المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
67. الدَّفْنُ بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ لِعُذْرٍ
عذر کی وجہ سے سات دن بعد دفن کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 2534
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مُؤمَّل ابن إسماعيل، حدثنا حماد بن سلمة، عن ثابت عن أنس: أنَّ أبا طلحة قرأ القرآن ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [التوبة: 41] ، فقال: أرى أن نَسْتَنْفِرَ شيوخًا وشبابًا، فقالوا: يا أبانا لقد غزوتَ مع النبي ﷺ حتى مات، ومع أبي بكر وعمر، فنحن نَعْزُو عنك، قال: فأبَى، فركِبَ البحرَ حتى ماتَ، فلم يَجِدوا جزيرةً يدفنُوه إلَّا بعد سبعة أيام، قال: فما تَغيَّر (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2503 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2503 - على شرط مسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے قرآن مجید کی یہ آیت پڑھی: ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ ”تم نکلو خواہ تم ہلکے ہو یا بوجھل“ [سورة التوبة: 41] ، تو انہوں نے کہا: میں دیکھتا ہوں کہ ہمیں ہر حال میں نکلنے کا حکم دیا گیا ہے چاہے ہم بوڑھے ہوں یا جوان، ان کے بیٹوں نے کہا: ابا جان! آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی، اور پھر ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بھی جہاد کیا، اب آپ کی طرف سے ہم جہاد کرتے ہیں، لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور بحری سفر پر روانہ ہو گئے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا، سات دن تک (تدفین کے لیے) انہیں کوئی جزیرہ نہ ملا، راوی کہتے ہیں کہ (جب جزیرہ ملا) تو ان کے جسم کی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2534]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2534]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وقد توبع مُؤمَّل بن إسماعيل. ثابت: هو ابن أسلم البُناني.» [ترقيم الرساله 2534] [ترقيم الشركة 2517] [ترقيم العلميه 2503]
الحكم على الحديث: خبر صحيح
حدیث نمبر: 2535
أخبرنا أبو العبَّاس السَّيّاري، حدثنا عبد العزيز بن حاتم، حدثنا علي ابن الحسن بن شَقيق، حدثنا عبد المؤمن بن خالد الحنفي، حدثني نَجْدة بن نُفيع، قال: سألتُ ابن عباس عن قول الله ﷿: ﴿إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ [التوبة: 39] قال: استنفَرَ رسولُ الله حيًّا من أحياء العرب، فتثاقَلُوا، فأُمسك عنهم المطر، وكان عذابَهم (2) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2504 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2504 - صحيح
نجدہ بن نفیع سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ عزوجل کے اس فرمان: ﴿إِلَّا تَنْفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا﴾ ”اگر تم نہیں نکلو گے تو وہ تمہیں دردناک عذاب دے گا“ [سورة التوبة: 39] کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب کے ایک قبیلے کو جہاد کے لیے بلایا لیکن انہوں نے سستی دکھائی، پس ان سے بارش روک لی گئی اور یہی ان کا عذاب تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2535]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2535]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لجهالة نجدة بن نُفيع.» [ترقيم الرساله 2535] [ترقيم الشركة 2518] [ترقيم العلميه 2504]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف