🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. تُسْتَأْمَرُ الْيَتِيمَةُ فِي نَفْسِهَا
یتیم لڑکی سے اس کے معاملے میں اجازت لی جائے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2735
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله الزاهد، حدثنا أحمد بن مِهْران، حدثنا عُبيد الله بن موسى، حدثنا يونس بن أبي إسحاق، عن أبي بُردة، عن أبي موسى سَمِعَ النبيَّ ﷺ يقول:"تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن كَرِهَتْ، فلا كُرْهَ عليها" (2) .
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهد بإسناد صحيح عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2702 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یتیم لڑکی سے اس کی ذات کے بارے میں مشورہ کیا جائے، اگر وہ خاموش رہے تو یہ رضامندی کی علامت ہے اور اگر وہ ناپسند کرے تو اس پر کوئی جبر نہیں کیا جا سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2735]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2736
أخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا محمد بن عمرو. وحدثنا أبو الوليد الفقيه، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا عمرو بن علي، حدثنا المعتمِر، قال: سمعت محمد بن عمرو يُحدّث عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، أنَّ النبي ﷺ قال:"تُستأمَرُ اليتيمةُ في نفسها، فإن سَكَتَت فهو رضاها، وإن أبَتْ فلا جَوازَ عليها" (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یتیم لڑکی سے (نکاح کے معاملے میں) اس کی رائے لی جائے گی، پس اگر وہ خاموش رہے تو یہ اس کی رضا مندی ہے، اور اگر وہ انکار کر دے تو اس پر زبردستی جائز نہیں ہے۔ امام حاکم فرماتے ہیں: یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، مگر شیخین نے اسے تخریج نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2736]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں