🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. سَيَكُونُ فِي أُمَّتِي اخْتِلَافٌ وَفُرْقَةٌ .
میری امت میں اختلاف اور تفرقہ پیدا ہو گا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2682
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا بِشْر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني قَتَادة بن دِعامة، عن أنس بن مالك وأبي سعيد الخُدْري، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"سيكونُ في أمتي اختِلافٌ وفُرقةٌ، قومٌ يُحسِنون القِيل ويُسيئون الفِعل، يقرؤون القرآنَ لا يجاوِزُ تَراقيَهم، يَمرُقون من الدِّين مُروقَ السهم من الرَّمِيَّة، لا يَرجِعون حتى يَرْتدَّ على فُوقِه، شرُّ الخلق والخَلِيقة، طُوبَى لمن قتَلَهم وقتَلُوه، يَدعُون إلى كتاب الله، وليسوا منه في شيءٍ، من قاتلَهم كان أَولى بالله منهم" قالوا: يا رسول الله، فما سِيْماهم؟ قال:"التَّحْليق" (1) . لم يسمع هذا الحديث قَتَادة من أبي سعيد الخُدْري، إنما سمعه من أبي المتوكِّل الناجِيّ عن أبي سعيد:
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ اور ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب میری امت میں اختلافات اور فرقہ واریت ہو گی، ان میں ایک ایسی قوم بھی ہو گی جو گفتار کے غازی ہوں گے لیکن بدکردار ہوں گے، وہ قرآن پڑھیں گے لیکن قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے اور وہ دین کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے جیسا کہ تیر اپنے سوفار کی طرف لوٹ کر نہیں آتا وہ بدترین مخلوق ہوں گے، اس شخص کے لیے خوشخبری ہے جو ان کو قتل کرے گا اور جس کو وہ قتل کریں گے۔ یہ لوگوں کو کتاب اللہ کی دعوت دیں گے لیکن اس کے ساتھ ان کا کوئی تعلق نہیں ہو گا۔ جو ان کو قتل کرے گا وہ سب سے زیادہ اللہ کا مقرب ہو گا۔ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے) پوچھا: یا رسول اللہ! ان کی نشانی کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سر منڈانا ۔ ٭٭ قتادہ نے یہ حدیث ابوسعید سے بلاواسطہ نہیں سنی بلکہ ابوالمتوکل کے واسطے سے سنی ہے۔ (جیسا کہ درج ذیل روایت سے واضح ہے) [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2682]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2683
أخبرَنيهِ أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه بالطابَرَان، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي بهَراةَ وعُبيد بن عبد الواحد بن شَريك ببغداد، قالا: حدثنا أبو الجُماهر محمد بن عثمان التَّنُوخي، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن عليّ الناجِيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، عن النبي ﷺ قال:"مَثَلُهم مَثَل رجل يَرمي رَميّةً، فيَتَوخّى السهمَ حيث وقعَ، فأخذه فنَظَر إلى فُوقِه فلم يَرَ به دسَمًا ولا دمًا، ثم نظر إلى رِيشه فلم يَرَ به دسَمًا ولا دمًا، ثم نظر إلى نَصْلِه فلم يَرَ به دسمًا ولا دمًا، كما لم يتعلَّقْ به شيءٌ من الدسَمِ والدمِ، كذلك لم يتعلَّقْ هؤلاء بشيءٍ من الإسلام" (1) .
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2651 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو تیر پھینکے، جہاں پر تیر گرے، یہ اس کو وہاں سے ڈھونڈ کر اٹھا لے اور اس کے سوفار کی طرف دیکھے لیکن اس پر گوشت، چربی اور خون وغیرہ نہ لگا ہو پھر وہ اس کے پر کی طرف دیکھے لیکن اس پر بھی گوشت، چربی یا خون وغیرہ نہ نظر آئے، پھر اس کے پھل کو دیکھے لیکن اس پر بھی گوشت، چربی یا خون وغیرہ نظر نہ آئے، جیسا کہ اس پر گوشت، چربی یا خون لگا ہی نہ ہو، اسی طرح یہ لوگ بھی اسلام کی کسی چیز کے ساتھ کسی قسم کا تعلق نہیں رکھتے ہوں گے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2683]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2684
أخبرنا إسحاق بن محمد بن خالد الهاشمي بالكوفة، حدثنا محمد بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا مالك بن إسماعيل النَّهْدي، أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن مسلم الأَعْور، عن حَبَّة (1) العُرَني، قال: دخلتُ أنا وأبو سعيد الخُدْري على حُذيفة، فقلنا: يا أبا عبد الله، حدِّثنا ما سمعتَ من رسول الله ﷺ في الفتنة، قال حذيفةُ: قال رسول الله ﷺ:"دُورُوا مع كتابِ الله حيثُما دارَ"، فقلنا: فإذا اختلف الناسُ فمع من نكون؟ فقال: انظُروا الفئةَ التي فيها ابنُ سُمَيّة، فالْزَمُوها، فإنه يَدُور مع كتابِ الله، قال: فقلت: ومَن ابنُ سُمَيّة؟ قال: أوَما تعرفُه؟ قلت: بَيِّنه لي، قال: عمّار بن ياسر، سمعتُ رسول الله ﷺ يقول لعمار:"يا أبا اليَقْظانِ، لن تموتَ حتى تَقتُلَك الفئةُ الباغِيةُ عن الطريق" (2) .
هذا حديث له طرق بأسانيد صحيحة، أخرجا بعضها، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2652 - مسلم بن كيسان تركه أحمد وابن معين
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کتاب اللہ پر مکمل طور پر عمل پیرا رہو۔ ہم نے عرض کی: جب لوگوں میں اختلاف واقع ہو جائے تو ہم کس کا ساتھ دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس جماعت میں ابن سمیہ ہو، تم اس کا ساتھ دینا۔ کیونکہ وہ قرآن کے احکام پر عمل پیرا ہے (حذیفہ) فرماتے ہیں: میں نے پوچھا: ابن سمیہ کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس کو نہیں پہچانتے ہو؟ میں نے کہا: آپ ارشاد فرما دیجئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عمار بن یاسر ۔ میں نے عمار بن یاسر کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان سنا ہوا ہے اے ابوالیقظان! ایک باغی گروہ کے تجھے قتل کرنے سے تیری موت واقع ہو گی۔ ٭٭ اس حدیث کی متعدد صحیح سندیں ہیں جن میں سے بعض کو شیخین نے نقل بھی کیا ہے لیکن اس حدیث کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2684]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2685
حدثنا أبو أحمد الحسين بن علي التميمي، حدثنا أبو القاسم عبد الله بن محمد البَغَوي، حدثنا أبو كامل الجَحْدَري، حدثنا عبد العزيز بن المختار، حدثنا خالد الحَذّاء، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنه قال له ولابنِه عليّ: انطلِقا إلى أبي سعيد فاسمَعا منه حديثَه في شأن الخوارج، فانطلقا فإذا هو في حائطٍ له يُصلِح، فلما رآنا أخذ رداءه ثم احتَبَى، ثم أنشأ يحدِّثنا حتى علا ذِكرُه في المسجد (1) ، فقال: كنا نَحمِل لَبِنةً لَبِنةً، وعمارٌ يحمِل لَبِنتَين لَبِنتَين، فرآه النبي ﷺ، فجعل يَنفُضُ الترابَ عن رأسِه ويقول:"يا عمارُ، ألا تحملُ لَبِنةً لَبِنةً كما يحملُ أصحابُك؟" قال: إني أريد الأجرَ عند الله، قال: فجعل يَنفُض عنه الترابَ، ويقول:"وَيْحَ عمارٍ، تقتُلُه الفئةُ الباغِيةُ" قال: ويقولُ عمار: أعوذُ بالله من الفِتَن (2)
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه بهذه السّياقة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2653 - على شرط البخاري
سیدنا عکرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھے اور اپنے بیٹے علی سے کہا: تم دونوں ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس چلے جاؤ اور ان سے خوارج کے متعلق کوئی حدیث سن کر آؤ۔ ہم دونوں چل دیئے، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اپنے باغ میں کام کر رہے تھے۔ جب انہوں نے ہمیں دیکھا تو اپنی چادر درست کر کے ہم سے باتیں کرنے لگ گئے حتیٰ کہ مسجد کے متعلق بات چل نکلی، وہ کہنے لگے: ہم ایک ایک اینٹ اٹھا رہے تھے جبکہ عمار دو دو اینٹیں اٹھا رہے تھے، جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو ان کے سر سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولے: اے عمار! اپنے دوسرے ساتھیوں کی طرح تم بھی ایک ایک اینٹ کیوں نہیں اٹھا رہے؟ عمار نے جواباً کہا: میں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اجر کا طلبگار ہوں۔ (ابوسعید) فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (پھر ان کے سر سے) مٹی جھاڑنے لگ گئے اور فرمایا: اے عمار! افسوس ہے کہ تجھے ایک باغی گروہ قتل کر دے گا۔ ابوعمار بولے: میں فتنوں سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2685]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2686
أخبرنا أبو الحسين أحمد بن عثمان بن يحيى المقرئ ببغداد، حدثنا أبو جعفر محمد بن الحسين بن موسى الحُنيني، حدثنا أبو حذيفة النَّهْدي، حدثنا عِكْرمة بن عمار، عن شدّاد بن عبد الله أبي عمار، قال: شهدتُ أبا أمامة الباهِلي وهو واقف على رأس الحَرُورية عند باب دمشق، وهو يقول:"كلابُ أهل النار - قالها ثلاثًا - خيرُ قَتْلى من قَتَلوا" قال: ودَمَعَت عيناه، فقال له رجل: يا أبا أُمامة، أرأيت قولَك: هؤلاء كلابُ النار، أشيء سمعتَه من رسول الله ﷺ، أو رأي رأيتَه في نفسك؟ قال: إني إذًا لجريءٌ، لو لم أسمعْه من رسول الله ﷺ إلّا مرّة أو مرّتين أو ثلاثًا - وعدّ سبع مرات - ما حدّثْتُكموه، قال له رجل: إني رأيتك قد دَمَعت عيناك، قال: إنهم لما كانوا مؤمنين وكفروا بعد إيمانهم، ثم قرأ: ﴿وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ﴾ الآية [آل عمران: 105] ، فهي لهم مرتين (1) .
سیدنا شداد بن عبداللہ ابی عمار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے ابوامامہ کو باب دمشق کے قریب خوارج کے سروں پر کھڑے دیکھا۔ وہ کہہ رہے تھے یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ بات تین مرتبہ کہی۔ سب سے اچھا مقتول وہ ہے جس کو انہوں نے مار ڈالا یہ بات کرتے ہوئے وہ آبدیدہ ہو گئے، ایک شخص نے ان سے کہا: تم اپنی رائے سے ان کو دوزخ کے کتے کہہ رہے ہو یا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے متعلق کوئی ارشاد سن رکھا ہے؟ (ابوامامہ) بولے: اگر میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بار، دو بار، تین بار یا سات بار (سے کم مرتبہ) سنا ہوتا تو میں بہت بڑی جسارت کرتا اور میں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔ ایک شخص نے ان سے کہا میں آپ کو دیکھ رہا ہوں کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: یہ لوگ پہلے مسلمان تھے۔ لیکن ایمان قبول کرنے کے بعد یہ لوگ دوبارہ کافر ہو گئے ہیں، پھر یہ آیت تلاوت کی: (وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ تَفَرَّقُوْا وَاخْتَلَفُوْا مِنْ بَعْدِ مَا جَآئَھُمُ الْبَیِّنٰتُ) (آل عمران: 105) اور ان جیسے نہ ہونا جو آپس میں پھٹ گئے اور ان میں پھوٹ پڑ گئی بعد اس کے کہ روشن نشانیاں انہیں آ چکی تھیں ۔۔ پس یہ (آیت) انہی کے لیے ہے (یہ بات انہوں نے) دو مرتبہ (کہی)۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2686]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2687
أخبرنا أبو محمد بن زياد، حدثنا محمد بن إسحاق بن خُزيمة، حدثنا أحمد بن يوسف السُّلمي، حدثنا النضر بن محمد، حدثنا عِكْرمة بن عمار، حدثنا شدّاد بن عبد الله أبو عمّار، قال: سمعت أبا أمامة، وهو واقف على رؤوس الحَرُورية على باب حمص أو باب دمشق، وهو يقول: كلابُ النار، كلابُ النار، شرُّ قَتلى تحت ظِلّ السماء، خيرُ قتلى مَن قتلوهُم؛ ثم ساق الحديث نحو حديث أبي حذيفة (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وحدَّثَ مسلم في"المسند الصحيح" عن نصر بن علي، بن عمر بن يونس بن القاسم، عن عِكْرمة بن عمار، عن شدّاد أبي عمار، عن أبي أمامة، عن النبي ﷺ قال:"يقول الله: يا ابنَ آدم، إنك إن تَبذُلِ الفضلَ" الحديث (2) . وإنما شرحنا القولَ فيه، لأنَّ الغالب على هذا المتن طرق حديث أبي غالب عن أبي أمامة، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2654 - صحيح على شرط مسلم
سیدنا شداد بن عبداللہ ابوعمار رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے ابوامامہ کو باب حمص یا باب دمشق کے پاس خوارج کے سروں پر کھڑے یہ کہتے سنا ہے: یہ دوزخ کے کتے ہیں، یہ دوزخ کے کتے ہیں، یہ آسمان کے نیچے سب سے بُرے مقتول ہیں اور سب سے اچھا مقتول وہ ہے جس کو انہوں نے قتل کیا۔ پھر ابوحذیفہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اَلْمُسْنَدُ الصَّحِیْحُ، میں نَصْرُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ عُمَرُ بْنُ یُوْنُسَ بْنِ الْقَاسِمِ کے ذریعے عکرمہ بن عمار سے روایت کی ہے کہ شداد ابوعمار نے ابوامامہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل فرمایا ہے: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! تو اضافی چیزیں خرچ کرتا ہے۔ اس کے بعد پوری حدیث بیان کی۔ اور ہم نے اس سلسلے میں تفصیلی کلام اس لیے کیا ہے کہ اس متن پر ابوغالب کی ابوامامہ سے روایت کردہ سند غالب ہے۔ لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ قِتَالِ أَهْلِ الْبَغْيِ وَهُوَ آخِرُ الْجِهَادِ/حدیث: 2687]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں