🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. صِفَاتُ الْخَوَارِجِ وَحُكْمُ قَتْلِهِمْ .
خوارج کی صفات اور ان کے قتل کا حکم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2679
حدثنا أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا الأزرق بن قيس، عن شَريك بن شِهاب، قال: كنت أتمنّى أن أرى رجلًا من أصحاب رسول الله ﷺ يحدّثُني عن الخوارج، قال: فلقيتُ أبا بَرْزة في يوم عرفةَ في نفر من أصحابه، فقلت: يا أبا بَرْزة، حدِّثنا بشيءٍ سمعتَه من النبيّ ﷺ يقول في الخوارج، قال: أحدّثُك ما سمعتْ أُذناي ورأتْ عَيناي: أُتي رسول الله ﷺ بدنانيرَ من أرضٍ، فكان يَقسِمُها وعنده رجلٌ أسودُ مَطمُومُ الشعر، عليه ثوبان أبيضان، بين عينيه أثرُ السُّجود، فتعرَّض لرسول الله ﷺ، فأتاه من قِبَل وجهه، فلم يُعطِه شيئًا، فأتاه مِن قِبَل شماله، فلم يُعطِه شيئًا، فأتاه من خلفه، فقال: والله يا محمد، ما عَدلْتَ منذ اليومِ في القِسْمة، فغضب النبيُّ ﷺ فقال:"لا تَجِدُون بعدي أحدًا أعدَلَ عليكم مني" قالها ثلاثًا، ثم قال:"يخرج من قِبَل المشرق قومٌ كأنّ هديَهم هكذا، يقرؤون القرآنَ لا يجاوزُ تَراقِيَهم، يَمْرُقُون من الدِّين كما يَمرُق السهمُ من الرَّمِيَّة، ثم لا يَرجعون إليه - ووضع يده على صدره - سِيماهم التَّحليق، لا يزالون يخرُجُون حتى يخرجَ آخرُهم، فإذا رأيتُمُوهم فاقتُلُوهم - قالها حماد ثلاثًا - هم شرُّ الخَلْق والخَلِيقة - قالها حماد ثلاثًا" وقال: قال أيضًا:"لا يَرجِعون فيه" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2647 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا شریک بن شہاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میری بہت خواہش تھی کہ کسی ایسے صحابی رسول سے ملاقات کروں جو مجھے خوارج کے حوالے سے کوئی حدیث سنائے۔ چنانچہ عرفہ کے دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت میں ابوبرزہ کے ساتھ میری ملاقات ہو گئی۔ میں نے ان سے پوچھا: آپ نے خوارج کے متعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی فرمان سن رکھا ہے؟ انہوں نے جواباً کہا: (جی ہاں) میں آپ کو وہ بات سناؤں گا، جو میرے کانوں نے سنی اور آنکھوں نے دیکھی ہے۔ (ایک دفعہ) کسی علاقے سے مالِ غنیمت آیا ہوا تھا جس کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تقسیم فرما رہے تھے، آپ کے قریب کٹے ہوئے بالوں والا، کالے رنگ کا ایک آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے اوپر سفید رنگ کی دو چادریں تھیں اور اس کی پیشانی پر سجدوں کا اثر تھا، وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہی پڑا ہوا تھا۔ وہ (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کچھ نہیں دیا، وہ (دوبارہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب سے آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (پھر بھی) اس کو کچھ نہیں دیا، وہ (تیسری بار) پیچھے سے آیا اور کہنے لگا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! تو نے آج تک تقسیم میں انصاف نہیں کیا، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراض ہو کر فرمایا: میرے بعد تمہیں ایسا کوئی شخص نہیں ملے گا جو مجھ سے بڑھ کر تمہیں انصاف دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مشرق کی طرف سے کچھ لوگ ایسے پیدا ہوں گے جن کا یہی انداز ہو گا، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح تیزی سے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کی طرف (تیزی سے) نکلتا ہے پھر وہ اس (دین) کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے فرمایا: ان کی نشانی سر منڈانا ہے، وہ مسلسل ظاہر ہوتے رہیں گے حتیٰ کہ جب ان میں سب سے آخری ظاہر ہو تو جب اس کو دیکھو، وہیں مار ڈالو، حماد نے یہ بات تین مرتبہ کہی۔ وہ بدترین مخلوق، بداخلاق ہوں گے، حماد نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی اور یہ بھی کہا کہ وہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2679]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2680
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا الحسن بن علي بن بحر البَرِّي، حدثنا أبي، حدثنا هشام بن يوسف الصنعاني، عن مَعمَر، عن قَتَادة، عن أنس، أنَّ النبي ﷺ قال:"سيكون في أمتي اختِلافٌ وفُرقةٌ، وسيجيء قومٌ يُعجِبُونكم وتُعجبُهم أنفسُهم، الذين يقتلونهم أَولى بالله منهم، يُحسِنون القيلَ ويُسيئُون الفِعلَ، يَدعُون إلى الله، وليسوا مِن الله في شيء، فإذا لَقيتمُوهم فأَنِيمُوهم" قالوا: يا رسول الله، انعَتْهم لنا، قال:"آيتُهم الحَلْقُ والتَّسْبيتُ" يعني: استئصال القَصير (1) ، قال: والتَّسبِيتُ: استئصال الشَّعر (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد روى هذا الحديث الأوزاعيُّ عن قَتَادة عن أنس، وهو صحيح على شرط الشيخين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2648 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں اختلافات اور فرقہ بندیاں شروع ہو جائیں گی اور ایک ایسی قوم آئے گی جنہیں تم بہت اچھا سمجھو گے اور وہ خود اپنے آپ کو بہت اچھا سمجھیں گے جو ان کو قتل کرے گا، وہ اللہ کا مقرب ہو گا۔ وہ بہت نرم و شیریں گفتگو کریں گے لیکن بے عمل ہوں گے۔ اللہ کی طرف دعوت دیں گے لیکن اللہ کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ جب تم ان سے ملو تو ان کو (موت کی نیند) سلا دو۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی: ہمیں ان کے اوصاف بتا دیجئے! آپ نے فرمایا: ان کی نشانی حلق (سر منڈوانا) اور تسبیب یعنی جڑ سے بال اکھیڑنا ہے۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ اور یہی حدیث اوزاعی نے قتادہ کے واسطے سے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے اور یہ بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا۔ (وہ روایت درج ذیل ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2680]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں