🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. إِنَّ إِسْمَاعِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ كَانَ رَامِيًا
بے شک سیدنا اسماعیل علیہ السلام تیر اندازی کرتے تھے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2495
أخبرني أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عبّاد الصَّنْعاني، أخبرنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا سفيان بن سعيد الثَّوري، عن الأعمش، عن زياد بن الحُصَين، عن أبي العاليَة، عن ابن عباس، قال: مَرَّ رسولُ الله ﷺ بقومٍ يَرمُون فقال:"رَمْيًا بني إسماعيلَ، فإنَّ أباكُم كان راميًا" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح على شرط مسلم أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2464 - على شرط مسلم
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے فرمایا: اے اولادِ اسماعیل! تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ (سیدنا اسماعیل علیہ السلام) بھی بہترین تیر انداز تھے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،الأعمش: هو سليمان بن مِهْران، وأبو العالية: هو رُفَيع بن مِهْران. وهو في "مسند أحمد" 5/ (3444).» [ترقيم الرساله 2495] [ترقيم الشركة 2478] [ترقيم العلميه 2464]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2496
أخبرَناه أحمد بن سلمان الفقيه ببغداد، حدثنا الحسن بن مُكْرَم، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا محمد بن عمرو بن علقمة. وأخبرني الحسن بن حَليم المَروَزي - واللفظ له - حدثنا أبو المُوجِّه، حدثنا الحُسين بن حُرَيث، حدثنا الفضل بن موسى، عن محمد بن عمرو، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة قال: خرج النبيُّ ﷺ وقومٌ من أسلمَ يَرمُون، فقال:"ارمُوا بني إسماعيلَ، فإنَّ أباكُم كان راميًا، ارمُوا وأنا مع ابن الأدْرَع"، فأمسك القومُ قِسِيَّهم، فقالوا: يا رسولَ الله، مَن كنتَ معه غَلَبَ! قال:"ارمُوا وأنا معكم (2) كُلِّكم" (3) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2465 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے اولادِ اسماعیل! خوب تیر اندازی کرو، کیونکہ تمہارے باپ بھی ماہر تیر انداز تھے، تم تیر چلاؤ اور میں ابن ادرع کے گروہ کے ساتھ ہوں، یہ سن کر دوسرے گروہ نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا (تیر کیوں نہیں چلاتے)؟ انہوں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! ہم کیسے مقابلہ کریں جبکہ آپ جس کے ساتھ ہوں گے وہی غالب آئے گا! تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2496]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو بن علقمة. أبو الموجِّه: هو محمد بن عمرو الفَزَاري.» [ترقيم الرساله 2496] [ترقيم الشركة 2479] [ترقيم العلميه 2465]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2497
أخبرني أبو عمرو بن إسماعيل، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزيمة، حدثنا محمد بن مِسكين اليَمَامي وإسماعيل بن إسرائيل اللُّؤلؤي، قالا: حدثنا يحيى بن حسّان، حدثنا سليمان بن بلال، عن عبد الرحمن بن حَرْملة، عن محمد بن إياس بن سَلَمة، عن أبيه، عن جده: أنَّ رسول الله ﷺ مَرَّ على ناسٍ يَنْتَضِلون فقال:"حَسَنٌ هذا اللهوُ (1) - مرتين أو ثلاثًا - ارمُوا وأنا مع ابن الأدْرَع (2) " فأمسكَ القومُ بأيديهم، فقالوا: لا والله لا نَرمي معه وأنت معه يا رسول الله، إذًا يَنْضُلَنا، فقال:"ارمُوا (3) وأنا معكم جميعًا"، وقالا: فقال: لقد رَمَوا عامّةَ يومِهم ذلك، ثم تفرَّقوا على السَّواء، ما نَضَل بعضُهم بعضًا (4) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2466 - على شرط مسلم
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو تیر اندازی کا مقابلہ کر رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کھیل کتنا اچھا ہے — یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو یا تین مرتبہ فرمائی — پھر فرمایا: تیر اندازی کرو اور میں ابن ادرع کے گروہ کے ساتھ ہوں، تو دوسرے گروہ نے اپنے ہاتھ روک لیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! جب آپ ان کے ساتھ ہیں تو اب ہم ان کے مقابلے میں تیر اندازی نہیں کریں گے کیونکہ پھر تو وہ ہم پر غالب آ جائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیر اندازی کرو، میں تم سب کے ساتھ ہوں، راوی کہتے ہیں کہ وہ اس دن کافی دیر تک تیر اندازی کرتے رہے، پھر وہ برابری کی بنیاد پر متفرق ہوئے اور کوئی بھی کسی پر غالب نہ آیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2497]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، ومحمد بن إياس بن سلمة» [ترقيم الرساله 2497] [ترقيم الشركة 2480] [ترقيم العلميه 2466]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں