المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
44. إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ
اللہ تعالیٰ ایک ہی تیر کے سبب تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے۔
حدیث نمبر: 2498
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثنا محمد بن شعيب، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثنا أبو سَلَّام الأسود، عن خالد بن زيد، قال: كنت رامِيًا أُرامي عقبةَ بن عامر، فمرَّ بي ذاتَ يوم، فقال: يا خالد، اخرُج بنا نَرمي، فأبطأتُ عليه، فقال: يا خالد، تعالَ أُحدِّثْك ما حدثني رسولُ الله ﷺ أو أقول لك كما قال رسول الله ﷺ قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله يُدخِلُ بالسهم الواحد ثلاثة نَفَرٍ الجنةَ: صانِعَه الذي احتَسَبَ في صَنْعتِه الخيرَ، ومُنبِلَه (1) ، والراميَ، ارمُوا واركَبوا، وأن تَرمُوا أحبُّ إلي من أن تَركَبوا. وليس من اللهو إلّا ثلاثةٌ: تأديبُ الرجل فرسَه، ومُلاعبتُه زوجتَه، ورميُه بنَبْلِه عن قومِه، ومَن عَلِمَ الرميَ ثم تَركَه فهي نِعمةٌ كَفَرَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد على الاختصار صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2467 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد على الاختصار صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2467 - صحيح
سیدنا خالد بن زید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں تیرانداز تھا اور عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تیراندازی کیا کرتا تھا ایک مرتبہ عقبہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے: اے خالد! آؤ تیراندازی کریں، میں نے ان کے ہمراہ چلنے میں دیر کر دی، وہ کہنے لگے: اے خالد! آؤ میں تجھے وہ بات بتاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بتائی اور تیرے ساتھ اس طرح گفتگو کروں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد سنایا ” بے شک اللہ تعالیٰ ایک تیر کے سبب تین آدمیوں کو جنت میں داخل کرے گا: (1) وہ کاریگر جس نے ثواب کی نیت سے اس کو بنایا ہے۔ (2) جو تیر چھانٹ چھانٹ کر دیتا ہے۔ (3) تیر چلانے والا۔ تم تیراندازی کرو اور گھڑسواری کرو اور تمہاری تیراندازی مجھے تمہاری گھڑسواری سے زیادہ پسند ہے اور تین چیزیں فضول کھیل میں شمار نہیں ہوتی: (1) آدمی کا اپنے گھوڑے کو تربیت دینا۔ (2) آدمی کا اپنی بیوی کے ساتھ کھیل کود کرنا۔ (3) تیراندازی کرنا۔ اور جو شخص تیراندازی سیکھ چکا ہو پھر اس کو چھوڑ دے تو یہ نعمت کی ناشکری ہے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ مذکورہ حدیث کی اسی طرح مختصر انداز میں ایک شاید حدیث بھی موجود ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے (جو کہ درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2498]