🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
79. قَوْلُ الشُّهَدَاءِ رَبَّنَا بَلِّغْ قَوْمَنَا أَنَّا قَدْ رَضِينَا وَرَضِيَ عَنَّا رَبُّنَا
شہداء کا یہ کہنا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو بتا دے کہ ہم راضی ہو گئے اور ہمارا رب بھی ہم سے راضی ہو گیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2557
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عطاء بن السائب، قال: سمعت أبا عُبيدة بن عبد الله يقول: قال عبد الله بن مسعود: إياكُم وهذه الشهاداتِ: أن تقولَ: قُتِل فلانٌ شهيدًا، فإنَّ الرجل يُقاتِل حَمِيَّةٌ، ويُقاتِل في طلب الدنيا، ويُقاتِل وهو جُريءُ الصَّدْر، ولكن سأحدِّثكم على ما تَشهَدون؛ إنَّ رسول الله ﷺ بعث سريَّةً ذاتَ يومٍ، فلم يلبث إلَّا قليلًا حتى قام فحَمِدَ الله وأثنى عليه، ثم قال:"إنَّ إخوانكم قد لَقُوا المشركين، فاقتَطَعُوهم فلم يبقَ منهم أحدٌ، وإنهم قالوا: ربَّنا بَلَّغْ قومَنا أنّا قد رَضِينا ورضي عنا ربُّنا، فأنا رسولُهم إليكم: أنهم قد رَضُوا ورُضِيَ عنهم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد إن سَلِمَ من الإرسال، فقد اختلف مشايخُنا في سماع أبي عُبيدة من أبيه. وله شاهدٌ موقوفٌ على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2525 - صحيح
ابوعبیدہ بن عبداللہ اپنے والد سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: تم ان شہادتوں (کے دعووں) سے بچو کہ تم کہو: فلاں شخص شہید ہو گیا، کیونکہ کوئی شخص (قومی) غیرت میں لڑتا ہے، کوئی دنیا کی طلب میں لڑتا ہے اور کوئی محض اپنی بہادری دکھانے کے لیے لڑتا ہے، لیکن میں تمہیں وہ بات بتاتا ہوں جس کی تم گواہی دے سکتے ہو؛ وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن ایک فوجی دستہ روانہ فرمایا، ابھی تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: تمہارے بھائیوں کا مشرکین سے مقابلہ ہوا، انہوں نے انہیں شہید کر دیا اور ان میں سے کوئی باقی نہ بچا، (شہادت کے بعد) ان لوگوں نے عرض کیا: اے ہمارے رب! ہماری قوم کو یہ پیغام پہنچا دے کہ ہم (اپنے انجام سے) راضی ہو گئے اور ہمارا رب ہم سے راضی ہو گیا، پس میں ان کا پیغام رساں بن کر تمہارے پاس آیا ہوں کہ وہ راضی ہو گئے اور ان سے رضا کا معاملہ کیا گیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اگر یہ ارسال سے محفوظ ہو، کیونکہ ہمارے مشایخ کا اس میں اختلاف ہے کہ آیا ابوعبیدہ نے اپنے والد سے سنا ہے یا نہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب : الجهاد/حدیث: 2557]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن أبا عُبيدة بن عبد الله» [ترقيم الرساله 2557] [ترقيم الشركة 2540] [ترقيم العلميه 2525]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره

المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2557 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن أبا عُبيدة بن عبد الله - وهو ابن مسعود - لم يسمع من أبيه، فهو منقطع. أبو إسحاق الفزاري: هو إبراهيم بن محمد بن الحارث.
⚖️ درجۂ حدیث: یہ صحیح لغیرہ ہے، مگر اس کی سند ابوعبیدہ بن عبد اللہ بن مسعود کے اپنے والد سے نہ سننے کی وجہ سے منقطع ہے۔
وأخرجه أحمد 7 / (3952) من طريق حماد بن سلمة، عن عطاء بن السائب، به.
📖 حوالہ: امام احمد نے اسے حماد بن سلمہ عن عطاء بن السائب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
ويشهد له ما بعده، وحديث أنس عند البخاري (2801)، ومسلم (1902) (147) في قراء بئر معونة.
🧩 شاہد: حضرت انس کی بئر معونہ کے قراء سے متعلق بخاری و مسلم کی روایت اس کی تائید کرتی ہے۔

Al Mustadrak ala al‑Sahihayn Hadith 2557 in Urdu