المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
14. لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ .
کسی کافر کے بدلے مسلمان قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی عہد والے کو اس کے عہد کے دوران
حدیث نمبر: 2656
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا رَوْح بن عُبادة وعبد الوهاب الخَفَّاف، قالا: حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى عن سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن قيس بن عُبَاد، قال: دخلتُ أنا والأشْتَرُ على عليّ بن أبي طالب يومَ الجَمَل، فقلت: هل عَهِد إليك رسولُ الله ﷺ عهدًا دون العامّة؟ فقال: لا، إلّا هذا، وأخرج من قِرابِ سيفه، فإذا فيها:"المؤمنون تَكَافأُ دماؤُهم، يَسعى بذِمَّتِهم أدناهُم، وهم يدٌ على مَن سِواهم، لا يُقتَلُ مؤمنٌ بكافر، ولا ذو عَهْدٍ في عَهْدِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1) . وله شاهد عن أبي هريرة وعمرو بن العاص، أما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2623 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1) . وله شاهد عن أبي هريرة وعمرو بن العاص، أما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2623 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
قیس بن عباد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں اور اشتر (نخعی) جنگِ جمل کے دن سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور میں نے پوچھا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عام لوگوں کے علاوہ خصوصی طور پر آپ کو کوئی وصیت فرمائی تھی؟ انہوں نے کہا: نہیں، سوائے اس تحریر کے، اور انہوں نے اپنی تلوار کی میان سے ایک صحیفہ نکالا جس میں لکھا تھا: ”تمام مومنوں کے خون (قصاص میں) برابر ہیں، ان میں سے ایک ادنیٰ شخص بھی (کسی کو) پناہ دینے کی کوشش کرے تو وہ سب کی طرف سے معتبر ہو گی، اور وہ اپنے دشمنوں کے خلاف ایک جان کی طرح (متحد) ہیں، کسی مومن کو کسی کافر کے بدلے قتل نہیں کیا جائے گا، اور نہ ہی کسی ذمی (معاہد) کو اس کے عہد کی حالت میں قتل کیا جائے گا۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2656]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2656]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح،يحيى: هو ابن سعيد القطان، وسعيد: هو ابن أبي عَروبة، والحسن: هو البصري، والأشتر المذكور: هو مالك بن الحارث النخعي.» [ترقيم الرساله 2656] [ترقيم الشركة 2639] [ترقيم العلميه 2623]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح