🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. الدَّفْنُ بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ لِعُذْرٍ
عذر کی وجہ سے سات دن بعد دفن کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2534
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُؤمَّل ابن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت عن أنس: أنَّ أبا طلحة قرأ القرآن ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] ، فقال: أرى أن نَسْتَنْفِرَ شيوخًا وشبابًا، فقالوا: يا أبانا لقد غزوتَ مع النبي ﷺ حتى مات، ومع أبي بكر وعمر، فنحن نَعْزُو عنك، قال: فأبَى، فركِبَ البحرَ حتى ماتَ، فلم يَجِدوا جزيرةً يدفنُوه إلَّا بعد سبعة أيام، قال: فما تَغيَّر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2503 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے قرآن کی یہ آیت (اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا) (التوبۃ: 41) کوچ کرو ہلکی جان سے چاہے بھاری دل سے ۔ تلاوت کی اور فرمایا: میرے خیال میں اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم جوانوں اور بوڑھوں سب کو جنگ کے لیے لے چلو، ان کے بیٹے کہنے لگے: ابا جان، آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام حیات میں جہاد کیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ بھی جہاد میں شریک رہے ہیں، اب آپ کی جگہ پر ہم جہاد کریں گے۔ لیکن وہ نہ مانے، پھر (ایک دفعہ) وہ سمندر کے سفر کے دوران انتقال کر گئے (ان کے ہم سفروں کو) قریب کوئی جزیرہ نہ ملا، جس میں ان کی تدفین کی جاتی، سات دن کے بعد ایک جزیرے تک پہنچے لیکن ابھی تک (ان کی لاش اسی طرح تروتازہ تھی اور) اس میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2534]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2535
أخبرنا أبو العبَّاس السَّيّاري، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا علي ابن الحسن بن شَقيق، حدثنا عبد المؤمن بن خالد الحنفي، حدثني نَجْدة بن نُفيع، قال: سألتُ ابن عباس عن قول الله ﷿: ﴿إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ [التوبة: 39] قال: استنفَرَ رسولُ الله حيًّا من أحياء العرب، فتثاقَلُوا، فأُمسك عنهم المطر، وكان عذابَهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2504 - صحيح
سیدنا نجدہ بن نفیع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس قول: (اِلَّا تَنْفِرُوْا یُعَذِّبْکُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا) (التوبۃ: 39) اگر نہ کوچ کرو گے تو تمہیں سخت سزا دے گا ۔ کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: (اس کا مطلب یہ ہے کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے ایک قبیلے کو جہاد کے لیے روانہ ہونے کا حکم دیا لیکن وہ جہاد پر نہ گئے تو ان سے بارشیں روک دی گئیں اور یہ ان کا عذاب تھا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2535]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں