المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
79. قَوْلُ الشُّهَدَاءِ رَبَّنَا بَلِّغْ قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا رَبُّنَا
شہداء کا یہ کہنا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو بتا دے کہ ہم راضی ہو گئے اور ہمارا رب بھی ہم سے راضی ہو گیا
حدیث نمبر: 2557
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عطاء بن السائب، قال: سمعت أبا عُبيدة بن عبد الله يقول: قال عبد الله بن مسعود: إياكُم وهذه الشهاداتِ: أن تقولَ: قُتِل فلانٌ شهيدًا، فإنَّ الرجل يُقاتِل حَمِيَّةٌ، ويُقاتِل في طلب الدنيا، ويُقاتِل وهو جُريءُ الصَّدْر، ولكن سأحدِّثكم على ما تَشهَدون؛ إنَّ رسول الله ﷺ بعث سريَّةً ذاتَ يومٍ، فلم يلبث إلَّا قليلًا حتى قام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال:"إنَّ إخوانكم قد لَقُوا المشركين، فاقتَطَعُوهم فلم يبقَ منهم أحدٌ، وإنهم قالوا: ربَّنا بَلَّغْ قومَنا أنّا قد رَضِينا ورضي عنا ربُّنا، فأنا رسولُهم إليكم: أنهم قد رَضُوا ورُضِيَ عنهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الإرسال، فقد اختلف مشايخُنا في سماع أبي عُبيدة من أبيه. وله شاهدٌ موقوفٌ على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2525 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الإرسال، فقد اختلف مشايخُنا في سماع أبي عُبيدة من أبيه. وله شاهدٌ موقوفٌ على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2525 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس طرح کی گواہیاں دینے سے بچا کرو کہ فلاں شخص قتل کیا گیا ہے، وہ شہید ہے، کیونکہ کوئی تو مروتاً لڑتا ہے اور کوئی دنیا کی طلب میں لڑتا ہے اور کوئی بہادری سے لڑتا ہے، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ کسی کے متعلق گواہی کیسے دیتے ہیں۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مختصر سا لشکر بھیجا، زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرنے کے بعد فرمایا: تمہارے بھائی مشرکوں سے لڑے اور انہوں نے ان (تمہارے بھائیوں) کو مار ڈالا ہے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہیں بچا اور انہوں نے یہ دعا مانگی تھی ” اے ہمارے رب ہماری قوم تک ہمارا یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم راضی ہیں اور ہمارا رب ہم پر راضی ہے “ تو میں ان کی طرف سے تمہیں پیغام دے رہا ہوں کہ وہ راضی ہیں اور اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہے۔ ٭٭ اگر اس کی سند ارسال سے محفوظ ہو تو یہ صحیح الاسناد ہے۔ ابوعبیدہ کے اپنے والد سے سماع کے متعلق ہمارے مشائخ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ درج ذیل موقوف حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے جو کہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2557]
حدیث نمبر: 2558
أخبرَنيه عبد الرحمن بن الحسن القاضي بَهَمذان، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس حدثنا شعبة، عن أبي قيس، عن هُزَيل (2) بن شُرَحبيل قال: خرج ناسٌ فقُتِلوا، فقالوا: فلانٌ استُشهِد، فقال عبد الله: إِنَّ الرجلَ لَيقاتلُ للدُّنيا، ويقاتلُ ليُعرَف، وإنَّ الرجلَ لَيموتُ على فراشِه وهو شهيد، ثم تلا ﴿وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ (3) أُولَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ [الحديد: 19] (4) .
سیدنا ہذیل بن شرحبیل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ جہاد کے لیے نکلے اور قتل کر دیئے گئے، لوگوں نے کہا: فلاں شخص شہید ہو گیا، تو عبداللہ بولے آدمی (کبھی) حصولِ دنیا کی غرض سے لڑتا ہے اور (کبھی) اس لیے لڑتا ہے تاکہ اس کی تعریف کی جائے لیکن ایک آدمی ایسا بھی ہوتا ہے جو اپنے بستر پر مرتا ہے لیکن وہ شہید ہوتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی: (وَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ وَ الشُّھَدَآئُ عِنْدَ رَبِّھِمْ) (الحدید: 19) ” اور وہ جو اللہ اور اس کے سب رسولوں پر ایمان لائے وہی ہیں کامل سچے اور اوروں پر گواہ اپنے رب کے یہاں “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2558]