المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
101. لَا نَسْتَعِينُ بِالْمُشْرِكِينَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ .
ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیتے
حدیث نمبر: 2595
حدثنا مُكرَم بن أحمد القاضي، حدثنا عبد الله بن روح المدائني، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا المُستَلِم بن سعيد الثقفي، عن خُبيب بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن جده، قال: خرج رسولُ الله ﷺ في بعض غَزَواته، فأتيتُه أنا ورجلٌ قبل أن نُسلِمَ، فقلنا: إنا نستحيي أن يشهد قومُنا مشهدًا ولا نشهدُ، فقال:"أسْلِما" قلنا: لا، قال:"فإنا لا نستعينُ بالمشركين على المشركين"، فأسلمْنا، وشهِدنا مع رسول الله ﷺ، فقتلتُ رجلًا وضربَني الرجلُ ضربةً، فتزوجتُ ابنتَه، فكانت تقول: لا عَدِمْتُ رجلًا وَشَّحَك هذا الوِشاحَ، فقلت: لا عَدِمْتِ رجلًا عجَّل أباكِ إلى النار (1) .
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه. وخُبيب بن عبد الرحمن بن الأسود بن حارثة (2) جدُّه صحابي معروف. وله شاهد عن أبي حُميد الساعدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2563 - وجد خبيب بن أسود بن حارثة صحابي
هذا حديث صحيح، ولم يُخرجاه. وخُبيب بن عبد الرحمن بن الأسود بن حارثة (2) جدُّه صحابي معروف. وله شاهد عن أبي حُميد الساعدي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2563 - وجد خبيب بن أسود بن حارثة صحابي
خبیب بن عبدالرحمن اپنے والد اور وہ اپنے دادا (خبیب بن یساف رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی غزوے کے لیے نکلے، میں اور ایک دوسرا شخص اسلام لانے سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا: ہمیں شرم آتی ہے کہ ہماری قوم تو کسی معرکے میں شریک ہو اور ہم پیچھے رہ جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام لے آؤ“، ہم نے (اس وقت) انکار کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم مشرکوں کے خلاف مشرکوں سے مدد نہیں لیتے“، پھر ہم نے اسلام قبول کر لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوے میں شریک ہوئے، وہاں میں نے ایک شخص کو قتل کیا اور اس نے مجھے ایک زخم لگایا، بعد میں (اتفاق سے) میں نے اسی کی بیٹی سے نکاح کر لیا، وہ اکثر کہا کرتی تھی: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے تمہیں یہ زخم (بطور اعزاز) پہنایا ہو، تو میں کہتا: میں نے ایسا شخص نہیں دیکھا جس نے تمہارے باپ کو تیزی سے جہنم پہنچایا ہو۔
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور خبیب بن عبدالرحمن کے دادا ایک معروف صحابی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2595]
یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور خبیب بن عبدالرحمن کے دادا ایک معروف صحابی ہیں۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2595]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،إن شاء الله. وعبد الرحمن والد خُبَيب: هو ابن خُبَيب بن إساف، ذكره ابن حبان في "الثقات"، وذُكر فيمن قتل يوم الحَرَّة.» [ترقيم الرساله 2595] [ترقيم الشركة 2578] [ترقيم العلميه 2563]
الحكم على الحديث: إسناده حسن
حدیث نمبر: 2596
أخبرني أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يوسف بن عيسى المروزي، حدثنا الفضل بن موسى السِّيْناني، عن محمد بن عمرو عن سعد (3) بن المنذر عن أبي حُميد الساعِدي، قال: خرج رسول الله ﷺ حتى إذا خَلَّف ثَنيّةَ الوَداع إذا كتيبةٌ، قال:"مَن هؤلاء؟" قالوا: بني (4) قَينُقاع، وهو رَهْط عبد الله بن سَلَام، قال:"وأسلَمُوا؟" قالوا: لا، بل هم على دينهم، قال:"قُل لهم فليَرجِعُوا، فإِنَّا لا نَستعينُ بالمشركين" (5) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2564 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2564 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (غزوے کے لیے) نکلے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ثنیۃ الوداع کو پیچھے چھوڑا تو وہاں ایک دستہ نظر آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”یہ کون لوگ ہیں؟“ صحابہ نے کہا: یہ بنو قینقاع (یہودی) ہیں جو عبداللہ بن سلام کے قبیلے سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا یہ اسلام لے آئے ہیں؟“ انہوں نے کہا: نہیں، بلکہ یہ اپنے دین پر قائم ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں کہو کہ واپس لوٹ جائیں، کیونکہ ہم مشرکوں سے مدد نہیں لیتے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2596]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن،من أجل محمد بن عمرو» [ترقيم الرساله 2596] [ترقيم الشركة 2579] [ترقيم العلميه 2564]
الحكم على الحديث: إسناده حسن