المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
33. صَدَاقُ النَّبِيِّ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ -
سیدنا رسول اللہ ﷺ کا مہر
حدیث نمبر: 2774
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب حدثنا الربيع بن سليمان المُرادي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني أسامة بن زيد، أنَّ صفوان بن سُليم حدّثه عن عُرْوة بن الزُّبَير، عن عائشة، أنها قالت: قال رسول الله ﷺ:"مِن يُمنِ المرأةِ أن يُتَيسَّرَ في خِطبتِها، وأن يَتَيَسَّر صَدَاقُها، وأن يَتَيسَّر رَحِمُها" (1) . قال عُرْوة: يعني يَتَيسَّر رحمُها للولادة. قال عُرْوة: وأنا أقول من عندي: من أول شُؤْمها أن يَكثُر صَداقُها.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2739 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2739 - على شرط مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کی نیک بختی میں سے یہ بھی ہے کہ اس کو آسانی سے پیغام نکاح ملے، اور اس کا حق مہر بھی آسان ہو اور اس کا رحم بھی آسان ہو۔ عروہ فرماتے ہیں یعنی ولادت کے لیے اس کو تکلیف زیادہ نہ ہو۔ عروہ فرماتے ہیں۔ اور (اس مقام پر) میں اپنی طرف سے یہی بھی کہنا چاہوں گا کہ عورت کی سب سے پہلی بدبختی یہ ہے کہ اس کا حق مہر بہت زیادہ ہو۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2774]
حدیث نمبر: 2775
أخبرني محمد بن المؤمَّل، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعْراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا يزيد بن الهَادِ، عن محمد بن إبراهيم، عن أبي سلمة، قال: سألتُ عائشةَ عن صَدَاقِ النبي ﷺ، قالت: ثنتا عشرة أُوقِيّةً ونَشٌّ، فقلت: ما نَشٌّ؟ قالت: نصفُ أُوقِيّة (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2740 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2740 - على شرط مسلم
سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، میں نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق مہر کے متعلق پوچھا (کہ کتنا تھا؟) تو انہوں نے فرمایا: 12 اوقیہ اور ایک ” نش “۔ میں نے پوچھا: نش کتنا ہوتا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آدھا اوقیہ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2775]