🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

44. إِنَّ اللَّهَ يُدْخِلُ بِالسَّهْمِ الْوَاحِدِ ثَلَاثَةَ نَفَرٍ الْجَنَّةَ
اللہ تعالیٰ ایک ہی تیر کے سبب تین آدمیوں کو جنت میں داخل فرماتا ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2498
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيْروتي، حدثنا محمد بن شعيب، حدثنا عبد الرحمن بن يزيد بن جابر، حدثنا أبو سَلَّام الأسود، عن خالد بن زيد، قال: كنت رامِيًا أُرامي عقبةَ بن عامر، فمرَّ بي ذاتَ يوم، فقال: يا خالد، اخرُج بنا نَرمي، فأبطأتُ عليه، فقال: يا خالد، تعالَ أُحدِّثْك ما حدثني رسولُ الله ﷺ أو أقول لك كما قال رسول الله ﷺ قال رسول الله ﷺ:"إِنَّ الله يُدخِلُ بالسهم الواحد ثلاثة نَفَرٍ الجنةَ: صانِعَه الذي احتَسَبَ في صَنْعتِه الخيرَ، ومُنبِلَه (1) ، والراميَ، ارمُوا واركَبوا، وأن تَرمُوا أحبُّ إلي من أن تَركَبوا. وليس من اللهو إلّا ثلاثةٌ: تأديبُ الرجل فرسَه، ومُلاعبتُه زوجتَه، ورميُه بنَبْلِه عن قومِه، ومَن عَلِمَ الرميَ ثم تَركَه فهي نِعمةٌ كَفَرَها" (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وله شاهد على الاختصار صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2467 - صحيح
خالد بن زید سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں تیر اندازی کر رہا تھا اور سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کے ساتھ مقابلہ کر رہا تھا، ایک دن وہ میرے پاس سے گزرے اور فرمایا: اے خالد! ہمارے ساتھ نکلو تاکہ ہم تیر اندازی کریں، تو میں نے ذرا سستی دکھائی، اس پر انہوں نے فرمایا: اے خالد! آؤ میں تمہیں وہ بات بتاؤں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے بیان فرمائی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ ایک ہی تیر کی بدولت تین افراد کو جنت میں داخل فرماتا ہے: اسے بنانے والا جو اس کی تیاری میں بھلائی کی نیت رکھتا ہو، اسے (مجاہد کو) پکڑانے والا، اور اسے چلانے والا؛ تم تیر اندازی بھی کرو اور سواری بھی، اور تمہارا تیر اندازی کرنا مجھے تمہارے سواری کرنے سے زیادہ پسند ہے، اور تین کاموں کے سوا کوئی بھی کھیل لغو نہیں ہے: آدمی کا اپنے گھوڑے کو سدھانا، اپنی اہلیہ کے ساتھ خوش طبعی کرنا، اور اپنے لوگوں کے دفاع میں تیر اندازی کرنا، اور جس نے تیر اندازی سیکھنے کے بعد اسے چھوڑ دیا تو یہ اللہ کی ایک نعمت تھی جس کی اس نے ناشکری کی۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2498]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن إن شاء الله، خالد بن زيد ذكره يعقوب بن سفيان في "المعرفة والتاريخ" 2/ 501 في ثقات التابعين من أهل مصر، وروى عنه أبو سلّام وإسماعيل بن رافع، وهو نفسه عبد الله بن زيد الأزرق، كما أشار إليه البخاري في "تاريخه الكبير" 3/ 150 و ...» [ترقيم الرساله 2498] [ترقيم الشركة 2481] [ترقيم العلميه 2467]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں