المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
88. شَأْنُ نُزُولِ آيَةِ السَّكِينَةِ .
آیتِ سکینہ کے نزول کا واقعہ
حدیث نمبر: 2581
حدثني أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن الحَرْبي، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا الحارث بن حَصِيرة، حدثنا القاسم بن عبد الرحمن، عن أبيه، قال: قال ابن مسعودٍ: كنتُ مع رسول الله ﷺ يومَ حُنين، فولَّى عنه الناس وبقيتُ معه في ثمانين رجلًا من المهاجرين والأنصار، فكُنا على أقدامِنا نحوًا من ثمانين قدمًا ولم نُولِّهم الدُّبُرَ، وهم الذين أنزل الله عليهم السكينةَ، قال: ورسول الله ﷺ على بغلته يمضي قُدُمًا، فحادَت بغلته، فمال عن السّرِج، فشَدَّ نحوه، فقلتُ: ارتفع رفعَكَ الله، قال:"ناوِلْني كفًّا من ترابٍ" فناولتُه، فضرب به وجوهَهم، فامتلأ أعينُهم ترابًا، قال:"أين المهاجرون والأنصار؟" قلت: هم هنا، قال:"اهتِفْ بهم" فَهَتَفتُ بهم، فجاؤوا وسيوفُهم في أيمانهم كأنها الشُّهُب، وولَّى المشركون أدبارَهم (1) . حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2549 - الحارث وعبد الله ذوا مناكير هذا منها ثم فيه إرسال
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2549 - الحارث وعبد الله ذوا مناكير هذا منها ثم فيه إرسال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں غزوہ حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے پیچھے ہٹ گئے لیکن میں مہاجرین و انصار کے اسی (80) آدمیوں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ثابت قدم رہا، ہم اپنے قدموں پر اسی (80) قدم کے فاصلے پر جمے رہے اور ہم نے پیٹھ نہیں پھیری، یہی وہ لوگ تھے جن پر اللہ نے سکینہ نازل فرمائی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی خچر پر سوار آگے بڑھ رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خچر بدکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم زین سے ایک طرف جھک گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سنبھلے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! اللہ آپ کا مرتبہ بلند رکھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ایک مٹھی مٹی پکڑا دو“، میں نے مٹی پکڑائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ ان (مشرکین) کے چہروں پر ماری جس سے ان کی آنکھیں مٹی سے بھر گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مہاجرین و انصار کہاں ہیں؟“ میں نے کہا: وہ یہیں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں آواز دو“، میں نے انہیں پکارا تو وہ اپنی تلواریں دائیں ہاتھوں میں لیے ہوئے اس طرح لپکے جیسے وہ ستارے (شہابِ ثاقب) ہوں، اور مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2581]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2581]
تخریج الحدیث: «خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن إسحاق، وقد صرَّح بالسماع، ثم هو متابع. وهو في السيرة النبوية لابن هشام 1/ 632.» [ترقيم الرساله 2581] [ترقيم الشركة 2564] [ترقيم العلميه 2549]
الحكم على الحديث: خبر صحيح