🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. لَا يُقْتَلُ مُؤْمِنٌ بِكَافِرٍ وَلَا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ .
کسی کافر کے بدلے مسلمان قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی عہد والے کو اس کے عہد کے دوران
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2656
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا رَوْح بن عُبادة وعبد الوهاب الخَفَّاف، قالا: حدثنا سعيد بن أبي عَرُوبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا يحيى عن سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن قيس بن عُبَاد، قال: دخلتُ أنا والأشْتَرُ على عليّ بن أبي طالب يومَ الجَمَل، فقلت: هل عَهِد إليك رسولُ الله ﷺ عهدًا دون العامّة؟ فقال: لا، إلّا هذا، وأخرج من قِرابِ سيفه، فإذا فيها:"المؤمنون تَكَافأُ دماؤُهم، يَسعى بذِمَّتِهم أدناهُم، وهم يدٌ على مَن سِواهم، لا يُقتَلُ مؤمنٌ بكافر، ولا ذو عَهْدٍ في عَهْدِه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه (1) . وله شاهد عن أبي هريرة وعمرو بن العاص، أما حديث أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2623 - على شرط البخاري ومسلم_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ
سیدنا قیس بن عبادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اور اشتر رضی اللہ عنہ جنگ جمل کے موقع پر سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پاس گئے، میں نے کہا: کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ سے کوئی خاص عہد لیا ہے جو دوسروں سے نہیں لیا؟ تو وہ کہنے لگے: نہیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تلوار کا میان نکالا، اس کے اوپر لکھا ہوا تھا تمام مومنوں کے خون ایک دوسرے کے برابر ہیں ان میں سے ادنیٰ کی بھی حفاظت کی کوشش کی جائے گی اور یہ سب اپنے غیر پر غالب ہیں، کسی کافر کے بدلے میں مسلمان کو قتل نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی عہد والے کو اس کے عہد پر قائم رہتے ہوئے قتل کیا جائے گا۔ (یہ عہد لیا تھا)۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہیں (جو کہ درج ذیل ہیں) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قَسْمِ الْفَيْءِ/حدیث: 2656]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں