المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
96. قِصَّةُ شَهَادَةِ حَمْزَةَ وَالصَّلَاةِ عَلَيْهِ وَالشُّهَدَاءِ كُلِّهِمْ وَإِحْيَاءِ وَالِدِ جَابِرٍ
سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی شہادت، ان پر اور دیگر شہداء پر نماز اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے والد کے زندہ کیے جانے کا واقعہ
حدیث نمبر: 2589
أخبرني أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبوب بن موسى، حدثنا أبو إسحاق الفَزاري، عن أبي حماد الحَنَفي، عن ابن عَقيل، قال: سمعت جابر بن عبد الله يقول: فَقَدَ رسولُ الله ﷺ حمزةَ حين فاءَ الناسُ من القتال، فقال رجل: رأيتُه عند تلك الشجّرات، وهو يقول: أنا أسدُ الله وأسدُ رسوله، اللهم أبرأُ إليك ممّا جاء به هؤلاء؛ أبو سفيان وأصحابه، وأعتذرُ إليك ممّا صنع هؤلاء بانهزامِهم، فحَنَا رسولُ الله ﷺ نحوَه، فلما رأى جنْبَه بكى، ولما رأى ما مُثِّل به شَهَقَ، ثم قال:"ألا كُفِّنَ"، فقام رجل من الأنصار فرمى بثوب عليه، ثم قام آخرُ من الأنصار فرمى بثوبٍ عليه، فقال:"يا جابر"، هذا الثوبُ لأبيك، وهذا لعمِّي حمزة"، ثم جيء بحمزة فصَلَّى عليه، ثم يُجاء بالشهداء فتُوضع إلى جانب حمزة، فيصلِّي عليهم، ثم تُرفَع ويُترك حمزة، حتى صلِّى على الشهداء كلهم. قال: فرجعتُ وأنا مُثقَلٌ قد تَرَك أبي عليَّ دَينًا وعيالًا، فلما كان عندَ الليل أرسل إلىَّ رسولُ الله ﷺ، فقال:"يا جابر، إنَّ الله ﵎ أحيا أباك وكلَّمه" قلت: وكلّمه كلامًا! قال:"قال له: تَمَنَّ، فقال: أتمنَّى أن تَرُدَّ روحي وتُنشئ خَلْقى كما كان، وتَرْجِعَني إلى نبيّك، فأقاتلَ في سبيلك فأُقتلَ مرةً أخرى، قال: إني قضيتُ أنهم لا يَرجِعون". قال: وقال ﷺ:"سيدُ الشهداءِ عند الله يومَ القيامة حمزةُ" (1) . صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2557 - أبو حماد هو المفضل بن صدقة قال النسائي متروك
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2557 - أبو حماد هو المفضل بن صدقة قال النسائي متروك
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب لوگ لڑائی سے واپس پلٹے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو تلاش کیا، ایک شخص نے بتایا کہ میں نے انہیں ان درختوں کے پاس دیکھا تھا، وہ کہہ رہے تھے کہ "میں اللہ اور اس کے رسول کا شیر ہوں، اے اللہ! میں تیرے حضور ان (ابوسفیان اور ان کے ساتھیوں) کے لائے ہوئے شر سے برأت کا اظہار کرتا ہوں اور ان (مسلمانوں) کی بزدلی (شکست) پر تجھ سے معذرت خواہ ہوں"۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف مڑے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پہلو کو دیکھا تو رو پڑے اور جب ان کے جسم کے ساتھ کی گئی بے حرمتی (مثلہ) دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہچکی بندھ گئی، پھر فرمایا: "کیا ان کے لیے کفن نہیں ہے؟" ایک انصاری شخص نے ان پر اپنی ایک چادر ڈال دی، پھر دوسرے انصاری نے اپنی چادر ان پر ڈال دی، تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے جابر! یہ کپڑا تمہارے باپ (عبداللہ بن حرام) کے لیے ہے اور یہ میرے چچا حمزہ کے لیے ہے"۔ پھر سیدنا حمزہ کو لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، پھر دوسرے شہداء کو لایا جاتا اور حمزہ کے پہلو میں رکھا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سب پر نماز پڑھتے، پھر ان شہداء کو اٹھا لیا جاتا اور حمزہ وہیں رہتے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام شہداء کی نماز جنازہ (حمزہ کے ساتھ ملا کر) پڑھ لی۔ جابر کہتے ہیں کہ میں بہت بوجھل دل کے ساتھ واپس لوٹا کیونکہ میرے والد مجھ پر قرض اور عیال چھوڑ گئے تھے، جب رات ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلا بھیجا اور فرمایا: "اے جابر! اللہ عزوجل نے تمہارے والد کو زندہ کیا اور ان سے براہ راست کلام فرمایا"، میں نے پوچھا: کیا واقعی کلام فرمایا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اللہ نے ان سے فرمایا: (اے میرے بندے!) کوئی تمنا کر، انہوں نے عرض کیا: میری تمنا ہے کہ تو میری روح کو واپس لوٹا دے اور میری تخلیق دوبارہ ویسی ہی کر دے جیسی تھی اور مجھے دوبارہ اپنے نبی کے پاس بھیج دے تاکہ میں تیری راہ میں قتال کروں اور پھر سے شہید کر دیا جاؤں، اللہ نے فرمایا: میں یہ فیصلہ کر چکا ہوں کہ وہ (دنیا میں) واپس نہیں لوٹیں گے"۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "قیامت کے دن اللہ کے نزدیک شہداء کے سردار حمزہ ہوں گے"۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2589]
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2589]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف أبي حماد الحنفي - واسمه المفضَّل بن صدقة، وقد توبع على بعض ألفاظ الحديث، وابن عقيل - وهو عبد الله بن محمد بن عَقيل - يُحسَّن حديثه في المتابعات والشواهد، وقد توبع على بعض ألفاظ الحديث أيضًا، ولكن انفرد هو أو أبو حماد الحنفي بقصة الصلاة على ...» [ترقيم الرساله 2589] [ترقيم الشركة 2572] [ترقيم العلميه 2557]
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف أبي حماد الحنفي - واسمه المفضَّل بن صدقة