🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. اخْتِلَافُ أَبِي بَكْرٍ وَرَبِيعَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ
سیدنا ابو بکر اور سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہما کا کھجور کے خوشے کے بارے میں اختلاف
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2752
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي ومحمد بن غالب قالا: حدثنا عفّانُ بن مسلم، حدثنا المبارَكُ بن فَضَالة، عن أبي عِمران الجَوْني، عن رَبِيعة بن كعب الأسلميّ، قال: كنت أخدُمُ النبيَّ ﷺ، فقال لي النبيُّ ﷺ:"يا ربيعةُ، ألا تتزوّجُ؟" قال: فقلت: لا والله يا رسول الله، ما أُريد أن أتزوّج، ما عندي ما يُقيم المرأةَ، وما أُحب أن يَشغَلَني عنك شيء، قال: فأعرَضَ عنّي، ثم قال لي بعد ذلك:"يا ربيعةُ، ألا تتزوّجُ؟" قال: فقلتُ: لا واللهِ يا رسول الله، ما أُريد أن أتزوج، وما عندي ما يُقيم المرأة، وما أُحبُّ أن يَشْغَلَني عنك شيءٌ، فأعرضَ عنّي، قال: ثم راجعتُ نفسي، فقلتُ: والله يا رسول الله، أنت أعلمُ بما يُصلِحُني في الدنيا والآخرة، قال: وأنا أقولُ في نفسي: لئن قال لي الثالثةَ، لأقولَنّ: نعم، قال: فقال لي الثالثةَ:"يا ربيعةُ، ألا تتزوّجُ؟" قال: فقلت: بلى يا رسولَ الله، مُرْني بما شئتَ - أو بما أحببتَ - قال:"انطلِقْ إلى آل فلان - إلى حيٍّ من الأنصار، فيهم تَرَاخي عن رسول الله ﷺ فقل لهم: إنَّ رسول الله يُقرئُكم السلامَ، ويأمرُكم أن تُزوِّجُوا ربيعةَ فلانةَ"؛ امرأةً منهم، قال: فأتيتُهم، فقلت لهم ذلك، فقالوا: مرحبًا برسولِ الله ﷺ، وبرسولِ رسولِ الله ﷺ، والله لا يَرجِعُ رسولُ رسولِ الله ﷺ إلَّا بحاجتِه، قال: فأكرَمُوني وزوَّجوني وألْطَفُوني، ولم يسألوني البيّنةَ، فرجعتُ حزينًا، فقال رسول الله ﷺ:"ما بالُك؟" فقلت: يا رسول الله، أتيتُ قومًا كِرامًا، فزوَّجُوني وأكرَمُونِي وألْطَفُوني، ولم يسألوني البيّنةَ، فمن أين لي الصَّدَاقُ؟ فقال رسول الله ﷺ لبُريدة الأسلمي:"يا بُرَيدةُ، اجمَعُوا له وزنَ نَواةٍ من ذهبٍ" قال: فجَمَعُوا له وزنَ نَوَاةٍ من ذهب، فقال النبي ﷺ:"اذهبْ بهذا إليهم، وقُل: هذا صَدَاقُها" فذهبت به إليهم، فقلتُ: هذا صَداقُها، قال: فقالوا: كثيرٌ طيّب، فقَبِلوا ورَضُوا به، قال: فقلتُ: مِن أين أُولِمُ؟ قال: فقال:"يا بُريدةُ، اجمَعُوا له في شاةٍ" قال: فجمَعُوا لي في كبشٍ فَطِيم سَمِين، قال: وقال النبي ﷺ:"اذهبْ إلى عائشة، فقل: انظُري إلى المِكتَل الذي فيه الطعامُ فابعَثي به" قال: فأتيتُ عائشة فقلت لها ذاك، فقالت: ها هو ذاك المِكتَلُ فيه سبعةُ آصُعٍ من شَعير، والله إنْ أصبحَ لنا طعامٌ غيرُه، قال: فأخذتُه، فجئتُ به إلى النبي ﷺ، فقال:"اذهب بها إليهم، فقل: ليُصلَحْ هذا عندكم خُبزًا" قال: فذهبتُ به وبالكبش، فقال: فقَبِلوا الطعامَ، وقالوا: اكفُونا أنتُم الكبشَ، قال: وجاء ناسٌ من أسلمَ، فذَبَحُوا وسَلَخوا وطبَخوا، قال: فأصبح عندنا خبز ولحم، فأولَمتُ ودعوتُ رسولَ الله ﷺ. قال: وأعطاني رسول الله ﷺ أرضًا وأعطى أبا بكر أرضًا، فاختلفنا في عَذْقِ نَخْلةٍ، قال: وجاءت الدُّنيا، فقال أبو بكر: هذه في حَدِّي، وقلت: لا، بل هي في حَدِّي، قال: فقال لي أبو بكر كلمةً كرهتُها ونَدِمَ عليها، قال: فقال لي: يا ربيعةُ، قُل لي مثلَ ما قلتُ لك، حتى يكونَ قِصاصًا، قال فقلت: لا والله، ما أنا بقائل لك إلّا خيرًا، قال: والله لتَقولَنَّ لي كما قلتُ لك، حتى يكون قِصاصًا، وإلّا استعدَيتُ برسول الله ﷺ، قال: فقلتُ: لا والله، ما أنا بقائل لك إلّا خيرًا، قال: فرَفَضَ أبو بكر الأرضَ، وأتى النبيَّ ﷺ، فجعلتُ أتلُوه، فقال أناس من أسلمَ: يرحمُ الله أبا بكر، هو الذي قال ما قال، ويَستعْدِي عليك! قال: فقلت: أتدرُون مَن هذا؟! هذا أبو بكر، هذا ثاني اثنين، هذا ذو شَيْبةِ المسلمين، إياكم، لا يلتفتُ فيراكُم تنصُرونني عليه فيغضبَ، فيأتيَ رسولَ الله ﷺ، فيغضبَ لغضبه، فيغضبَ الله لغضبهما، فيَهلِكَ ربيعةُ، قال: فرجَعُوا عني، وانطلقتُ أتلُوه حتَّى أتى النبيَّ ﷺ، فقصَّ عليه الذي كان، قال: فقال رسول الله ﷺ:"يا ربيعةُ، ما لكَ والصِّدِّيقِ؟" قال: فقلتُ مثلَ ما قال: كان كذا وكذا، فقال لي: قُلْ مثلَ ما قلتُ لك، فأبيتُ أن أقولَ له، فقال رسول الله ﷺ:"أجلْ، فلا تَقُلْ له مثلَ ما قال، ولكن قل: يَغفرُ اللهُ لك يا أبا بكر"، قال: فولّى أبو بكر الصديق وهو يبكي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2718 - لم يحتج مسلم بمبارك_x000D_ قَالَ: وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا، وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ، قَالَ: وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ فِي حَدِّي وَقُلْتُ: لَا بَلْ هِيَ فِي حَدِّي. قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدِمَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ قُلْ لِي مِثْلَ مَا قُلْتُ لَكَ، حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِقَائِلٍ لَكَ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: وَاللَّهِ لَتَقُولُنَّ لِي كَمَا قُلْتُ لَكَ، حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، وَإِلَّا اسْتَعْدَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِقَائِلٍ لَكَ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَرَفَضَ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْضَ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَتْلُوَهُ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ هُوَ الَّذِي قَالَ مَا قَالَ، وَيَسْتَعْدِي عَلَيْكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَ
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ربیعہ! کیا تم نکاح نہیں کرو گے؟ میں نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول، میں نکاح کا ارادہ نہیں رکھتا، میرے پاس ایسا کچھ نہیں جس سے عورت کے اخراجات پورے کر سکوں اور میں یہ بھی پسند نہیں کرتا کہ کوئی چیز مجھے آپ کی خدمت سے دور کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے اعراض فرمایا (خاموش رہے)، پھر کچھ عرصے بعد دوبارہ فرمایا: اے ربیعہ! کیا تم نکاح نہیں کرو گے؟ میں نے پھر وہی جواب دیا کہ اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول، میں نکاح کا ارادہ نہیں رکھتا، نہ میرے پاس اخراجات ہیں اور نہ ہی میں آپ سے دور ہونا چاہتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اعراض فرمایا۔ ربیعہ کہتے ہیں: پھر میں نے اپنے جی میں سوچا اور کہا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول، آپ بہتر جانتے ہیں کہ دنیا اور آخرت میں میرے لیے کیا بہتر ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار پوچھا تو میں ہاں کہہ دوں گا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری بار فرمایا: اے ربیعہ! کیا تم نکاح نہیں کرو گے؟ تو میں نے عرض کیا: کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ مجھے جو چاہیں حکم دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں خاندان کے پاس جاؤ - جو انصار کا ایک قبیلہ تھا جن کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دوری تھی - اور ان سے کہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں سلام کہا ہے اور حکم دیا ہے کہ تم ربیعہ کا نکاح اپنی فلاں عورت سے کر دو۔ ربیعہ کہتے ہیں: میں ان کے پاس گیا اور انہیں یہ بات بتائی، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے بھیجے ہوئے قاصد کو خوش آمدید، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد اپنی ضرورت پوری کیے بغیر واپس نہیں جائے گا۔ انہوں نے میری عزت افزائی کی، میرا نکاح کر دیا اور مجھ پر مہربانی کی، اور مجھ سے کوئی ثبوت بھی نہیں مانگا۔ میں غمگین ہو کر واپس لوٹا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: تمہیں کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں ایک باعزت قوم کے پاس گیا، انہوں نے میرا نکاح کر دیا، میری عزت کی اور مجھ پر مہربانی فرمائی اور مجھ سے ثبوت نہیں مانگا، مگر میرے پاس مہر دینے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریدہ اسلمی سے فرمایا: اے بریدہ! ان کے لیے کھجور کی گٹھلی کے برابر سونا جمع کرو۔ پس انہوں نے اتنا سونا جمع کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لے کر ان کے پاس جاؤ اور کہو: یہ اس کا مہر ہے۔ میں وہ لے کر گیا تو انہوں نے کہا: یہ بہت ہے اور پاکیزہ ہے، انہوں نے اسے قبول کیا اور راضی ہو گئے۔ میں نے عرض کیا: میں ولیمہ کہاں سے کروں گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے بریدہ! ان کے لیے ایک بکری کا بندوبست کرو۔ پس انہوں نے میرے لیے ایک فربہ مینڈھا جمع کر دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ کھانے کا وہ تھیلا دیکھیں جس میں غلہ ہے اور وہ بھیج دیں۔ میں سیدہ عائشہ کے پاس گیا اور انہیں بتایا تو انہوں نے فرمایا: وہ تھیلا یہ رہا، اس میں سات صاع جو ہیں، اللہ کی قسم! ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی کھانا نہیں ہے۔ میں نے وہ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے پاس لے جاؤ اور کہو کہ اس کی روٹیاں تیار کر لیں۔ میں غلہ اور مینڈھا لے کر گیا، انہوں نے غلہ قبول کر لیا اور کہا: مینڈھا ذبح کرنے کی ذمہ داری تم سنبھال لو۔ اسلم قبیلے کے کچھ لوگ آئے، انہوں نے ذبح کیا، کھال اتاری اور کھانا پکایا، پس ہمارے پاس روٹی اور گوشت تیار ہو گیا، میں نے ولیمہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دعوت دی۔ ربیعہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک زمین کا ٹکڑا عطا فرمایا اور سیدنا ابوبکر کو بھی ایک زمین عطا فرمائی، ہمارا ایک کھجور کے درخت کے بارے میں اختلاف ہو گیا، ابوبکر نے کہا: یہ میری حد میں ہے، میں نے کہا: نہیں بلکہ یہ میری حد میں ہے۔ اس دوران ابوبکر نے مجھے کوئی ایسی بات کہی جو مجھے ناگوار گزری، پھر انہیں اس پر ندامت ہوئی اور مجھ سے کہا: اے ربیعہ! تم بھی مجھے ویسا ہی کہو جیسا میں نے تمہیں کہا ہے تاکہ بدلہ (قصاص) ہو جائے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں آپ کو سوائے خیر کے کچھ نہیں کہوں گا۔ ابوبکر نے کہا: اللہ کی قسم! تم مجھے ضرور ویسا ہی کہو گے تاکہ قصاص ہو جائے ورنہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تمہاری شکایت کروں گا۔ میں نے پھر انکار کیا۔ ابوبکر وہ زمین چھوڑ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے اور میں ان کے پیچھے چل پڑا۔ قبیلہ اسلم کے کچھ لوگوں نے کہا: اللہ ابوبکر پر رحم کرے، انہوں نے خود بات کہی اور اب آپ کے خلاف شکایت کرنے جا رہے ہیں! میں نے کہا: تم جانتے ہو یہ کون ہیں؟ یہ ابوبکر ہیں، یہ ثانی اثنین (غار کے ساتھی) ہیں، یہ مسلمانوں کے بزرگ ہیں، خبردار! وہ کہیں تمہیں میری حمایت کرتے ہوئے نہ دیکھ لیں ورنہ وہ ناراض ہو جائیں گے، پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں گے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی ناراضی پر ناراض ہوں گے، اور اللہ ان دونوں کی ناراضی پر ناراض ہو جائے گا اور ربیعہ ہلاک ہو جائے گا۔ پس وہ لوگ میرے پاس سے ہٹ گئے اور میں ابوبکر کے پیچھے چلتا رہا یہاں تک کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے اور پورا قصہ بیان کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ربیعہ! تمہارا صدیق کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟ میں نے عرض کیا جیسے انہوں نے کہا تھا کہ ایسا ایسا ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں بھی ویسا ہی کہوں جیسا انہوں نے کہا ہے مگر میں نے انکار کر دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں! تم انہیں ویسا جواب نہ دو جیسا انہوں نے کہا ہے، بلکہ یہ کہو: «يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ» اے ابوبکر! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے۔ ربیعہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر صدیق پیٹھ پھیر کر روتے ہوئے چلے گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2752]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وقد صرَّح المبارك بن فضالة بسماعه في الطريق الآتية برقم (6343) حيث سيذكر المصنف فاتحة هذه القصة، فانتفت شبهة تدليسه، وما وقع من تضعيف هذا الحديث في "مسند أحمد" فهو مُجازَفة، ولا نَكارة في متنه كما ادُّعي هناك.» [ترقيم الرساله 2752] [ترقيم الشركة 2734] [ترقيم العلميه 2718]

الحكم على الحديث: إسناده حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں