🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

97. كَيْفِيَّةُ كَفَنِ سَيِّدِ الشُّهَدَاءِ حَمْزَةَ .
سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے کفن کا طریقہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2590
حدثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، حدثني الزُّهْري، عن أنس بن مالك قال: كُفِّن حمزة في نَمِرةٍ كانوا إذا مَدُّوها على رأسِه، خرجتْ رجلاهُ، وإذا مَدُّوها على رجلَيه خرج رأسُه، فأمرهم النبي ﷺ أن يَمُدُّوها على رأسِه، ويجعَلُوا على رجلَيه من الإذخِر، وقال رسول الله ﷺ:"لولا أن تَجزَعَ صفيةُ، لتركنا حمزةَ فلم ندفنْه، حتى يُحشَرَ حمزةُ من بُطون الطير والسِّباع" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2558 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو ایک چھوٹی دھاری دار چادر (نمرہ) میں کفن دیا گیا، وہ چادر اتنی چھوٹی تھی کہ جب اسے ان کے سر پر ڈالتے تو ان کے پاؤں نکل جاتے اور جب پاؤں پر ڈالتے تو سر کھل جاتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ چادر سر کی طرف کر دیں اور پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اگر مجھے صفیہ (حمزہ کی بہن) کے غم زدہ ہونے کا ڈر نہ ہوتا تو میں حمزہ کو (میدان میں ہی) چھوڑ دیتا اور انہیں دفن نہ کرتا، یہاں تک کہ حمزہ پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے (قیامت کے دن) محشور کیے جاتے۔"
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2590]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن غلط فيه أسامة بن زيد -وهو الليثي- فقد خالفه الليث بن سعد، فرواه عن الزُّهْري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله، ولا شكَّ بتقدُّم الليث على أسامة في الحفظ والإتقان، فقول الليث هو الصحيح، كما ...» [ترقيم الرساله 2590] [ترقيم الشركة 2573] [ترقيم العلميه 2558]

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں