المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
4. الْخَوَارِجُ شِرَارُ الْخَلْقِ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ .
خوارج بدترین مخلوق ہیں، خوش خبری ہے اسے جو انہیں قتل کرے
حدیث نمبر: 2681
حدَّثَناه أحمد بن عثمان البَزّاز ببغداد، حدثنا أبو إسحاق إبراهيم بن الهيثم البَلَدي، حدثنا محمد بن كثير المِصِّيصي، حدثنا الأوزاعي، عن قَتَادة، عن أنس بن مالكٍ، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"سيكون في أمتي اختِلافٌ وفُرقةٌ، قومٌ يُحسِنون القِيلَ ويُسيئون الفِعلَ، يقرؤون القرآنَ لا يُجاوزُ تَراقِيهَم، يَحقِرُ أحدُكم صلاتَه مع صَلاته، وصيامَه مع صيامه، يَمرُقون من الدِّين مُروقَ السهْم من الرَّمِيَّة، لا يرجعُ حتى يُرَدَّ السهمُ على فُوقِه، وهم شِرارُ الخلق والخليقة، طُوبَى لمن قتَلَهم وقتَلُوه، يَدعُون إلى كتاب الله، وليسُوا منه في شيءٍ، مَن قاتلهم كان أَولى بالله منهم" قالوا: يا رسول الله، ما سِيماهُم؟ قال:"التَّحْلِيق" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2649 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب میری امت میں اختلاف اور فرقہ بندی ہو گی، ایسے لوگ ہوں گے جو باتیں اچھی کریں گے اور عمل برے کریں گے، وہ قرآن پڑھیں گے جو ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، تم میں سے کوئی اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں اور اپنے روزے کو ان کے روزوں کے مقابلے میں ہیچ (کمتر) سمجھے گا، وہ دین سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے پار نکل جاتا ہے اور وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک کہ تیر (خود بخود) اپنے چِلے (کمان کی ڈوری) پر واپس نہ آ جائے (یعنی کبھی واپس نہیں آئیں گے)۔ وہ مخلوق اور فطرت میں بدترین لوگ ہیں، خوشخبری ہے اس کے لیے جو انہیں قتل کرے اور جسے وہ شہید کر دیں۔ وہ اللہ کی کتاب کی طرف بلائیں گے حالانکہ ان کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، جو ان سے لڑے گا وہ اللہ کے ہاں ان سے زیادہ بہتر ہو گا۔“ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ان کی علامت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سر منڈوانا۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2681]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2681] [ترقيم الشركة 2664] [ترقيم العلميه 2649]
الحكم على الحديث: إسناده صحيح