المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
11. كَرَمُ الْمُؤْمِنِ دِينُهُ وَمُرُوَّتُهُ عَقْلُهُ وَحَسَبُهُ خُلُقُهُ .
مومن کی بزرگی اس کا دین ہے، اس کی شرافت اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کا اخلاق ہے
حدیث نمبر: 2724
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحَسن بن علي بن زياد، حدثنا إبراهيم بن موسى الفرّاء، حدثنا مسلم بن خالد، حدثنا العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"كَرَمُ المؤمن دينُه، ومُروءتُه عقلُه، وحَسَبُه خُلُقُه" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2691 - الزنجي ضعيف
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2691 - الزنجي ضعيف
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کا کرم اس کا دین ہے، اس کی مروت اس کی عقل ہے اور اس کا حسب اس کے اخلاق ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2724]
حدیث نمبر: 2725
أخبرنا أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم بن يونس العَصّار بمصر، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثني الليث، حدثني عبد الرحمن ابن خالد - هو ابن مُسافِر - عن ابن شِهاب، عن عُرْوة بن الزُّبَير وعَمْرة بنت عبد الرحمن، عن عائشة: أنَّ أبا حذيفة بن عُتْبة بن ربيعة بن عبد شمس - وكان ممَّن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ تبنَّى سالمًا وأنكَحَه ابنةَ أخيه هندَ بنت الوليد بن عُتبة بن ربيعة بن عبد شمس - وكان ممَّن شهد بدرًا مع رسول الله ﷺ (1) وهو مولًى لامرأة من الأنصار، فتبنّاهُ كما تبنَّى رسولُ الله ﷺ زيدًا، فكان من تبنّى رجلًا في الجاهلية، دعاه الناس إليه، ووَرِثَ من ميراثه، حتى أنزل الله في ذلك: ﴿ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ﴾ [الأحزاب: 5] ، فرُدُّوا إلى آبائهم، فمن لم يُعلَم له أبٌ، كان مولاهُ أو أخاهُ في الدِّين. قالت عائشة: وإِنَّ سَهْلة بنت سُهيل بن عمرو القرشي ثم العامري - وكانت تحت أبي حذيفة بن عُتبة بن ربيعة - جاءت رسولَ الله ﷺ حين أنزل الله ذلك، فقالت: يا رسول الله، إنا كنا نَرى سالمًا ولدًا - وكان رسول الله ﷺ قد آواه، فكان يأوي معه ومع أبي حذيفة في بيت واحد - ويَراني وأنا فُضُلٌ، وقد أُنزِلَ فيهم ما قد علمتَ، فما ترى في شأنه يا رسولَ الله؟ فقال لها رسول الله ﷺ:"أرضِعيهِ"، فأرضعته خمسَ رَضَعات، فحَرُم بهنّ، وكان بمنزلة ولدِها من الرَّضاعة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه أنَّ الشَّريفة تَزوَّجُ من كل مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2692 - على شرط البخاري
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه، وفيه أنَّ الشَّريفة تَزوَّجُ من كل مسلم.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2692 - على شرط البخاري
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں، ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بدری صحابہ رضی اللہ عنہم میں سے ہیں، انہوں نے ایک انصاری خاتون کے غلام ” سالم “ کو منہ بولا بیٹا بنایا اور اپنے بھائی ولید بن عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی ہند کے ساتھ اس کا نکاح کر دیا۔ جیسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید کو منہ بولا بیٹا بنایا تھا اسی طرح حذیفہ نے بھی سالم کو منہ بولا بیٹا بنا لیا۔ اور ان لوگوں کی عادت یہ تھی لوگ اس بیٹے کو اس متبنی (جس نے بیٹا بنایا ہے) کے نسب سے پکارا کرتے تھے اور اس کی وراثت سے حصہ بھی دیتے تھے۔ پھر یہ آیت نازل ہو گئی: (اُدْعُوْھُمْ لِاٰبَآئِھِمْ ھُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰہِ فَاِنْ لَّمْ تَعْلَمُوْآ ٰابَآئَ ھُمْ فَاِخْوَانُکُمْ فِی الدِّیْنِ وَ مَوَالِیْکُمْ) (الاحزاب: 5) ” انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے پھر اگر تمہیں ان کے باپ معلوم نہ ہوں تو دین میں تمہارے بھائی ہیں اور بشریت میں تمہارے چچازاد “۔ تو لوگوں نے ان کو ان کے باپ کے ناموں سے پکارنا شروع کر دیا اور جس کے باپ کا پتہ نہ چل سکے تو پھر اس کا آقا یا دینی بھائی زیادہ مستحق ہیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سہیل بن عمرو القرشی عامری کی بیٹی سہلہ، ابوحذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ کے نکاح میں تھیں۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: یا رسول اللہ! ہم تو سالم کو بچہ سمجھتے ہیں، اور رسول اللہ نے اپنے منہ بولے بیٹے کو اپنے گھر میں رہائش دی تھی اسی طرح یہ بھی ابوحذیفہ کے ہمراہ انہی کے گھر میں رہتے ہیں۔ اور میں گھر کے کپڑوں میں ہوتی ہوں اور مجھ پر اس کی نظر پڑتی ہے۔ اور اب تو قرآن کریم کی آیت بھی نازل ہو چکی ہے۔ جس کو آپ باخوبی جانتے ہیں۔ تو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس سلسلے میں کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مشورہ دیا کہ تو اس کو دودھ پلا دے۔ سہلہ نے اس کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دیا۔ تو وہ ان پر حرام ہو گیا، اس کے بعد وہ اس کے رضاعی بیٹوں کی طرح ہو گیا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ اور اس میں یہ ہے ” شریف عورت کا ہر مسلمان سے نکاح ہو سکتا ہے “۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2725]
حدیث نمبر: 2726
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أَسَد بن موسى، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن محمد بن عمرو، عن أبي سَلَمة، عن أبي هريرة، أنَّ رسول الله ﷺ قال: يا بني بَيَاضةَ، أَنكِحُوا أبا هندٍ وانكِحُوا إليه". قال: وكان حجّامًا (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2693 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2693 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے بنی بیاضہ: تم ابوہند کو رشتہ دیا کرو اور ان سے لیا بھی کرو۔ (ابوہریرہ رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں، وہ حجام تھا۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2726]