🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

98. قِصَّةُ فَتْحِ مَكَّةَ وَالطَّائِفِ وَهَجَرَ .
فتحِ مکہ، طائف اور ہَجَر کے واقعات
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2591
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد الأصبهاني، حدثنا أحمد بن مهران بن خالد الأصبهاني، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا طلحة بن جَبر الأنصاري، عن المُطَّلب بن عبد الله، عن مصعب بن عبد الرحمن، عن عبد الرحمن ابن عوف، قال: افتَتَح رسول الله ﷺ مكةَ، ثم انصرف إلى الطائف فحاصَرَهم ثمانيةً أو سبعةً، ثم أوْغَلَ غَدوةً أو رَوحةً، ثم نزل ثم هَجَّر، ثم قال:"أيها الناس، إني لكم فَرَطٌ، وإني أُوصيكم بعِتْرتي خيرًا، موعدكم الحوضُ، والذي نفسي بيده، لَتقيمُنَّ الصلاةَ، ولَتُؤْتون الزكاةَ، أو لأبعثنَّ عليكم رجلًا مني -أو كنفسي- فليَضْرِبَنَّ أعناقَ مُقاتِليهم، ولَيسبِيَنَّ ذَرارِيَّهم"، قال: فرأى الناسُ أنه يعني أبا بكر أو عمر، فأخذ بيدِ عليٍّ، فقال:"هذا" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2559 - طلحة ليس بعمدة
سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے بعد طائف کی طرف روانہ ہوئے اور سات یا آٹھ دن ان کا محاصرہ کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صبح یا (شاید فرمایا) شام وہاں سے کوچ فرمایا پھر ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالا اور وہاں سے دوپہر کے وقت روانگی اختیار کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! میں تمہارے اوپر خوش ہوں اور میں تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں بھلائی کی تاکید کرتا ہوں، میری تم سے ملاقات حوض کوثر پر ہو گی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے تم ضرور نمازیں قائم کرو گے اور تم ضرور زکوۃ ادا کرو گے ورنہ میں تم پر اپنی طرف سے یا (شاید یہ فرمایا) اپنے جیسا ایک آدمی بھیجوں گا جو تمہارے جنگ جوؤں کی گردنیں مارے گا اور تمہارے بچوں کو قیدی بنائے گا (عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: لوگ یہ سمجھے کہ وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ یا عمر رضی اللہ عنہ ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: یہ ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2591]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں