المستدرك على الصحيحين سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقيم الشرکۃ
عربی لفظ
اردو لفظ
6. وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ
ولدِ زنا تین میں بدترین ہے
حدیث نمبر: 2889
حدثنا أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا صالح بن محمد الحافظ، حدثنا أبو الربيع الزَّهْراني وعثمان بن أبي شَيْبة وزهير بن حَرْب، قالوا: حدثنا جَرير، عن سُهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"ولدُ الزنى شَرُّ الثلاثة". قال أبو هريرة: لأن أُمتِّعَ بسوطٍ في سبيل الله، أحبُّ إليَّ من أن أُعتق ولدَ زِنْيةٍ (2) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث أبي سلمة عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2853 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد من حديث أبي سلمة عن أبي هريرة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2853 - على شرط مسلم
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تین افراد کی برائی (کا نتیجہ) ہے۔ ٭٭ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں اللہ کی راہ میں ایک تسمہ خدمت کرنے کو، حرامی علام آزاد کرنے سے بہتر سمجھتا ہوں۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ سیدنا ابوسلمہ کی ابوہریرہ سے مروی درج ذیل حدیث مذکورہ حدیث کی شاہد ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2889]
حدیث نمبر: 2890
أخبرَناه أبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا أبو عَوَانة عن عُمر بن أبي سلَمة، عن أبيه، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله ﷺ:"ولدُ الزنى شرُّ الثلاثةِ" (1) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: زناء کی اولاد تین افراد کا شر ہے۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2890]
حدیث نمبر: 2891
فحدَّثَنا الشيخ أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا الحسن بن عُمر بن شَقيق، حدثنا سلمة بن الفَضْل، عن محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري، عن عُرْوة بن الزُّبَير، قال: بلغ عائشةَ أنَّ أبا هُريرة يقول: إنَّ رسول الله ﷺ قال:"لَأن أُمتِّعَ بسَوطي في سبيل الله، أحبُّ إليَّ مِن أن أُعتق ولدَ الزنى"، وإنَّ رسولَ الله ﷺ قال:"ولدُ الزنى شرُّ الثلاثة، وإنَّ الميتَ يُعذَّب ببُكاء الحيّ". فقالت عائشة: رَحِمَ الله أبا هريرة أساءَ سمعًا وأساء إجابةً: أما قوله:"لأن أُمتِّعَ بسَوطٍ في سبيل الله أحبُّ إليَّ من أن أُعتقَ ولدَ الزنى"، إنها لما نزلت ﴿فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ (11) وَمَا أَدْرَاكَ مَا الْعَقَبَةُ﴾ [البلد: 11، 12] ، قيل: يا رسول الله، ما عندنا ما نُعتِق إلّا أنَّ أحدَنا له الجاريةُ السوداء تخدُمه وتسعى عليه، فلو أمرناهُنّ فزنَين فجئن بأولادٍ فأعتقناهُم، فقال رسول الله ﷺ:"لَأن أُمتِّعَ بسَوطٍ في سبيل الله، أحبُّ إليَّ من أن آمُرَ بالزنى، ثم أُعتِقَ الولدَ". وأما قوله:"ولدُ الزّنى شرُّ الثلاثة" فلم يكنِ الحديثُ على هذا، إنما كان رجلٌ من المنافقين يؤذي رسولَ الله ﷺ، فقال:"من يَعذِرُني من فلان؟" قيل: يا رسول الله، إنه مع ما به ولدُ الزنى، فقال رسول الله ﷺ:"هو شرُّ الثلاثةِ"، والله ﷿ يقول: ﴿وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى﴾ [الإسراء: 15] . وأما قوله:"إن الميتَ ليُعذَّبُ ببُكاء الحيّ" فلم يكنِ الحديثُ على هذا، ولكن رسول الله ﷺ مرَّ بدارِ رجلٍ من اليهود قد مات وأهلُه يبكون عليه، فقال:"إنهم يَبكُون عليه، وإنه ليُعذَّبُ"، والله ﷿ يقول: ﴿لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴾ [البقرة: 286] (1) .
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2855 - سلمة لم يحتج به مسلم وقد وثق وضعفه ابن راهويه_x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، إِنَّمَا كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ؟» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَعَ مَا بِهِ وَلَدُ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ» وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] _x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ» ، فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ مَاتَ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ» ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: 286] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2855 - سلمة لم يحتج به مسلم وقد وثق وضعفه ابن راهويه_x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «وَلَدُ الزِّنَا شَرُّ الثَّلَاثَةِ» فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، إِنَّمَا كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُنَافِقِينَ، يُؤْذِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَنْ يَعْذِرُنِي مِنْ فُلَانٍ؟» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَعَ مَا بِهِ وَلَدُ زِنًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هُوَ شَرُّ الثَّلَاثَةِ» وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى} [الأنعام: 164] _x000D_ وَأَمَّا قَوْلُهُ: «إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ» ، فَلَمْ يَكُنِ الْحَدِيثُ عَلَى هَذَا، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ قَدْ مَاتَ، وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ: «إِنَّهُمْ يَبْكُونَ عَلَيْهِ، وَإِنَّهُ لَيُعَذَّبُ» ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ: {لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا} [البقرة: 286] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے نزدیک زنا کے بچہ کو آزاد کرنے کی بہ نسبت ایک تسمہ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا زیادہ بہتر ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زناء کی اولاد تین افراد کا شر ہے اور (یہ بھی فرمایا کہ) میت کو اس کے اہل خانہ کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ تعالیٰ ابوہریرہ پر رحم کرے، انہوں نے یہ حدیث شریف نہ تو صحیح طور پر سنی ہے اور نہ صحیح طور پر آگے پہنچائی ہے کیونکہ جو یہ بات ہے ” زنا کا بچہ آزاد کرنے کی بہ نسبت ایک تسمے کا اللہ کی راہ میں فائدہ دینا زیادہ بہتر ہے “ (اس کی تفصیل یہ ہے کہ) جب یہ آیت: (فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَۃَ وَمَا اَدْرَاکَ مَا الْعَقَبَۃُ) (البلد: 11,12) ” پھر بے تامل گھاٹی میں نہ کودا اور تو نے کیا جانا وہ گھاٹی کیا ہے “ نازل ہوئی تو عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہمارے پاس آزاد کرنے کے لیے کوئی چیز نہیں ہے، سوائے اس کے کہ کسی کے پاس ایک سیاہ رنگ کی لونڈی ہو جو کہ اس کی خدمت کرتی ہے اور اس کے ساتھ مزید کام کاج میں ہاتھ بٹاتی ہے اگر ہم ان کو حکم دیں اور وہ زنا کرا کے بچہ پیدا کرے تو ہم اس بچہ کو آزاد کر دیں (تو یہ کیسا رہے گا؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:” زنا کی اولاد آزاد کرنے کی بہ نسبت صرف ایک تسمے کا اللہ کی راہ میں فائدہ پہنچانا مجھے زیادہ پسندیدہ ہے “۔ اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے والا بچہ تین افراد کا شر ہے (تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ) اس کا مطلب وہ نہیں ہے (جو ابوہریرہ سمجھے ہیں بلکہ اصل مطلب یہ ہے کہ) ایک منافق شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دیا کرتا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے فلاں شخص سے کون بچائے گا؟ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زنا کے بچہ کا کیا قصور ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ تین افراد کا شر ہے اور اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: (وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرَی) ” اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی “۔ اور جہاں تک تعلق ہے اس بات کا کہ ” میت کو اس کے گھر والوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے “ تو حدیث کا اصل مطلب یہ نہیں ہے بلکہ (بات دراصل یہ ہے کہ) ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک یہودی کے گھر کے قریب سے گزرے۔ یہودی مر گیا تھا اور اس کے گھر والے اس پر رو رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں حالانکہ اس کو عذاب ہو رہا ہے اور اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے۔ (لَا یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَھَا) (البقرۃ: 286) ” اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر “۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے نقل نہیں کیا۔ [المستدرك على الصحيحين/كِتَابُ الْعِتْقِ/حدیث: 2891]