المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
109. مَنْ قَتَلَ مُعَاهِدًا لَهُ ذِمَّةُ اللَّهِ وَذِمَّةُ رَسُولِهِ فَقَدْ خَفَرَ ذِمَّةَ اللَّهِ
جس نے کسی ایسے معاہد کو قتل کیا جس کے ذمے اللہ اور اس کے رسول کی ذمہ تھی، اس نے اللہ کی ذمہ داری کو توڑ دیا
حدیث نمبر: 2613
حدَّثَناه أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدّثنا نصر بن علي الجَهْضَمِي، حدثنا مَعْدِي بن سليمان، حدثنا ابن عَجْلان، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال:"ألا مَن قتل معاهَدًا له ذِمّةُ الله وذِمّةُ رسولِه، فقد خَفَرَ ذِمّةَ الله، ولا يَرَحْ (1) ريحَ الجنةِ، وإنَّ ريحها لتُوجدُ من مسيرةِ سبعين خَرِيفًا" (2) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2581 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2581 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی معاہدہ والے آدمی کو قتل کیا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذمہ داری میں ہے، اس نے اللہ کے عہد کو توڑا۔ اور وہ جنت کی خوشبو تک نہ پا سکے گا حالانکہ جنت کی خوشبو ستّر سال کی مسافت سے آ جاتی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2613]
حدیث نمبر: 2614
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد وبِشر بن المفضَّل، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن يحيى بن حَبّان، عن أبي عَمْرة، عن زيد بن خالد الجُهَني: أنَّ رجلًا من أصحاب النبي ﷺ تُوفي يومَ خيبر (3) فذكروا لرسول الله ﷺ، فقال:"صلُّوا على صاحبِكم"، فتغيَّر وجوهُ الناسِ لتلك، فقال:"إنَّ صاحبَكم غَلَّ في سبيل الله"، ففتَّشْنا متاعَه فوجدنا خَرَزًا من خَرَز اليهود لا يُساوي درهمين (4) . حديث صحيح على شرط الشيخين، وأظنهما لم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2582 - على شرط البخاري ومسلم وأظنهما لم يخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2582 - على شرط البخاري ومسلم وأظنهما لم يخرجاه
سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، غزوہ حنین کے موقع پر ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہو گیا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی وفات کی اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کی تم (خود ہی) نماز جنازہ پڑھ لو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس جواب سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے چہرے اُتر گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی نے اللہ کی راہ میں خیانت کی ہے، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں یہودیوں کے دو موتی ملے جس کی قیمت بمشکل دو درہم ہو گی۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے۔ اور میرا یہ خیال ہے کہ شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2614]
حدیث نمبر: 2615
أخبرنا أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا محبُوب بن موسى، أخبرنا أبو إسحاق الفَزَاري، عن عبد الله بن شَوْذَب، حدثني عامر بن عبد الواحد، عن عبد الله بن بُريدة، عن عبد الله بن عَمرو، قال: كان رسول الله ﷺ إذا أصاب غَنيمةً أمر بلالًا فنادى في الناس، فيَجيئون بغنائمِهم، فيُخمِّسُه ويَقسِمُه، فجاء رجلٌ بعد ذلك بزِمَام من شَعر، فقال: يا رسول الله، هذا فيما كنّا أصَبْناه من الغنيمة، قال:"أسمعتَ بلالًا نادى ثلاثًا؟" قال: نعم، قال:"فما مَنَعَك أن تجيءَ به؟" قال: يا رسول الله، فاعتَذَرَ، قال:"كُنْ أَنتَ تَجيءُ به يومَ القيامة، فلن أقبَلَه عنكَ" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2583 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2583 - صحيح
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کا فرمان ہے: جب مالِ غنیمت ہاتھ لگا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دے کہ لوگ تمام تر مالِ غنیمت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے کر آئیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پانچواں حصہ نکال کر تقسیم کر دیا پھر ایک شخص اس کے بعد بالوں کی بٹی ہوئی ایک رسّی لے آیا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! یہ ہمیں غنیمت میں ہاتھ لگا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم نے بلال کی آواز سنی تھی؟ انہوں نے تین مرتبہ اعلان کیا۔ اس نے کہا: جی ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو اس وقت تم یہ لے کر کیوں نہیں آئے؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! میں معذرت چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اب تو اس کو اپنے پاس ہی رکھ اور قیامت کے دن لے کر آنا میں تجھ سے بالکل قبول نہیں کروں گا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ: الْجِهَادِ/حدیث: 2615]