المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
87. بَقِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَثَمَانُونَ رَجُلًا
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور اسی آدمی سیدنا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ باقی رہے
حدیث نمبر: 2580
أخبرني أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل ابن محمد الشَّعراني، حدثنا عبد الله بن محمد بن نُفَيل الحَرّاني، حدثنا محمد بن سلمة الحرّاني، حدثنا محمد بن إسحاق، حدثني عبد الواحد بن أبي عَون، عن سعد بن إبراهيم، عن أبيه، عن عبد الرحمن بن عوف، قال: قال لي أُميّة بن خَلَف وأنا بينه وبين ابنه عليّ آخِذٌ بأيديهما: يا عبدَ الإله من الرجلُ منكم المُعْلَم بريشةِ نَعامةٍ في صَدْره؟ قال: قلتُ: ذاك حمزةُ بن عبد المطّلب، قال: ذاك الذي فَعَلَ بنا الأفاعِيلَ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. أخرجه الإمام أبو بكر بن خُزيمة في باب الرخصة في علامة المُبارز بنفسه ليُعلَم موضعُه، فرواه عن محمد بن يحيى عن النُّفَيلي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2548 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. أخرجه الإمام أبو بكر بن خُزيمة في باب الرخصة في علامة المُبارز بنفسه ليُعلَم موضعُه، فرواه عن محمد بن يحيى عن النُّفَيلي.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2548 - على شرط مسلم
سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ (بدر کے دن) امیہ بن خلف نے مجھ سے پوچھا جبکہ میں اس کا اور اس کے بیٹے علی کا ہاتھ پکڑے ہوئے (انہیں قیدی بنا کر لے جا رہا) تھا: اے عبد الہٰ! تمہارے لشکر میں وہ کون شخص ہے جس نے اپنے سینے پر شتر مرغ کا پر بطور نشانی لگایا ہوا ہے؟ میں نے کہا: وہ سیدنا حمزہ بن عبدالمطلب ہیں، امیہ نے کہا: یہی وہ شخص ہے جس نے (جنگ میں) ہمارے ساتھ بڑے بڑے معرکے کیے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، امام ابن خزیمہ نے اسے اس باب میں روایت کیا ہے کہ جس میں میدانِ جنگ میں اپنی پہچان کے لیے کوئی علامت لگانے کی رخصت ثابت ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2580]
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، امام ابن خزیمہ نے اسے اس باب میں روایت کیا ہے کہ جس میں میدانِ جنگ میں اپنی پہچان کے لیے کوئی علامت لگانے کی رخصت ثابت ہوتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2580]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2580] [ترقيم الشركة 2563] [ترقيم العلميه 2548]