل کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2492]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2492]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد اختُلف فيه على أبي هانئٍ» [ترقيم الرساله 2492] [ترقيم الشركة 2475] [ترقيم العلميه 2461]
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2493
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا عاصمٌ الأَحْول، عن كُريب بن الحارث، عن أبي بُردة بن قيس أخي أبي موسى، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"اللهمّ اجعَلْ فَنَاءَ أمتي قتلًا في سبيلِك بالطَّعْن والطاعون" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2462 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2462 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے بھائی سیدنا ابوبردہ بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا فرمائی: «اللَّهُمَّ اجْعَلْ فَنَاءَ أُمَّتِي قَتْلًا فِي سَبِيلِكَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ» ”اے اللہ! میری امت کے خاتمے کو اپنی راہ میں نیزوں کے زخموں (میدانِ جنگ) اور طاعون کی وبا کے ذریعے شہادت کی صورت میں مقدر فرما“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2493]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2493]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل كريب بن الحارث - وهو ابن أبي موسى الأشعري - فقد روى عنه جمع وذكره ابن حبان في "الثقات". أبو المثنى: هو معاذ بن المثنى العنبري، وعاصم الأحول: هو ابن سليمان، وأخرجه أحمد 24/ (15608) و 29/ (18080) عن عفان بن مسلم، عن عبد الواحد بن زياد، بهذا الإسناد.» [ترقيم الرساله 2493] [ترقيم الشركة 2476] [ترقيم العلميه 2462]
الحكم على الحديث: إسناده حسن