🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

15. أَلَا لَا يَنْكِحِ الزَّانِي الْمَجْلُودُ إِلَّا مِثْلَهُ
خبردار! حد لگے ہوئے زانی کا نکاح اسی جیسی عورت سے ہوگا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2733
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الشَّيباني، حدثنا علي بنُ الحسن الهِلالي، حدثنا أبو مَعمَر، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، عن حَبيب المعلِّم، عن عمرو بن شعيب. قال أبو مَعمَر: وقد حدَّثَناه حَبيبٌ المعلّم، عن عمرو بن شعيب، عن سعيد المقبُري، عن أبي هريرة قال: قال رسول الله ﷺ:"لا يَنكِحُ الزاني المجلودُ إلّا مثلَه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2700 - صحيح
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: خبردار! وہ زانی جس کو کوڑے مارے گئے ہوں وہ اپنے ہی جیسی سے نکاح کرے۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2733]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2734
حدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى بن سعيد، حدثني عبيد الله بن الأخْنَس، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده: أنَّ مَرثَد بن أبي مَرثَد الغَنَوي كان يَحمِل الأُسارى بمكة، وكان بمكة بَغِيٌّ يقال لها: عَنَاقٌ، وكانت صديقتَه، قال: فجئتُ النبيَّ ﷺ فقلتُ: يا رسولَ الله، أنكِحُ عَنَاقًا؟ قال: فسكت عنّي، فنزلت: ﴿الزَّانِي لَا يَنْكِحُ إِلَّا زَانِيَةً أَوْ مُشْرِكَةً وَالزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ وَحُرِّمَ ذَلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ﴾ [النور: 3] ، فقرأه عليَّ رسول الله ﷺ، وقال:"لا تَنكِحْها" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2701 - صحيح
سیدنا عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں: مرثد بن ابی مرثد غنوی قیدیوں کو مکہ تک لے جایا کرتے تھے اور مکہ میں طوائفہ تھی جس کو عناق کہا جاتا تھا، وہ اس کی جان پہچان والی تھی۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! میں عناق سے نکاح کر لوں؟ (راوی) فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے اور یہ آیت نازل ہو گئی: (اَلزَّانِیْ لَا یَنْکِحُ اِلاَّ زَانِیَۃً اَوْ مُشْرِکَۃًز وَّ الزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُھَآ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ وَ حُرِّمَ ذٰلِکَ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ) (النور: 3) بدکار مرد نکاح نہ کرے مگر بدکار عورت یا شرک والی سے اور بدکار عورت سے نکاح نہ کرے مگر بدکار مرد یا مشرک اور یہ کام ایمان والوں پر حرام ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت سُنا کر فرمایا: اس سے نکاح مت کرنا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2734]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں