🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

102. لَا يُقْتَلَنَّ ذُرِّيَّةً وَلَا عَسِيفٌ
نہ بچوں کو قتل کیا جائے اور نہ مزدور کو
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2597
حدثنا علي بن حَمْشَاذَ العَدْل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا إسماعيل بن أبي أُوَيس، حدثنا عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، عن أبيه، عن المُرقَّع ابن صَيفيَّ بن ربَاح أخي حنظلة الكاتب، أنَّ جده رباحًا أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ غزا غزوةً كان على مُقدِّمتِه فيها خالد بن الوليد فمرَّ ربَاحٌ وأصحابُه على امرأة مقتولةٍ ممّا أصاب المقدِّمةُ، فوقَفوا عليها يتعجّبون من خَلْقِها، حتى لَحِقهم رسولُ الله صلى الله عليه سلم ففرّجوا له، حتى نظر إليها، فقال:"ها، ما كانت هذه تُقاتِلُ"، ثم نظر في وجوه القوم، فقال لأحدهم:"الحَقْ بخالدِ بن الوليد، فلا يَقتُلَنَّ ذُرِّيةً ولا عَسِيفًا" (1) . وهكذا رواه المغيرة بن عبد الرحمن وابن جُرَيج عن أبي الزِّناد، فصار الحديث صحيحًا على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2565 - رواه ابن جريج وغيره عن أبي الزناد على شرط البخاري ومسلم
سیدنا رباح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوہ کیا جس میں خالد بن ولید ہراول دستے (مقدمہ) کے امیر تھے، رباح اور ان کے ساتھیوں کا گزر ایک مقتول عورت کے پاس سے ہوا جو ہراول دستے کی کارروائی میں ماری گئی تھی، وہ سب کھڑے ہو کر اس کی بناوٹ پر تعجب کرنے لگے یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں پہنچے، لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے راستہ چھوڑا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا: افسوس! یہ تو لڑنے والوں میں سے نہیں تھی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے چہروں کی طرف دیکھا اور ایک شخص سے فرمایا: خالد بن ولید کو جا کر ملو اور ان سے کہو کہ کسی بچے (ذریت) اور کسی مزدور (خادم) کو ہرگز قتل نہ کریں۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2597]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل إسماعيل بن أبي أُوَيس - وهو إسماعيل بن عبد الله - ومن أجل عبد الرحمن بن أبي الزِّناد، وقد توبعا. والمرقَّع هذا قال عنه يحيى بن سعيد الأنصاري: كان رجلًا مَرضيًّا، وذكره ابن حبان في "الثقات"، ووثقه الذهبي.» [ترقيم الرساله 2597] [ترقيم الشركة 2580] [ترقيم العلميه 2565]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں