🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

110. التَّشْدِيدُ فِي بَابِ الْغُلُولِ .
مالِ غنیمت میں خیانت کے باب میں سخت وعید
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2616
حدثنا علي بن عيسى، حدثنا أحمد بن نَجْدة القرشي، حدثنا سعيد بن منصور، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثني صالح بن محمد بن زائدة، قال: دخل مَسلَمةُ أرضَ الروم، فأُتي برجل قد غَلّ، فسأل سالمًا عنه، فقال: سمعتُ أبي يحدّث عن عمر بن الخطاب، عن النبي ﷺ، قال:"إذا وجدتُم الرجلَ قد غَلَّ فأحرِقُوا مَتاعَه واضرِبُوه"، قال: فوجدنا في مَتاعِه مُصحفًا، فسُئل سالمٌ عنه، فقال: بِعْهُ وتَصدَّقُ بثمنِه (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. كتاب قَسم الفَيْء والأصلُ فيه من كتاب الله ﷿.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2584 - صحيح_x000D_ كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ_x000D_ وَالْأَصْلُ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
صالح بن محمد بن زائدہ سے روایت ہے کہ مسلمہ بن عبدالملک رومیوں کے علاقے میں داخل ہوئے، ان کے پاس ایک ایسا شخص لایا گیا جس نے مالِ غنیمت میں خیانت کی تھی، انہوں نے اس بارے میں سالم (بن عبداللہ بن عمر) سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے والد سے سنا وہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے تھے کہ: جب تم کسی ایسے شخص کو پاؤ جس نے غنیمت میں خیانت کی ہو تو اس کا سامان جلا دو اور اسے مارو، راوی کہتے ہیں: ہمیں اس کے سامان میں ایک قرآن (مصحف) ملا، سالم سے اس کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا: اسے فروخت کر دو اور اس کی قیمت صدقہ کر دو (کیونکہ قرآن جلایا نہیں جا سکتا)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2616]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف لضعف صالح بن محمد بن زائدة، فقد قال عنه البخاري فيما نقله عنه الترمذي في "جامعه" بإثر الحديث (1461): هو منكر الحديث، وقال الترمذي عن حديثه هذا: حديث غريب. قلنا: ورواه صالح بن محمد هذا بسياقة أخرى عند أبي داود (2714) من طريق أبي إسحاق الفزاري، عنه: أنهم ...» [ترقيم الرساله 2616] [ترقيم الشركة 2599] [ترقيم العلميه 2584]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف لضعف صالح بن محمد بن زائدة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں