المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
43. حَقُّ الزَّوْجَةِ عَلَى الزَّوْجِ
شوہر پر بیوی کا حق
حدیث نمبر: 2800
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، عن الزُّهْري، عن عُبيد الله بن عبد الله، عن إياس بن عبد الله بن أبي ذُبَاب، قال: قال رسول الله ﷺ:"لا تَضرِبُوا إماءَ اللهِ". فجاء عمرُ إلى رسول الله ﷺ، فقال: يا رسول الله، ذَئِرنَ النساءُ على أزواجهنّ. فرَخَّص في ضَرْبهن، فأطافَ بآلِ رسول الله ﷺ نساءٌ كثيرٌ يَشكين أزواجَهُنَّ، فقال النبي ﷺ:"لقد طافَ بآلِ محمدٍ نساءٌ كثيرٌ يَشكين أزواجَهُنَّ، ليس أُولائك بخِيارِكم" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2765 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2765 - صحيح
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ایاس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ کی بندیوں کو مت مارا کرو، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بارگاہ نبوی میں حاضر ہو کر عرض کی: یا رسول اللہ! عورتیں اپنے شوہروں پر دلیر ہو گئی ہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو مارنے کی اجازت دے دی۔ تو بہت ساری عورتوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ سے اپنے شوہروں کی شکایات پہنچائی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بہت ساری خواتین نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہلِ خانہ کے پاس آ کر اپنے شوہروں کی شکایات کی ہیں وہ بھی کوئی بہت زیادہ نیکی کرنے والے نہیں ہیں۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2800]
حدیث نمبر: 2801
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن عبد الله بن عبد الحَكَم، أخبرنا ابن وهب، حدثني مُسلم بن خالد، عن موسى بن عُقبة، عن أمِّه، عن أم كُلْثوم بنت أبي سَلَمة، قالت: لما تزوج رسولُ الله ﷺ أمَّ سلَمة، قال لها:"إني أَهدَيتُ إلى النَّجَاشيِّ أَواقيَّ (1) من مِسكٍ وحُلَّةً، وإني لا أُراه إلا قد ماتَ، ولا أُرى الهديةَ التي أَهدَيتُ إليه إلّا سَتُردُّ، فإذا رُدَّت إليَّ فهو لكِ - أو لكم (2) -"، فكان كما قال، هَلَكَ النجَاشيُّ، فلما رُدّت إليه الهديةُ، أعطى كلَّ امرأةٍ من نسائه أوقيّةً من ذلك المِسك، وأعطى سائرَه أمَّ سلَمةَ وأعطاها الحُلَّة (3) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2766 - منكر ومسلم الزنجي ضعيف
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2766 - منكر ومسلم الزنجي ضعيف
سیدہ ام کلثوم بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ شادی کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: میں نے نجاشی کو چند اوقیہ مشک اور ایک جبہ تحفہ بھیجا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ وہ فوت ہو گیا ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ میں نے جو تحفہ اس کی طرف بھیجا ہے وہ واپس آ جائے گا۔ اگر وہ واپس آ گیا تو وہ تیرا ہے۔ تو حقیقت وہی تھی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، نجاشی فوت ہو گیا تھا، جب وہ تحفہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کو ایک ایک اوقیہ مشک دے دی اور جو باقی بچی وہ تمام اور جبہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو دے دیا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2801]
حدیث نمبر: 2802
أخبرنا الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا محمد بن عبد الوهاب الفرّاء، أخبرنا جعفر بن عَوْن، حدثنا ربيعة بن عثمان، عن محمد بن يحيى بن حَبّان، عن نَهار العَبْدي - وكان من أصحاب أبي سعيد الخُدْري - عن أبي سعيد الخُدْري، قال: جاء رجلٌ إلى النبيّ ﷺ بابنةٍ له، فقال: يا رسول الله، هذه ابنتي قد أبَتْ أن تَزَوَّجَ، فقال لها النبي ﷺ:"أَطِيعي أباكِ" فقالت: والذي بعثك بالحقّ لا أتزوَّجُ حتى تُخبرني ما حقُّ الزوج على زوجتِه، قال:"حقُّ الزوج على زوجته أن لو كانت به قُرْحةٌ فَلَحِسَتْها ما أدَّتْ حقَّه" (1) .
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2767 - بل منكر قال أبو حاتم ربيعة منكر الحديث
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2767 - بل منكر قال أبو حاتم ربيعة منكر الحديث
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ: ایک شخص اپنی بیٹی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میری بیٹی ہے اور یہ شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی سے فرمایا: اپنے باپ کی بات مانو، اس لڑکی نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر بھیجا ہے۔ میں شادی بعد میں کروں گی پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے بتایئے کہ بیوی پر شوہر کے کیا حقوق ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شوہر کا بیوی پر حق یہ ہے کہ اگر شوہر کے جسم پر زخم ہوں اور عورت اس کو زبان کے ساتھ چاٹے تب بھی اس کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 2802]