المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
32. مَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يَفْرِضْ صَدَاقًا
جس نے نکاح کیا اور مہر مقرر نہ کیا
حدیث نمبر: 2772
أخبرنا أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا إسماعيل بن الخَليل، حدثنا علي بن مُسهِر، حدثنا داود بن أبي هند، عن الشَّعْبي، عن علقمة بن قيس: أنَّ قومًا أتوا عبد الله بن مسعود، فقالوا له: إنَّ رجلًا منا تزوّج امرأةً ولم يَفْرِضْ لها صداقًا، ولم يَجمَعْها إليه حتى مات، فقال لهم عبد الله: ما سُئلتُ عن شيءٍ منذ فارقتُ رسولَ الله ﷺ أشدَّ عليَّ من هذه، فأْتُوا غيري، قالوا: فاختلفوا إليه فيها شهرًا، ثم قالوا له في آخر ذاك: مَن نسألُ إذا لم نسألك وأنت آخِيّةُ أصحاب محمد ﷺ في هذا البلد، ولا نَجِدُ غيرك، فقال: سأقول فيها بجُهد رأيي، فإن كان صوابًا فمِن الله وحدَه لا شريك له، وإن كان خطأً فمنّي، واللهُ ورسولُه منه بَريء، أَرى أن أجعلَ لها صَداقًا كصَداق نسائها، لا وَكْسَ ولا شَطَطَ، ولها الميراث، وعليها العِدّة أربعةَ أشهر وعشرًا، قال: وذلك يَسمعُ ناسٌ من أشجَعَ، فقاموا، فقالوا: نشهدُ أنك قضيتَ بمثل الذي قضى به رسولُ الله ﷺ في امرأةٍ منا يقال لها: بَرْوَعُ بنتُ واشِقٍ، قال: فما رُئِيَ عبدُ الله فَرِحَ بشيءٍ ما فرحَ يومئذٍ إلّا بإسلامه، ثم قال: اللهم إن كان صوابًا فمنك وحدَك لا شريك لك، وإن كان خطأً فمنّي ومن الشيطان، واللهُ ورسولُه منه بَريءٌ (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2737 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2737 - على شرط مسلم
سیدنا علقمہ بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کچھ لوگ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے: ہمارے قبیلے کے ایک شخص نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی ہے لیکن اس نے اس عورت کا کوئی حق مہر مقرر نہیں کیا۔ اور اس کا کوئی انتظام بھی نہیں کر پایا تھا کہ اس کا انتقال ہو گیا، عبداللہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انتقال کے بعد آج تک اس قدر سنجیدہ مسئلہ مجھ سے دریافت نہیں کیا گیا۔ تم کسی اور سے یہ مسئلہ پوچھ لو۔ وہ لوگ اسی سلسلہ میں پورا مہینہ سرگرداں رہے بالآخر وہ دوبارہ ان کے پاس آ کر بولے: اگر ہم مسئلہ آپ سے نہیں پوچھیں گے تو کس سے پوچھیں گے؟ اس شہر میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام اصحاب رضی اللہ عنہم آپ کے بھائی اور دوست ہیں۔ ہماری نظر میں آپ کے سوا اور کوئی نہیں ہے (جو اس مسئلہ کا حل بتائے) آپ نے فرمایا: ٹھیک ہے میں اپنی رائے کے مطابق اس مسئلہ کا حل کروں گا، اگر وہ درست ہوا تو وہ اللہ وحدہ لاشریک کی جانب سے ہو گا اور اگر خطا ہوئی تو وہ میری طرف سے ہو گی۔ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہوں گے۔ میرا یہ خیال ہے کہ اس عورت کا مہر اس کے خاندان کی اس جیسی دوسری عورتوں کے برابر رکھا جائے، نہ ان سے کم ہو نہ زیادہ۔ اور اس کے لیے شوہر کی وراثت بھی ہو گی اور یہ چار مہینے دس دن عدت گزارے۔ (علقمہ) فرماتے ہیں۔ قبیلہ استجع کے کچھ لوگوں نے آپ کا یہ فیصلہ سنا تو کہنے لگے: ہم گواہی دیتے ہیں: آپ نے بالکل وہی فیصلہ کیا ہے جو فیصلہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے قبیلے کی ایک بروع بنت واشق نامی خاتون کے متعلق کیا تھا۔ (علقمہ) فرماتے ہیں: اس دن عبداللہ کو جس قدر خوش دیکھا گیا، اس سے پہلے وہ اپنے اسلام لانے کے علاوہ کسی موقع پر اتنے خوش نہیں ہوئے۔ پھر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بولے: اے اللہ! اگر یہ ثواب ہے تو یہ تیری طرف سے ہے تو واحد اور لاشریک ہے۔ اور اگر خطا ہے تو یہ میری طرف سے ہے اور شیطان کی طرف سے ہے۔ اللہ اور اس کا رسول اس سے بری ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ ابوعبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ سے کہا گیا: حسن بن سفیان حرملہ بن یحیی کے حوالے سے امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: اگر بروع بنت واشق والی حدیث صحیح ہوتی تو میں یہی موقف اپنا لیتا۔ یہ سن کر عبداللہ بولے: اگر میں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس ہوتا تو ان کے شاگردوں کے سامنے کھڑے ہو کر کہتا: میں کہتا ہوں کہ یہ حدیث صحیح ہے، لہٰذا آپ یہی موقف اپناؤ۔ امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے جو یہ شرط لگائی ہے کہ ” اگر یہ حدیث صحیح ہو “ اگرچہ یہ روایت صحیح ہے، کیونکہ اس میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے مذہب پر فتویٰ ہے۔ لیکن اس کی سند اشجع کی ایک جماعت سے منسوب ہے۔ اور ہمارے استاد ابوعبداللہ نے اس حدیث کے صحیح ہونے کا جو فیصلہ کیا ہے۔ (اس کی وجہ یہ ہے کہ) ثقہ راوی نے اس صحابی رسول کا نام ذکر کیا ہے۔ اور وہ معقل بن سنان اشجعی ہیں۔ اور درج ذیل حدیث ہماری حدیث کی صحت کی دلیل ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2772]
حدیث نمبر: 2772M
سمعتُ أبا عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وقيل له: سمعتَ الحسن بن سفيان يقول: سمعتُ حرملة بن يحيى يقول: سمعتُ الشافعي يقول: إن صحَّ حديث بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ قلتُ به. فقال أبو عبد الله: لو حضرتُ الشافعيَّ رضي الله عنه لقمتُ على رؤوس أصحابه، وقلتُ: فقد صحَّ الحديثُ، فقُلْ به. قال الحاكم: فالشافعي إنما قال: لو صحَّ الحديثُ، لأنَّ هذه الرواية وإن كانت صحيحةً فإنَّ الفتوى فيه لعبد الله بن مسعود، وسنَدُ الحديث لِنَفَر من أشجَعَ، وشيخُنا أبو عبد الله رحمه الله إنما حَكَمَ بصحّة الحديث لأنَّ الثقة قد سمَّى فيه رجلًا من الصحابة، وهو مَعقِلُ بن سِنان الأشجعي. وبصحة ما ذكرتُه:
میں نے ابوعبداللہ محمد بن یعقوب الحافظ کو سنا، ان سے کہا گیا کہ میں نے حسن بن سفیان کو یہ کہتے سنا کہ میں نے حرملہ بن یحییٰ سے سنا: امام شافعی فرماتے تھے کہ ”اگر بروع بنت واشق والی حدیث (جس میں شوہر کے انتقال کے بعد مہر مقرر نہ ہونے کی صورت میں مہرِ مثل کا ذکر ہے) صحیح ثابت ہو جائے تو میں بھی وہی کہوں گا جو اس حدیث میں ہے“۔ اس پر ابوعبداللہ نے فرمایا: ”اگر میں امام شافعی کے دور میں موجود ہوتا تو ان کے شاگردوں کے درمیان کھڑے ہو کر پکارتا کہ یہ حدیث تو صحیح ثابت ہو چکی ہے، لہٰذا اب آپ بھی یہی قول اختیار فرما لیں“۔ امام حاکم فرماتے ہیں: امام شافعی نے یہ (شرط) اس لیے لگائی تھی کہ اگرچہ یہ روایت درست تھی، مگر اس میں فتویٰ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تھا اور حدیث کی سند قبیلہ اشجع کے چند افراد پر مشتمل تھی۔ ہمارے شیخ ابوعبداللہ نے اس حدیث کی صحت کا حکم اس لیے لگایا کیونکہ ایک ثقہ راوی نے اس کی سند میں ایک صحابی کا نام واضح کر دیا ہے اور وہ معقل بن سنان اشجعی رضی اللہ عنہ ہیں، اور جو کچھ میں نے ذکر کیا ہے اس کی صحت کے بارے میں: [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2772M]
حدیث نمبر: 2773
أخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرحمن بن مَهدي، عن سفيان، عن فِراس، عن الشَّعبي، عن مسروق، عن عبد الله: في رجلٍ تزوّج امرأةً، فمات ولم يَدخُل بها، ولم يَفْرِض لها، فقال: لها الصَّداقُ كاملًا وعليها العِدّة، ولها الميراث، فقام مَعقِل بن سِنان فقال: شهدتُ رسولَ الله ﷺ قَضَى به في بَرْوَعَ بنتِ واشِقٍ (1) . فصار الحديث صحيحًا على شرط الشيخين.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2738 - على شرط البخاري ومسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2738 - على شرط البخاري ومسلم
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا گیا جس نے ایک عورت کے ساتھ نکاح کیا تھا اور ہمبستری سے پہلے انتقال کر گیا تھا۔ اور اس کا حق مہر بھی مقرر نہیں کیا تھا۔ تو انہوں نے جواباً فرمایا: اس کے لیے پورا مہر ہے اس پر عدت بھی لازم ہے۔ اور وہ وراثت کی حقدار بھی ہے۔ تو معقل بن سنان بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بروع بنت واشق کے متعلق بھی یہی فیصلہ کیا تھا۔ ٭٭ یہ حدیث بھی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح قرار پائی ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2773]