المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
21. اختلاف أبى بكر وربيعة - رضي الله عنهما - فى عذق نخلة
سیدنا ابو بکر اور سیدنا ربیعہ رضی اللہ عنہما کا کھجور کے خوشے کے بارے میں اختلاف
حدیث نمبر: 2752
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا هشام بن علي السَّدُوسي ومحمد بن غالب قالا: حدثنا عفّانُ بن مسلم، حدثنا المبارَكُ بن فَضَالة، عن أبي عِمران الجَوْني، عن رَبِيعة بن كعب الأسلميّ، قال: كنت أخدُمُ النبيَّ ﷺ، فقال لي النبيُّ ﷺ:"يا ربيعةُ، ألا تتزوّجُ؟" قال: فقلت: لا والله يا رسول الله، ما أُريد أن أتزوّج، ما عندي ما يُقيم المرأةَ، وما أُحب أن يَشغَلَني عنك شيء، قال: فأعرَضَ عنّي، ثم قال لي بعد ذلك:"يا ربيعةُ، ألا تتزوّجُ؟" قال: فقلتُ: لا واللهِ يا رسول الله، ما أُريد أن أتزوج، وما عندي ما يُقيم المرأة، وما أُحبُّ أن يَشْغَلَني عنك شيءٌ، فأعرضَ عنّي، قال: ثم راجعتُ نفسي، فقلتُ: والله يا رسول الله، أنت أعلمُ بما يُصلِحُني في الدنيا والآخرة، قال: وأنا أقولُ في نفسي: لئن قال لي الثالثةَ، لأقولَنّ: نعم، قال: فقال لي الثالثةَ:"يا ربيعةُ، ألا تتزوّجُ؟" قال: فقلت: بلى يا رسولَ الله، مُرْني بما شئتَ - أو بما أحببتَ - قال:"انطلِقْ إلى آل فلان - إلى حيٍّ من الأنصار، فيهم تَرَاخي عن رسول الله ﷺ فقل لهم: إنَّ رسول الله يُقرئُكم السلامَ، ويأمرُكم أن تُزوِّجُوا ربيعةَ فلانةَ"؛ امرأةً منهم، قال: فأتيتُهم، فقلت لهم ذلك، فقالوا: مرحبًا برسولِ الله ﷺ، وبرسولِ رسولِ الله ﷺ، والله لا يَرجِعُ رسولُ رسولِ الله ﷺ إلَّا بحاجتِه، قال: فأكرَمُوني وزوَّجوني وألْطَفُوني، ولم يسألوني البيّنةَ، فرجعتُ حزينًا، فقال رسول الله ﷺ:"ما بالُك؟" فقلت: يا رسول الله، أتيتُ قومًا كِرامًا، فزوَّجُوني وأكرَمُونِي وألْطَفُوني، ولم يسألوني البيّنةَ، فمن أين لي الصَّدَاقُ؟ فقال رسول الله ﷺ لبُريدة الأسلمي:"يا بُرَيدةُ، اجمَعُوا له وزنَ نَواةٍ من ذهبٍ" قال: فجَمَعُوا له وزنَ نَوَاةٍ من ذهب، فقال النبي ﷺ:"اذهبْ بهذا إليهم، وقُل: هذا صَدَاقُها" فذهبت به إليهم، فقلتُ: هذا صَداقُها، قال: فقالوا: كثيرٌ طيّب، فقَبِلوا ورَضُوا به، قال: فقلتُ: مِن أين أُولِمُ؟ قال: فقال:"يا بُريدةُ، اجمَعُوا له في شاةٍ" قال: فجمَعُوا لي في كبشٍ فَطِيم سَمِين، قال: وقال النبي ﷺ:"اذهبْ إلى عائشة، فقل: انظُري إلى المِكتَل الذي فيه الطعامُ فابعَثي به" قال: فأتيتُ عائشة فقلت لها ذاك، فقالت: ها هو ذاك المِكتَلُ فيه سبعةُ آصُعٍ من شَعير، والله إنْ أصبحَ لنا طعامٌ غيرُه، قال: فأخذتُه، فجئتُ به إلى النبي ﷺ، فقال:"اذهب بها إليهم، فقل: ليُصلَحْ هذا عندكم خُبزًا" قال: فذهبتُ به وبالكبش، فقال: فقَبِلوا الطعامَ، وقالوا: اكفُونا أنتُم الكبشَ، قال: وجاء ناسٌ من أسلمَ، فذَبَحُوا وسَلَخوا وطبَخوا، قال: فأصبح عندنا خبز ولحم، فأولَمتُ ودعوتُ رسولَ الله ﷺ. قال: وأعطاني رسول الله ﷺ أرضًا وأعطى أبا بكر أرضًا، فاختلفنا في عَذْقِ نَخْلةٍ، قال: وجاءت الدُّنيا، فقال أبو بكر: هذه في حَدِّي، وقلت: لا، بل هي في حَدِّي، قال: فقال لي أبو بكر كلمةً كرهتُها ونَدِمَ عليها، قال: فقال لي: يا ربيعةُ، قُل لي مثلَ ما قلتُ لك، حتى يكونَ قِصاصًا، قال فقلت: لا والله، ما أنا بقائل لك إلّا خيرًا، قال: والله لتَقولَنَّ لي كما قلتُ لك، حتى يكون قِصاصًا، وإلّا استعدَيتُ برسول الله ﷺ، قال: فقلتُ: لا والله، ما أنا بقائل لك إلّا خيرًا، قال: فرَفَضَ أبو بكر الأرضَ، وأتى النبيَّ ﷺ، فجعلتُ أتلُوه، فقال أناس من أسلمَ: يرحمُ الله أبا بكر، هو الذي قال ما قال، ويَستعْدِي عليك! قال: فقلت: أتدرُون مَن هذا؟! هذا أبو بكر، هذا ثاني اثنين، هذا ذو شَيْبةِ المسلمين، إياكم، لا يلتفتُ فيراكُم تنصُرونني عليه فيغضبَ، فيأتيَ رسولَ الله ﷺ، فيغضبَ لغضبه، فيغضبَ الله لغضبهما، فيَهلِكَ ربيعةُ، قال: فرجَعُوا عني، وانطلقتُ أتلُوه حتَّى أتى النبيَّ ﷺ، فقصَّ عليه الذي كان، قال: فقال رسول الله ﷺ:"يا ربيعةُ، ما لكَ والصِّدِّيقِ؟" قال: فقلتُ مثلَ ما قال: كان كذا وكذا، فقال لي: قُلْ مثلَ ما قلتُ لك، فأبيتُ أن أقولَ له، فقال رسول الله ﷺ:"أجلْ، فلا تَقُلْ له مثلَ ما قال، ولكن قل: يَغفرُ اللهُ لك يا أبا بكر"، قال: فولّى أبو بكر الصديق وهو يبكي (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2718 - لم يحتج مسلم بمبارك_x000D_ قَالَ: وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا، وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ، قَالَ: وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ فِي حَدِّي وَقُلْتُ: لَا بَلْ هِيَ فِي حَدِّي. قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدِمَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ قُلْ لِي مِثْلَ مَا قُلْتُ لَكَ، حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِقَائِلٍ لَكَ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: وَاللَّهِ لَتَقُولُنَّ لِي كَمَا قُلْتُ لَكَ، حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، وَإِلَّا اسْتَعْدَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِقَائِلٍ لَكَ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَرَفَضَ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْضَ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَتْلُوَهُ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ هُوَ الَّذِي قَالَ مَا قَالَ، وَيَسْتَعْدِي عَلَيْكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَ
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2718 - لم يحتج مسلم بمبارك_x000D_ قَالَ: وَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْضًا، وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ أَرْضًا، فَاخْتَلَفْنَا فِي عِذْقِ نَخْلَةٍ، قَالَ: وَجَاءَتِ الدُّنْيَا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذِهِ فِي حَدِّي وَقُلْتُ: لَا بَلْ هِيَ فِي حَدِّي. قَالَ: فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ كَلِمَةً كَرِهْتُهَا وَنَدِمَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَقَالَ لِي: يَا رَبِيعَةُ قُلْ لِي مِثْلَ مَا قُلْتُ لَكَ، حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِقَائِلٍ لَكَ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: وَاللَّهِ لَتَقُولُنَّ لِي كَمَا قُلْتُ لَكَ، حَتَّى تَكُونَ قِصَاصًا، وَإِلَّا اسْتَعْدَيْتُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ: فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ مَا أَنَا بِقَائِلٍ لَكَ إِلَّا خَيْرًا، قَالَ: فَرَفَضَ أَبُو بَكْرٍ الْأَرْضَ، وَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلْتُ أَتْلُوَهُ، فَقَالَ أُنَاسٌ مِنْ أَسْلَمَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ هُوَ الَّذِي قَالَ مَا قَالَ، وَيَسْتَعْدِي عَلَيْكَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَتَدْرُونَ مَ
سیدنا ربیعہ بن کعب اسلمی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کیا کرتا تھا۔ (ایک دفعہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: اے ربیعہ! تم شادی نہیں کرو گے؟ میں نے کہا: نہیں، یا رسول اللہ میں شادی کا ارادہ نہیں رکھتا ہوں (ایک بات تو یہ ہے کہ) میرے پاس اتنی گنجائش نہیں ہے کہ میں ایک عورت کا نان و نفقہ برداشت کر سکوں۔ (اور دوسری بات یہ ہے کہ) میں آپ کی خدمت سے دور نہیں ہونا چاہتا۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: (اس بات پر) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے منہ پھیر لیا۔ میں نے اپنے نظریئے پر نظرثانی کی۔ اور پھر عرض کی: یا رسول اللہ آپ بہتر جانتے ہیں کہ میری دنیا اور آخرت کے اعتبار سے میرے لیے کیا بہتر ہے۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں۔ میں نے دل میں سوچ رکھا تھا کہ اب کی بار اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے شادی کے متعلق کہا تو میں حامی بھر لوں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر مجھے کہا: اے ربیعہ: کیا تو شادی نہیں کرے گا؟ میں نے کہا: کیوں نہیں یا رسول اللہ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جو پسند ہے یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم جو چاہتے ہیں، میرے لیے حکم فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انصار کے فلاں قبیلے والوں کے پاس چلے جاؤ۔ (یہ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کافی دور تھے) ان سے کہنا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو سلام کہا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ تم اپنی فلاں عورت کا ربیعہ سے نکاح کر دو (ربیعہ) فرماتے ہیں: میں ان کے پاس گیا اور ان کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اور ان کے قاصد کو خوش آمدید، خدا کی قسم! ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قاصد کو ان کی حاجت پوری کیے بغیر ہرگز واپس نہیں بھیجیں گے۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: انہوں نے میری خوب خاطر مدارات اور آؤبھگت کی اور اس خاتون کا میرے ساتھ نکاح کر دیا۔ انہوں نے میرے اوپر بہت مہربانی اور مجھ سے کوئی گواہی طلب نہیں کی۔ میں بہت پریشان واپس لوٹا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھے پریشان دیکھ کر) فرمایا: تجھے کیا ہوا ہے؟ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں ان شریف باعزت لوگوں کے پاس گیا تھا، انہوں نے میری بہت عزت و توقیر کی اور انہوں نے اس لڑکی کے ساتھ میرا نکاح بھی کر دیا۔ نہ ہی انہوں نے مجھ سے کوئی گواہی کا مطالبہ کیا۔ تو حق مہر کا بندوبست کیسے ہو گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے بریدہ! اس کے لیے ایک نواۃ (سونے کی ایک مخصوص مقدار کو کہتے ہیں جو تقریباً پانچ درہموں کے برابر ہوتا ہے) سونا جمع کرو (ربیعہ) فرماتے ہیں: انہوں نے میرے لیے ایک نواۃ کے برابر سونا جمع کیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ سونا ان کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ یہ اس کا حق مہر ہے۔ میں وہ سونا لے کر گیا اور ان سے کہا کہ یہ اس کا حق مہر ہے۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: انہوں نے کہا: یہ بھی بہت ہے اور انہوں نے بہت خوشدلی کے ساتھ اسے قبول کر لیا۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: پھر میں نے کہا: میں ولیمہ کہاں سے کروں؟ آپ نے بریدہ سے فرمایا: ایک بکری کا انتظام کرو انہوں نے میرے لیے ایک بہت ہی صحت مند دودھ چھڑائے ہوئے ایک مینڈھے کا انتظام کر دیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: کھانے کی ٹوکری میں جو کچھ طعام ہو وہ بھیج دیں۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ گیا۔ اور ان کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام دیا، انہوں نے (ٹوکری لا کر میرے حوالے کی اور) کہا: یہ ہے وہ ٹوکری۔ اس میں سات صاع جو ہیں، خدا کی قسم آج کے دن کا یہی طعام ہے۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: میں نے وہ ٹوکری پکڑی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ان کے پاس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ اس کی روٹیاں پکا لیں۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: میں وہ جو اور مینڈھا ان کے پاس لے گیا تو انہوں نے وہ طعام قبول کر لیا اور کہا: تمہارا مینڈھا ہمارے لیے کافی ہے پھر قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے اس کو ذبح کیا۔ اس کی کھال اُتاری اور اس کو پکایا۔ جب روٹیاں اور گوشت تیار ہو گیا تو میں نے ولیمہ کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے وہاں پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ زمین مجھے دی اور کچھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو۔ میرے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک پھلدار کھجور کے درخت کے متعلق اختلاف ہو گیا۔ (کیونکہ دنیا جو آ گئی تھی) ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ درخت میری حدود میں ہے، میں نے کہا: میری حدود میں ہے۔ اس دوران ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ایک سخت جملہ بول دیا لیکن فوراً ہی نادم ہو گئے اور فرمانے لگے: اے ربیعہ! جو کچھ میں نے تجھے بولا ہے تم بھی مجھے ویسے ہی بول لو تاکہ حساب برابر ہو جائے۔ میں نے کہا: میں آپ کے لیے بھلائی کے سوا کچھ نہیں بول سکتا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تمہیں کہنا پڑے گا تاکہ قصاص ہو جائے ورنہ میں تیرے خلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد حاصل کروں گا۔ میں نے پھر بھی یہی جواب دیا کہ خدا کی قسم! میں آپ کے ساتھ بھلائی کے سوا کچھ نہیں بولوں گا۔ (یہ معاملہ دیکھ کر) قبیلہ اسلم کے کچھ لوگ بولے: اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے ایک تو ناحق گفتگو کی ہے دوسرا تیرے خلاف رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مدد بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ میں نے کہا: (ایسے مت بولو!) تم جانتے ہو یہ کون ہے؟ یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہے، یہ ” ثانی اثنین “ ہے، یہ مسلمانوں کی بزرگ شخصیت ہیں، خبردار! ایسی بات مت کرو۔ کہ اگر وہ تمہیں دیکھ لیں کہ تم ان کے خلاف میری مدد کر رہے ہو تو وہ ناراض ہو جائیں گے۔ پھر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو ان کی ناراضگی کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ناراض ہو جائیں گے اور ان دونوں کی ناراضگی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے گا۔ تو ربیعہ ہلاک ہو جائے گا۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں (میری طرف سے یہ جواب سن کر) وہ لوگ واپس چلے گئے۔ اور میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے پیچھے چلتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا پہنچا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تمام قصہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہہ سنایا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ربیعہ! تمہارے اور صدیق کے درمیان کیا نزاع واقع ہو گیا ہے؟ میں نے تمام واقعہ سنا دیا۔ تو (رسول اللہ) نے مجھ سے فرمایا: ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو کچھ تم سے کہا ہے تم بھی ان کو ویسے ہی کہہ لو۔ لیکن میں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو وہ بات کہنے سے انکار کر دیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، مت بولو، جس طرح اس نے بولا ہے لیکن یہ تو بول دو کہ اللہ تعالیٰ ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بخش دے۔ (ربیعہ) فرماتے ہیں: تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ وہاں سے (خوفِ الٰہی میں) روتے ہوئے واپس آئے۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كتاب النكاح/حدیث: 2752]
المستدرك على الصحيحين کی حدیث نمبر 2752 پر
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
الشیخ عادل مرشد، ڈاکٹر احمد برہوم، ڈاکٹر محمد کامل قرہ بلی، ڈاکٹر سعید اللحام کی
تخريج وتحقيقِ محدثانہ نکات و اصطلاحی مطالعہ
(1) إسناده حسن، وقد صرَّح المبارك بن فضالة بسماعه في الطريق الآتية برقم (6343) حيث سيذكر المصنف فاتحة هذه القصة، فانتفت شبهة تدليسه، وما وقع من تضعيف هذا الحديث في "مسند أحمد" فهو مُجازَفة، ولا نَكارة في متنه كما ادُّعي هناك.
⚖️ درجۂ حدیث: اس کی اسناد "حسن" ہے۔ 🔍 فنی نکتہ / علّت: مبارک بن فضالہ نے آگے آنے والے طریق (نمبر 6343) میں اپنے سماع کی صراحت کر دی ہے، جس سے ان کی "تدلیس" کا شبہ ختم ہو جاتا ہے۔ 📌 اہم نکتہ: "مسند احمد" میں اس حدیث کو جو ضعیف قرار دیا گیا ہے وہ "مجازفہ" (بے جا سختی/مبالغہ) ہے، اور اس کے متن میں کوئی "نکارت" (ایسی برائی جس سے حدیث رد ہو) نہیں ہے جیسا کہ وہاں دعویٰ کیا گیا ہے۔
وقد ذكر هذا الحديثَ غيرُ واحدٍ من الأئمة في فضائل أبي بكر الصديق رضي الله تعالى عنه، وانظر "فتح الباري" 11/ 42 عند شرح الحديث (3661).
📖 حوالہ / مصدر: اس حدیث کو کئی ائمہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے فضائل میں ذکر کیا ہے۔ مزید تفصیل کے لیے "فتح الباری" (11/ 42) میں حدیث (3661) کی شرح ملاحظہ فرمائیں۔
وأخرجه أحمد 27/ (16577) عن أبي النضر هاشم بن القاسم، عن المبارك بن فضالة، به.
📖 حوالہ / مصدر: اسے امام احمد نے "المسند" (27/ 16577) میں ابو النضر ہاشم بن القاسم عن مبارک بن فضالہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
قوله: "يُقيم المرأة" أي: ما يقوم بشأنها من المعاش.
📝 نوٹ / توضیح: "يُقيم المرأة" سے مراد عورت کے معاش اور اس کے ضروریاتِ زندگی کے معاملات کو سنبھالنا ہے۔
وقوله: "فيهم تراخٍ" أي: بُعْد في المكان، أو تأخّر عن الحضور.
📝 نوٹ / توضیح: "فيهم تراخٍ" کا مطلب ہے کہ ان کے درمیان مکانی دوری ہے یا وہ حاضر ہونے میں تاخیر کر رہے ہیں۔
وقوله: "ألْطَفُوني" أي: بَرُّوني.
📝 نوٹ / توضیح: "ألْطَفُوني" کے معنی ہیں کہ انہوں نے میرے ساتھ بھلائی، حسنِ سلوک اور نیکی کا معاملہ کیا۔
والنواة: اسم لخمسة دراهم أو قيمتها.
📝 نوٹ / توضیح: "نواۃ" پانچ درہم یا اس کی قیمت کے برابر وزن کا نام ہے۔
والصاع: 4 أمداد، ويسع 2035 غرامًا تقريبًا.
📝 نوٹ / توضیح: ایک "صاع" چار "مد" (Amdad) کے برابر ہوتا ہے، اور اس کی گنجائش (وزن) تقریباً 2035 گرام ہوتی ہے۔
والمِكتل: وعاء يُعمل من الخُوص.
📝 نوٹ / توضیح: "المِکتل" سے مراد وہ ٹوکری یا برتن ہے جو کھجور کے پتوں سے بنایا جاتا ہے۔
وقوله: "إن أصبح" "إن" هنا حرف نفي بمعنى "ما".
📝 نوٹ / توضیح: عبارت میں موجود لفظ "اِن" (إن أصبح میں) حرفِ نفی ہے جو "ما" (نہیں) کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
وقوله: "استعدَيتُ" أي: رفعتُ أمرك للنبي ﷺ لينصرني. ¤ ¤ والعَذْق، بالفتح: النخلة، فذكر النخلة بعدها هنا للبيان.
📝 نوٹ / توضیح: "استعدَيتُ" کا مطلب ہے: میں نے نبی ﷺ کے سامنے آپ کا معاملہ پیش کیا تاکہ وہ میری مدد فرمائیں۔ "العَذْق" (عین کے زبر کے ساتھ) سے مراد کھجور کا درخت ہے، اور وضاحت کے لیے اس کے بعد دوبارہ "نخلہ" کا لفظ ذکر کیا گیا ہے۔
وقوله: "في حدَّي" أي: في جانبي من أرضي.
📝 نوٹ / توضیح: "في حدَّي" کا مطلب ہے: میری زمین کی جانب یا میری زمین کی سرحد میں۔