المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
23. إِذَا نَكَحَ الوَلِيَّانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ، وَإِذَا بَاعَ الْمُجِيزَانِ فَهُوَ لِلْأَوَّلِ
اگر دو ولی نکاح کر دیں تو پہلا معتبر ہوگا اور اگر دو اجازت دینے والے بیع کریں تو پہلا معتبر ہوگا
حدیث نمبر: 2754
حدثنا أبو عمرو عثمان بن أحمد الدَّقَّاق ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن محمد بن منصور الحارثي، حدثنا معاذ بن هشام. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني محمد بن أبي بكر، حدثنا معاذ بن هشام، حدثني أبي، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، قال: قال رسول الله ﷺ:"أيُّما امرأةٍ زَوَّجها وَلِيّان، فهي للأول منهما، وأيُّما رجلَين ابتاعا بَيعًا، فهو للأول منهما" (1) . تابعَه سعيد بن أبي عَرُوبة وسعيد بن بَشير الدمشقي عن قَتَادة. أما حديث سعيد بن أبي عَرُوبة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2720 - على شرط البخاري_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2720 - على شرط البخاري_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح دو ولیوں نے (الگ الگ جگہ) کر دیا ہو تو وہ پہلے شوہر کی ہوگی، اور جن دو آدمیوں نے کوئی چیز خریدی ہو تو وہ پہلے خریدار کی ہوگی۔“
اس کی متابعت سعید بن ابی عروبہ اور سعید بن بشیر دمشقی نے قتادہ سے کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2754]
اس کی متابعت سعید بن ابی عروبہ اور سعید بن بشیر دمشقی نے قتادہ سے کی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2754]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وسماع الحسن»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 2755
فأخبرَناه أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا سعيد، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جُندُب، أنَّ رسول الله ﷺ قال:"أيُّما رجل باع مِن رجلَين بيعًا، فهو للأوّل منهما، وأيُّما امرأةٍ زَوَّجها وَليّان، فهي للأوّل" (2) . وأما حديث سعيد بن بَشير:
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے دو آدمیوں کے ہاتھ کوئی چیز فروخت کی تو وہ پہلے خریدار کی ہوگی، اور جس عورت کا نکاح دو ولیوں نے (الگ الگ جگہ) کر دیا ہو تو وہ پہلے شوہر کی ہوگی۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2755]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل عبد الوهاب بن عطاء، فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع.»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2756
فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عُبيد بن شَريك، حدثنا أبو الجُمَاهِر، حدثنا سعيد بن بَشير، عن قَتَادة، عن الحسن، عن سَمُرة بن جندب، قال: قال رسول الله ﷺ:"إذا أنكَحَ الوَليّان، فهو للأول، وإذا باع المُجِيزان، فهو للأول" (1) . وقد تابعَ (2) قَتَادة على روايته عن الحسن أشعثُ بن عبد الملك الحُمْراني:
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو (الگ الگ) ولی (کسی عورت کا دو جگہ) نکاح کر دیں تو وہ پہلے (نکاح والے) کے لیے ہے، اور جب دو (مجاز) وکیل (ایک ہی چیز کو دو جگہ) فروخت کر دیں تو وہ پہلے (خریدار) کے لیے ہے۔“ قتادہ کی حسن بصری سے اس روایت میں اشعث بن عبدالملک الحمرانی نے بھی متابعت کی ہے۔
یہ تمام نکھرے ہوئے اور واضح طرق جو میں نے اس متن کے لیے ذکر کیے ہیں، امام بخاری کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2756]
یہ تمام نکھرے ہوئے اور واضح طرق جو میں نے اس متن کے لیے ذکر کیے ہیں، امام بخاری کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2756]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل سعيد بن بشير. أبو الجُماهِر: هو محمد بن عثمان التَّنُوخي.»
الحكم على الحديث: حديث صحيح
حدیث نمبر: 2757
أخبرنا أبو عبد الرحمن محمد بن عبد الله بن أبي الوَزير، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الأنصاري، حدثني أشعثُ بن عبد الملك، عن الحسن، عن سَمُرة، عن النبي ﷺ قال:"إذا أنكَحَ المُجِيزان، فالأولُ أحقُّ" (3) . هذه الطرقُ النّواصعُ التي ذكرتُها لهذا المتن، كلُّها صحيحة على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2723 - على شرط البخاري
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2723 - على شرط البخاري
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو (مجاز) وکیل (کسی عورت کا الگ الگ جگہ) نکاح کر دیں تو پہلا (جس کا نکاح پہلے ہوا) زیادہ حقدار ہے۔“ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح.»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح