🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرساله سے تلاش کل احادیث (9018)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم الشركة سے تلاش کل احادیث (8909)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

20. السُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ .
جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی حاکم ہوتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2742
فحدَّثَناه أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، قال: قُرئ على محمد بن إسماعيل السُّلَمي وأنا أسمع، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، حدثني ابن جُرَيج، أنَّ سُليمان بن موسى الدمشقي حدثه، أخبرني ابن شهاب، عن عُرْوة، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ:"لا تُنكَحُ المرأةُ بغير إذن وليِّها، فإن نَكَحَت فنِكاحُها باطِلٌ - ثلاثَ مرّات - فإن أصابها، فلها مهرُها بما أصاب منها، فإن اشْتَجَروا، فالسلطان وليُّ من لا وليَّ له" (2) . وأما حديث حجَّاج بن محمد:
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کی اجازت کے بغیر عورت کا نکاح نہیں کیا جائے گا، پس اگر اس نے نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے - آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین بار دہرائی - پھر اگر شوہر اس سے صحبت کر لے تو اس کے بدلے عورت مہر کی حقدار ہے، اور اگر وہ (اولیاء) باہم جھگڑ پڑیں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2742]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 2742] [ترقيم الشركة 2723]

الحكم على الحديث: حديث صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2743
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيلُ بنُ قُتيبة. وأخبرني أبو يحيى أحمد بن محمد السَّمرْقَنْدي، حدثنا أبو عبد الله محمد بن نصر. وأخبرني أبو عمرو بن جعفر العَدْلُ، حدثنا إبراهيم بن علي الذُّهلي، قالوا: حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا حجّاج بن محمد، عن ابن جُرَيج، أخبرني سليمان بن موسى، أنَّ ابن شِهاب أخبره، أنَّ عُرْوة أخبره، أنَّ عائشة أخبرته، أنَّ النبي ﷺ قال:"أيُّما امرأةٍ نَكَحتْ بغير إذن وليّها، فنكاحُها باطلٌ، نكاحُها باطلٌ، ولها مَهرُها بما أصاب منها، فإن اشتَجَروا فالسلطان وَليُّ من لا وَليَّ له" (1) . فقد صحَّ وثبت بروايات الأئمة الأثبات سماعُ الرواة بعضِهم من بعض، فلا تُعلَّل هذه الروايات بحديثِ ابن عُليّة وسؤالِه ابنَ جُرَيج عنه، وقولِه: إني سألتُ الزُّهْري عنه فلم يعرفه، فقد ينسى الثقةُ الحافظُ الحديثَ بعد أن حدّث به، وقد فَعلَه غيرُ واحد من حفّاظ الحديث.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے، اور صحبت کی وجہ سے اسے مہر ملے گا، اور اگر وہ آپس میں اختلاف کریں تو جس کا کوئی ولی نہ ہو اس کا ولی سلطان ہے۔
معتبر ائمہ کی روایات سے راویوں کا ایک دوسرے سے سماع ثابت ہو چکا ہے، لہٰذا ان روایات پر ابن علیہ کی اس حکایت سے اعتراض نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے ابن جریج سے اس کے بارے میں پوچھا تھا اور انہوں نے کہا کہ میں نے زہری سے پوچھا تو وہ اسے نہیں پہچانتے تھے، کیونکہ بسا اوقات ثقہ حافظ حدیث بیان کرنے کے بعد اسے بھول جاتا ہے، اور ایسا کئی حفاظِ حدیث کے ساتھ ہوا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2743]
تخریج الحدیث: «إسناده قوي، من أجل سليمان بن موسى الأشدق الدمشقي.» [ترقيم الرساله 2743] [ترقيم الشركة 2724]

الحكم على الحديث: إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2743M1
أخبرنا الحسين بن الحسن بن أيوب، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، قال: سمعتُ أحمد بن حنبل يقول، وذُكر عنده أن ابن عُليَّة يذكُر حديثَ ابن جُرَيج في:"لا نِكاح إلّا بوليّ"، قال ابن جُرَيج: فلقيتُ الزُّهْري، فسألتُه عنه فلم يعرفه، وأثنى على سليمان بنِ موسى، قال أحمد بن حنبل: إنَّ ابنَ جُرَيج له كتبٌ مُدوَّنة، وليس هذا في كُتبه. يعني حكاية ابن عُليَّة عن ابن جُرَيج.
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان کے پاس ابن علیہ کا تذکرہ ہوا کہ وہ ابن جریج کی اس روایت کے متعلق کہتے ہیں کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں، ابن جریج کہتے ہیں کہ میں نے زہری سے ملاقات کی اور اس بارے میں پوچھا تو وہ اسے نہ پہچان سکے، جبکہ زہری نے سلیمان بن موسیٰ کی تعریف کی تھی، اس پر امام احمد بن حنبل نے فرمایا: ابن جریج کی باقاعدہ مدون کتابیں موجود ہیں اور ان کی کتابوں میں یہ بات (ابن علیہ کا دعویٰ) موجود نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2743M1]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2743M1] [ترقيم الشركة 2724/1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2743M2
سمعت أبا العباس محمد بن يعقوب يقول: سمعت العباس بن محمد الدُّوْري يقول: سمعت يحيى بن مَعِين يقول في حديث:"لا نكاح إلّا بوليٍّ" الذي يرويه ابن جُرَيج، فقلت له: إنَّ ابن عُليّة يقول: قال ابن جُرَيج: فسألتُ عنه الزُّهْريَّ فقال: لست أحفظُه، قال يحيى بن مَعِين: ليس يقول هذا إِلَّا ابن عُليَّة، وإنما عَرَضَ ابن عُليَّة كتب ابن جُرَيج على عبد المجيد بن عبد العزيز بن أبي رَوَّاد، فأصلحها له، ولكن لم يَبذُل نفسَه للحديث.
یحییٰ بن معین رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ ان سے ابن جریج کی روایت ولی کے بغیر نکاح نہیں کے بارے میں پوچھا گیا اور کہا گیا کہ ابن علیہ کہتے ہیں کہ ابن جریج نے کہا: میں نے زہری سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ مجھے یہ یاد نہیں، تو یحییٰ بن معین نے فرمایا: یہ بات صرف ابن علیہ کہتے ہیں، اصل میں ابن علیہ نے اپنی کتابیں عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد پر پیش کی تھیں تو انہوں نے ان کی اصلاح کر دی تھی، لیکن انہوں نے خود کو حدیث کے لیے وقف نہیں کیا تھا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2743M2]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2743M2] [ترقيم الشركة 2724/2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2743M3
حدثنا أبو عبد الله محمد بن عبد الله، حدثنا أبو بكر بن رجاء، حدثنا محمد بن المصفّى، حدثنا بقيَّة، حدثنا شعيب بن أبي حمزة قال: قال لي الزُّهْري: إنَّ مكحولًا يأتينا وسليمانُ بن موسى، ولَعَمْرُ اللهِ إنَّ سليمان بن موسى لأَحْفَظُ الرجُلَين. قال الحاكم: رَجَعْنا إلى الأصل الذي لم يَسَعِ الشيخين إخلاءُ"الصحيحين" منه، وهو حديث أبي إسحاق عن أبي بُرْدة عن أبي موسى:
شعیب بن ابی حمزہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ امام زہری نے مجھ سے فرمایا: ہمارے پاس مکحول اور سلیمان بن موسیٰ آتے ہیں، اور اللہ کی قسم! سلیمان بن موسیٰ ان دونوں میں سے زیادہ بڑے حافظِ حدیث ہیں۔
امام حاکم فرماتے ہیں: اب ہم اسی اصل کی طرف لوٹتے ہیں جسے شیخین کے لیے صحیحین میں جگہ دینا ضروری تھا، اور وہ ابواسحاق کی ابوبردہ سے اور ان کی ابوموسیٰ سے مروی حدیث ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2743M3]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2743M3] [ترقيم الشركة 2724/3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2744
حدثنا أبو بكر أحمد بن كامل القاضي وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرَفي، قالا: حدثنا أبو قِلابة بن عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي. وأخبرني مَخْلَد بن جعفر الباقَرْحِي، حدثنا إبراهيم بن هاشم البَغَوي؛ قالا: حدثنا سليمان بن داود، حدثنا النعمان بن عبد السلام، عن شعبة وسفيان الثَّوْري، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"لا نِكاحَ إلّا بَوليٍّ" (1) . وقد جمع النعمانُ بن عبد السلام بين الثَّوْري وشعبة في إسناد هذا الحديث، ووَصَلَه عنهما، والنعمان بن عبد السلام ثقة مأمون (1) . وقد رواه جماعة من الثقات عن الثَّوْري على حِدَة، وعن شعبة على حِدَة، فوصلوه، وكل ذلك مَخرَجُه في الباب الذي سمعه مني أصحابي، فأغنى ذلك عن إعادتها. فأما إسرائيل بن يونس بن أبي إسحاق الثقة الحُجَّة في حديث جده أبي إسحاق، فلم يُختلَف عنه في وصل هذا الحديث:
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
نعمان بن عبدالسلام نے اس حدیث کی سند میں سفیان ثوری اور شعبہ دونوں کو جمع کیا ہے اور ان سے اسے متصل روایت کیا ہے، اور نعمان بن عبدالسلام ثقہ اور صاحبِ امانت ہیں، نیز ثقہ راویوں کی ایک بڑی جماعت نے سفیان ثوری اور شعبہ سے الگ الگ بھی اسے متصل روایت کیا ہے، یہ تمام طرق میرے اصحاب نے مجھ سے سن رکھے ہیں اس لیے انہیں یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2744]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود - وهو الشاذَكُوني - فهو متروك الحديث، وقد اتهمه بعضهم. لكنه لم ينفرد به، فقد روي من غير وجه عن شعبة وعن سفيان، كما نبَّه عليه الحاكم بإثره، ومن قبله نبَّه عليه البزار، وصحَّحا وصله من طريق شعبة وسفيان.» [ترقيم الرساله 2744] [ترقيم الشركة 2725]

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف جدًّا من أجل سليمان بن داود - وهو الشاذَكُوني - فهو متروك الحديث
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن أحمد المَحبُوبي، حدثنا الفضل بن عبد الجبار، حدثنا النضر بن شُميل، أخبرنا إسرائيل بن يونس، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصّغَاني، حدثنا هاشم بن القاسم وعبيد الله بن موسى، قالا: حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وأخبرنا أحمد بن سَلْمان الفقيه، حدثنا محمد بن سليمان الواسطي، حدثنا أبو غسان مالك بن إسماعيل، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وأخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن خالد بن خَلِيّ الحمصي، حدثنا أحمد بن خالد الوَهْبي، حدثنا إسرائيل. وأخبرنا أحمد بن سلمان الفقيه وأبو بكر بن إسحاق الإمام، قالا: حدثنا محمد بن عيسى بن السَّكَن، حدثنا عبد الله بن رجاء، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق. وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا طَلْق بن غَنّام، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن أبي بُرْدة، عن أبي موسى قال: قال رسول الله ﷺ:"لا نِكَاحَ إلّا بوَليٍّ" (1) . هذه الأسانيد كلها صحيحة، وقد عَلَونا فيها عن إسرائيل، وقد وَصَلَه الأئمة المتقدمون الذين نَنزلُ في رواياتهم عن إسرائيل مثل عبد الرحمن بن مَهْدي ووكيع ويحيى بن آدم ويحيى بن زكريا بن أبي زائدة وغيرهم، وقد حَكَموا لهذا الحديث بالصحة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2711 - صحيح
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا۔
یہ تمام سندیں صحیح ہیں اور ہمیں اسرائیل سے یہ روایات عالی سند کے ساتھ پہنچی ہیں، ان جلیل القدر متقدم ائمہ نے بھی اسے متصل بیان کیا ہے جن کے واسطے سے ہم اسرائیل کی روایات نقل کرتے ہیں جیسے عبدالرحمن بن مہدی، وکیع، یحییٰ بن آدم اور یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ وغیرہ، اور ان سب نے اس حدیث کی صحت کا حکم دیا ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2745]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2745] [ترقيم الشركة 2726-2727] [ترقيم العلميه 2711]

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M1
سمعتُ أبا نصر أحمدَ بنَ سهل الفقيه ببُخارى يقول: سمعتُ صالح بن محمد بن حبيب الحافظ يقول: سمعتُ عليَّ بن عبد الله المَدِيني يقول: سمعت عبدَ الرحمن بن مَهدي يقول: كان إسرائيل يَحفَظُ حديث أبي إسحاق كما يَحفَظ ﴿الْحَمْدُ﴾.
میں نے بخارا میں ابونصر احمد بن سہل فقیہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے صالح بن محمد بن حبیب حافظ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے علی بن عبداللہ مدینی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے عبدالرحمن بن مہدی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اسرائیل اپنے دادا ابواسحاق کی احادیث اس طرح یاد رکھتے تھے جیسے وہ ﴿الْحَمْدُ﴾ (سورہ فاتحہ) یاد رکھتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2745M1]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M1]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M2
سمعتُ أبا الحسن بنَ منصور يقول: سمعتُ أبا بكر محمد بن إسحاق يقول: سمعتُ أبا موسى يقول: كان عبد الرحمن بنُ مهدي يُثبِت حديثَ إسرائيل عن أبي إسحاق - يعني - في النكاح بغير وليّ.
میں نے ابوالحسن بن منصور کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوبکر محمد بن اسحاق کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے ابوموسیٰ کو یہ کہتے ہوئے سنا: عبدالرحمن بن مہدی ابواسحاق سے اسرائیل کی روایت کردہ حدیث یعنی ولی کے بغیر نکاح کے متعلق حدیث کی تصدیق و توثیق کیا کرتے تھے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2745M2]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2745M3
حدثني محمد بن عبد الله الشَّيباني، حدثنا أحمد بن محمد بن الحسن، حدثنا حاتم بن يونس الجُرْجاني، قال: قلت لأبي الوليد الطَّيالسي: ما تقول في النكاح بغير وليّ؟ فقال: لا يجوز، قلت: ما الحُجَّةُ في ذلك؟ فقال: حدثنا قيس بن الربيع، عن أبي إسحاق، عن أبي بردة، عن أبيه (1) . قلت: فإنَّ الثَّوْري وشعبة يُرسِلانه، قال: فإنَّ إسرائيلَ قد تابع قيسًا.
حاتم بن یونس جرجانی بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوالولید طیالسی سے پوچھا: ولی کے بغیر نکاح کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے جواب دیا: یہ جائز نہیں ہے میں نے عرض کیا: اس پر کیا دلیل ہے؟ انہوں نے فرمایا: ہمیں قیس بن ربیع نے ابواسحاق کے واسطے سے، انہوں نے ابوبردہ سے اور انہوں نے اپنے والد (سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ) سے حدیث بیان کی ہے میں نے عرض کیا: سفیان ثوری اور شعبہ تو اسے مرسل (سند میں صحابی کا ذکر کیے بغیر) بیان کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: بے شک اسرائیل نے (متصل سند بیان کرنے میں) قیس کی متابعت کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2745M3]
تخریج الحدیث: [ترقيم الرساله 2745M3]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں